 | | | ہر آدمی اپنے مسئلے کی جھولی پسارے سپریم کورٹ کی دروازے پر انصاف کی بھیک مانگتا دکھائی دیتا ہے۔ |
پاکستان میں تاریخ نے اپنے سفر کا ایک عجیب انداز اختیار کیا ہے، چلتے چلتے رک جاتی ہے اور ایک طویل عرصے تک رکی رہتی ہے، یہاں تک کہ یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ بس اب اندھیرا ہی اندھیرا ہے لیکن چند برسوں کے بعد پھر اچانک اتنی تیزی سے چلنا شروع کردیتی ہے کہ اسکے ساتھ قدم ملا ئے رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اب جب چیف جسٹس صاحب کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا تو کون سوچ سکتا تھا کہ اس ملک میں ایک آزاد عدلیہ کی بھی جگہ ہے لیکن معلوم یہ ہوا کہ یہ اقدام بجائے خود عدلیہ کے وقار کی بلندی اور اسکی آزادی کا سبب بن گیا اور چیف جسٹس کی بحالی کے بعد سے اب تک جتنے اہم فیصلے سپریم کورٹ نے کئے ہیں اتنے شائدگزشتہ ساٹھ سال میں نہ ہوئے ہوں۔ لیکن ایک مشکل یہ بھی پیدا ہوگئی ہے کہ اب ہر آدمی اپنے مسئلے کی جھولی پسارے سپریم کورٹ کی دروازے پر انصاف کی بھیک مانگتا دکھائی دیتا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک جام ہو یا کسی مقامی جرگے کا فیصلہ لوگوں کی نظریں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سپریم کورٹ اور دوسری اعلیٰ عدالتوں پر بوجھ بہت بڑھ جائے گا اور وہ ان چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھ کر رہ جائیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ضلع اور تحصیل کی سطح پر بھی عدلیہ اور انتظامیہ کو موثر بنایا جائے تاکہ لوگ چھوٹے چھوٹے معاملا ت کے لئے آعلیٰ عدالتوں کا رخ کرنے کے بجائے ان سے رجوع کریں۔
 | | | شریف برادران کو بھی مزید یقین دہانیوں کے انتظار کے بجائے وقت کی پکار پر دھیان دینا چاہئے |
شریف خاندن کی وطن واپسی جناب نواز شریف اور انکے اہل خاندان کی جلاوطنی پر سے پابندی اٹھانے کا سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اسکا اگر حقیقی معنوں میں ہر فریق نے احترام کیا تو یقینی اس ملک کو سیاسی ابتری سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوگا، لیکن یہ کہتے ہوئے بھی ڈر ہی لگتا ہے، اس لئے کہ ماضی میں خود نواز شریف کی ایک حکومت کی برطرفی کے خلاف عدالتی فیصلے کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ غالباً1993 میں سپریم کورٹ نے جناب نواز شریف کی برطرف حکومت کی بحالی کا فیصلہ دیا تھا تو ممتاز قانون داں جناب فخرالدین جی ابراہیم نے بی بی سی سے ایک گفتگو میں بڑے وثوق سے کہا تھا کہ اب کوئی ایسی حکومت کو برطرف نہیں کرے گا جسے پارلیمان میں اکثریت حاصل ہو لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اسکے بعد بھی ایسی حکومتوں کو توڑا جاتا رہا جنہیں پارلیمان میں اکثریت حاصل تھی اور جنہیں توڑنے کا کوئی آئینی یا قانونی جواز نہیں تھا۔ یہ طے ہے کہ اس فیصلے سے شریف برادران کے سیاسی وقار میں اتنا ہی اضافہ ہوا ہے جتنا گزشتہ دنوں محترمہ بینظیر اور جنرل مشرف کی ملاقات کی خبروں سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوئی تھی۔ عام توقع تھی کہ عدالت کا فیصلہ آتے ہی شریف برادران وطن واپس روانہ ہوجائیں گے لیکن لگتا ہے کہ وہ ابھی تک اس فیصلے کے بارے میں سرکاری ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔سیاست میں اتنی احتیاط کی گنجائش ذرا کم ہوتی ہے، چوٹ اس وقت لگانی چاہیے جب لوہا گرم ہو۔ بقول لینن 17 اکتوبر سے پہلے انقلاب روس قبل از وقت ہوتا اور اسکے بعد دیر ہوجاتی۔
 | | | جناب مشرف ثابت کریں کہ ان میں کچھ لینے کے لئے کچھ دینے کی صلاحیت اب تک موجود ہے |
مصالحت کی پیش کش جنرل مشرف نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ملک وقوم کی خاطر سیاس مصالحت کی پیشکش کی ہے جو بڑی اچھی بات ہے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو اس پر غور بھی کرنا چاہئے لیکن میرا تجربہ ہے کہ پاکستان میں ہر اچھی بات تاخیر سے کی جاتی ہے۔ایوب خان اس وقت مصالحت پر تیار ہوئے جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ یحیٰ خان نے سابق مشرقی پاکستان کے قوم پرستوں سے اسوقت مذاکرات کی کوشش شروع کی جب وہ ان سے تنگ آکر علم بغاوت بلند کرچکے تھے۔ بھٹو صاحب کو حزب مخالف سے مصالحت کا خیال اسوقت آیا جب جنرل ضیا ء الحق اپنے لاؤلشکر کے ساتھ دروازے پر کھڑے کھٹکھٹا رہے تھے۔اگرچہ پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کو پرویز مشرف صاحب کی اس پیش کش کا مثبت جواب دینا چاہیے لیکن اب اس کے لئے ضروری ہے کہ جناب مشرف بھی یہ ثابت کریں کہ ان میں کچھ لینے کے لئے کچھ دینے کی صلاحیت اب تک موجود ہے۔  | | | روزانہ کوئی اٹھاون بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں |
خسرہ سے بچاؤ کی مہم پاکستان میں بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز گزشتہ دنوں ہوا جو پانچ مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔ پہلا مرحلہ مارچ میں مکمل کیا گیا تھا۔یہ مہم عالمی ادارہ اطفال، عالمی ادارہ صحت اور پاکستان کی وزارت صحت کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پاکستان میں جہاں مہنگائی، غربت اور بیروزگاری جیسے مسائل ہیں وہاں خسرہ جیسی بیماریاں بھی عام ہیں۔اس مہم کے کارپدازوں نے جو اعداد وشمار بتائے ان کے مطابق ہرسال پاکستان میں کوئی دس لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور بیس ہزار لقمۂ اجل بن جاتے ہیں اور ایک انداے کے مطابق روزانہ کوئی 58 بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ شمالی وزیرستان اب اموات کا ذکر آگیا ہے تو یہ بھے سنتے چلئے کہ شمالی وزیستان میں حفاظتی افواج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم کا سلسلہ جاری ہے۔
 | | | پاکستان کے عوام بالعموم اس لڑائی سے خوش نظر نہیں آتے |
سرکاری ترجمان کے مطابق اب تک ان جھڑپوں میں سرکاری افواج کا پلہ بھاری ہے لیکن پاکستان کے عوام بالعموم اس لڑائی سے خوش نظر نہیں آتے ۔ وہ لاشیں گنتے ہیں اور دکھی ہوتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ کس نے کس کو مارا۔ پرویز مشرف اور موجودہ حکومت سے انکی ناراضگی اور مایوسی کی ایک بڑی وجہ بھی انکی امریکی نواز خارجہ پالیسی اور یہ لڑائی ہے۔اب نواز شریف یا محترمہ بینظیر اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ سے دوری اختیار کر سکیں گے اور یہ لڑائی بند کراسکیں گے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس پر پاکستان کے ہر سیاسی رہنما کو جو پاکستانی عوام کی حمایت سے اقتدار میں آنا چاہتا ہے اسے اس مسئلے پر بڑی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
|