اعضاء کی تجارت، آرڈیننس کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ اعضاء کی تجارت کو روکنے کے لیے فوری طور پر آرڈیننس جاری کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعضاء کی تجارت میں ملوث افراد قانون سازی سے پہلے اس قانون کے مسودے کو سرد خانے کے حوالے کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ کراچی میں سنیچر کو ٹرانسپلانٹ سوسائٹی آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر ادیب رضوی نے پاکستان سوسائٹی آف نیفرولاجی اور پاکستان ایسوسی ایشن آف یورو لاجیکل سرجن کے رہنماؤں کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انیس سو نناوے سے لیکر دو ہزار چار تک چار مرتبہ اعضاء کی تجارت کو روکنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ کہاں آرڈیننس بننے والا تھا اور کہاں اسے اٹھا کر کہا گیا ہے کہ یہ اسمبلی میں جائے گا اور وہی اس کا فیصلہ کریگی جس کا مطلب یہ ہے کہ تین چار سال اور اس کا انتظار کریں‘ ۔ ان کے مطابق قانون سازی روکنے کا یہ ایک کامیاب ہتکنڈہ تھا، تین چار مرتبہ پہلے بھی اس طریقے سے بل سرد خانے کے حوالے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اراکین اسمبلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان لوگوں کی نااہلی کم تھی مگر ان لوگوں کی اہلیت زیادہ تھی جو اسے رکوانا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر ادیب رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت اعضاء کی سستی خریداری کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے اور اس کا دائرہ پوری دنیا میں وسیع ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی زمانے میں اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری بھارت میں ہوتی تھی اور تمام لوگ عمان سے بھارت جاتے تھے۔ جب بھارت نے اس پر پابندی عائد کی تو پھر یہ عراق منتقل ہوگیا اور جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو یہ تجارت پاکستان منتقل ہوگئی۔ اعضاء کی تجارت پر پابندی کے لیے بڑے عرصے سے کوشاں ڈاکٹر ادیب کا کہنا تھا کہ لاہور اور راولپنڈی کے ہسپتال دس ہزار ڈالر میں گردے کی پیوندکاری کا پیکیج فراہم کرتے ہیں اور انٹرنیٹ پر اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ جو سیدھا پاکستان نہیں آتے وہ بذریعہ دہلی یہاں آتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گردہ فروشوں میں اکثریت جبری مشقت کرنے والے لوگوں کی ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی کے مطابق گردہ فروخت کرنے کی کئی وجوہات ہیں جس کے مقامی اور بین الاقوامی اسباب ہیں۔ یہاں معاشی عدم توازن ہے ، تعلیم کی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آزاد ہے مگر عوام ابھی بھی غلام ہیں، قانونی کمزوریاں ہیں اور کچھ ڈاکروں نے بھی بہت گندہ کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اعضاء کی تجارت کی روک تھام کے لیے فوری طور پر آرڈیننس جاری کیا جائے جس کی بعد میں قانون سازی کی جائے۔ یاد رہے کہ حکومت نے شفائی اغراض کے لیے عضلات اور بافتوں (ٹشوز) کو تبدیل کرنے، ذخیرہ کرنے اور پیوندکاری کا انتظام وضع کرنے کا بل 2007 ایوان میں پیش کیا۔ تاہم بل پر ایوان میں غور کے لیے وقت کا تعین بعد میں ہوگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو اعضاء کی تجارت کو روکنے کے لیے فوری قانون سازی کے حکم کے چند دن بعد ہی وفاقی کابینہ نے ملک میں اس بابت پابندی کے ایک آرڈیننس کی منظوری دی تھی۔ |
اسی بارے میں اعضاء پیوندکاری، بل اسمبلی میں 17 August, 2007 | پاکستان اعضاء کی تجارت پر پابندی کا قانون01 August, 2007 | پاکستان ’اعضاء کی پیوند کاری کا قانون تیار‘31 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||