BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 June, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منافع بخش کاروبار یا مجبوری؟

محمد آصف
محمد آصف نے اپنا گردہ بیچ کر اپنی مالی مشکلات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی
لالہ موسٰی ریلوے سٹیشن کے ایک مرحوم قلی محمد نواز کا سات افراد پر مشتمل کنبہ اسلام آباد کے قریب ایک بھٹے پر مزدوری کرتا ہے۔

ان کا نوجوان بیٹا محمد آصف پاکستان کے ان سینکڑوں افراد میں شامل ہے جنہوں نے اپنے گردے بیچ کر مالی مشکلات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

سات، آٹھ سال قبل آبائی علاقے میں ایک جھگڑے کے بعد نواز کی بیوہ، دو بیٹیاں، بہو اور تین بیٹے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے۔ مرحوم نواز کے بیٹے آصف عرف عبدالمالک عرف ملا نے بی بی سی کو بتایا کہ بھٹہ مزدوری سے نجات پانے کے لئے اس نے اڑھائی ماہ قبل اپنا گردہ راولپنڈی میں گردوں کے علاج کے ایک نجی ہسپتال ’کڈنی سنٹر‘ پر بیچا تاہم حاصل ہونے والی رقم سے بھٹہ مالک کا قرضہ چکانے میں ناکام رہا۔ چھبیس سالہ آصف کا کہنا ہے کہ اس کا گردہ ایک عرب عورت کو لگایا گیا تھا۔

’ایک دن ڈاکٹر شاہد نے ہمارے بھٹے پر آ کر کہا کہ جو گردہ دے گا اسے ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ ملے گا۔ میں بھی کڈنی سنٹر چلا گیا جہاں ایک ہفتہ رکھنے کے بعد مجھے ایک لاکھ بارہ ہزار دیئے گئے اور آٹھ ہزار روپے ہسپتال کے کھانے کے کاٹ لیے گئے۔‘

آصف عرف ملا کے پاس ڈاکٹر شاہد کا کوئی فون نمبر یا پتہ نہیں ہے۔ کِڈنی سنٹر کے ایک ملازم نے اپنا نام بتائے بغیر بتایا کہ وہاں پر ’ کوئی ڈاکٹر شاہد کام نہیں کرتے۔‘

 ہیومن رائٹس والے کہیں سے پیسہ لے کر اخباروں میں گردہ چوری کے بیانات دیتے ہیں، یہ سب مفاد پرست ہیں۔استحصال کہاں نہیں ہوتا۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ بیچ رہا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل یا ٹیچر
کرنل ڈاکٹر حامد مختار
راولپنڈی میں آرمی ہاؤس سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلہ پر امراض گردہ کے لئے مخصوص کڈنی سنٹر ایک ریٹائرڈ کرنل ڈاکٹر حامد مختار چلا رہے ہیں۔ ان کے دو ڈاکٹر بیٹے ڈاکٹر زاہد مختار بخاری اور ڈاکٹر توصیف مختار بخاری بھی ان کے ہمراہ کڈنی سنٹر میں کام کرتے ہیں۔ صفائی ستھرائی کے حوالے سے اوسط درجے کے اس ہسپتال میں غیرملکی مریضوں کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے اور کڈنی سنٹر میں عموماً فون پر کوئی معلومات نہیں دی جاتیں۔

جون کے دوسرے ہفتے میں جب میں نے کڈنی سنٹر گیا تو وہاں موجود کچھ مریضوں کے تیماردار عزیزوں نے مجھے بتایا کہ وہ لیبیا، سعودی عرب، مالدیپ، ترکی، صومالیہ وغیرہ سے ہیں۔ تاہم کسی بھی فرد نے اپنے مریض کے علاج کے حوالے سے اس سے زیادہ کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا کہ ’علاج بہت اچھا تھا۔‘

پشاور کے رہائشی نوید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹھائیس مئی کو اس کو گردہ لگایا گیا جس پر اس کے ساڑھے چار لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ نوید کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد اسے ’ڈونر (عطیہ دینے والا) سے ملایا گیا۔‘

دوسری طرف آصف عرف ملا کا کہنا ہے کہ جب اس کا آپریشن ہونے والا تھا تو ایک عربی نے اس سے اپنی زبان میں بات کی اور ہاتھ ملا کر چلا گیا۔ ’نرس نے مجھے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں تمہارا شکریہ۔‘

 چوتھی صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی اور ڈاکٹر ہپوکریٹ کا ڈاکٹروں کے لئے حلف پرانا ہو چکا ہے۔ جسے سن انیس سو اڑتالیس میں جنیوا اور سن انیس سو اڑسٹھ میں آسٹریلیا میں ڈاکٹروں کی تنظیموں نے بدل دیا۔ نئے حلف کے مطابق آپ حالات کے مطابق لچک پیدا کر سکتے ہیں
کرنل ڈاکٹر حامد مختار
اسلام آباد کے علاقے لوئی بھیر اور ترلائی میں سو کے لگ بھگ بھٹے ہیں جہاں آصف کے مطابق ستر اسی لوگ مخیر مریضوں کو گردے بیچ چکے ہیں اور بے شمار تیار بیٹھے ہیں۔

پاکستان میں اعضاء کی خریدوفروخت پر پابندی کا قانون کابینہ سے پاس ہونے کے بعد پارلیمان سے منظوری کا منتظر ہے۔ تاہم کڈنی سنٹر کے مالک ڈاکٹر حامد مختار شاہ کا کہنا ہے کہ اس ’بل کی منظوری کا مطلب گردے کے مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہوگا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار شاہ نے کہا ’ہیومن رائٹس والے کہیں سے پیسہ لے کر اخباروں میں گردہ چوری کے بیانات دیتے ہیں، یہ سب مفاد پرست ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا ’استحصال کہاں نہیں ہوتا۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ بیچ رہا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل یا ٹیچر۔‘

گردوں کی خریدوفروخت کے اخلاقی طور پر جائز ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر حامد مختار نے کہا کہ چوتھی صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی اور ڈاکٹر ہپوکریٹ کا ڈاکٹروں کے لئے حلف پرانا ہو چکا ہے۔ جسے سن انیس سو اڑتالیس میں جنیوا اور سن انیس سو اڑسٹھ میں آسٹریلیا میں ڈاکٹروں کی تنظیموں نے بدل دیا۔ نئے حلف کے مطابق آپ حالات کے مطابق ’’لچک پیدا کر سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر حامد کے مطابق ’ہپوکریٹ نے کہا تھا ’فرسٹ ڈو نو ہارم (پہلے کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ) ،، یعنی گردہ نہ لو جبکہ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ زندگی اخلاقیات سے زیادہ اہم ہے۔‘

 سرجن اور ہسپتالوں کے مالک ڈاکٹر جس طرح ہر قاعدے قانون، اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر لوگوں کی مجبوریوں کا استحصال کرکے پیسے بنا رہے ہیں۔ یہ ہر لحاظ سے ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ
ان کا کہنا ہے کہ ’’قرآن بھی مجبوری میں شراب اور کتا کھانے کی اجازت دیتا ہے۔‘ ڈاکٹر حامد نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کے مڈل مین بھٹوں سے گردے کے عطیے کے لئے لوگ لاتے ہیں۔ تاہم کڈنی سنٹر میں رات ساڑھے گیارہ بجے بھی بھٹہ مزدور عورتیں اور مرد گھومتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

اعضاء کی خریدوفروخت کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر کرنل حامد مختار نے کہا کہ ’’اس سے غریب لوگ قرض اور غربت سے نکل سکتے ہیں۔‘

’پاکستان میں گزشتہ سال دو سو بہتر لوگوں نے غربت کی وجہ سے خودکشی کی اگر اعضاء کی خریدوفروخت کی اجازت ہوتی تو وہ بچ سکتے تھے۔‘

گزشتہ دنوں لاہور میں گردوں کی چوری کی الزام میں گرفتار ہونے والے ڈاکٹروں کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا ’آپ جھگڑا کر کے کسی کا گردہ ضائع کر دیں تو دیت اور قصاص کے قانون کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار دے کر چھوٹ سکتے ہیں جبکہ ڈاکٹر وہی گردہ پیسے دے کر لے لے اور کسی مریض کی جان بچا لے تو اسے سات سال قید ہو جاتی ہے۔ یہ سراسر غیرمنصفانہ ہے۔‘

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر شیر شاہ سید نے گردوں کی خریدوفروخت پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں میڈیکل کے شعبے کی ایسی بری صورتحال کبھی بھی نہیں تھی۔ ان کے مطابق ’سرجن اور ہسپتالوں کے مالک ڈاکٹر جس طرح ہر قاعدے قانون، اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر لوگوں کی مجبوریوں کا استحصال کرکے پیسے بنا رہے ہیں۔ یہ ہر لحاظ سے ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔‘

ڈاکٹر شاہ سید نے کہا کہ دوسرے شعبوں کی طرح ڈاکٹر بھی اپنے پیشے سے مخلص نہیں رہے۔ ان کے مطابق بڑے بڑے پروفیسروں میں سے جونیئر ڈاکٹروں کے لئے شاید ہی کوئی رول ماڈل ملے۔ ڈاکٹر شاہ سید نے کہا کہ ’سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات نہیں اور لاکھوں کے غبن ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔‘ ان کے مطابق ’ڈاکٹر کوٹھیوں اور گاڑیوں کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اور ہر پیشہ وارانہ اخلاقی تقاضے کو نظرانداز کر رہے ہیں۔‘

غیرملکی مریضوں کی کثرت کے حوالے سے ڈاکٹر حامد مختار نے بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کا حلف تقاضا کرتا ہے کہ وہ مذہب، سیاست، رنگ، نسل کی تمیز سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کریں۔ ان کے مطابق دنیا کے کسی بھی حصے سے آنے والا ان کے لئے صرف مریض ہے۔

ڈاکٹر حامدمختار کے بقول وہ غیرملکی مریضوں سے تیرہ ہزار ڈالر اور پاکستانیوں سے صرف پانچ لاکھ لیتے ہیں جس میں سب کچھ شامل ہے۔ تاہم ہسپتال کے شعبہ حساب کتاب (اکاؤنٹس) کے انچارج محمد قیوم نے کچھ پس و پیش کے بعد اور ’مریض‘ کی قومیت جاننے کے بعد گردے کی پیوندکاری کا خرچہ پانچ لاکھ پچپن ہزار روپے بتایا۔ ’اس میں کھانے کے پیسے شامل نہیں تاہم گردے کی قیمت شامل ہے۔‘ قیوم نے کہا۔

گفتگو کے دوران ایک مرحلے پر ڈاکٹر حامد مختار نے کہا کہ وہ غیرملکی مریضوں کی تعداد پانچ فیصد سے بڑھنے نہیں دیتے۔ ایک دوسرے مرحلے پر انہوں نے کہا کہ ’وہ کبھی بھی کسی ہندو کو مسلمان کا گردہ نہیں لگائیں گے کیونکہ مسلمان کا گردہ ایمان والا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر حامد مختار کے دعوے کے باوجود کہ گردے دینے سے غربت اور قرض کا بوجھ کم ہوتا ہے ترلائی اور لوئی بھیر میں بھٹوں پر متعدد افراد گردے دے کر بھی قرض اور مرض کے جال میں دھنستے جا رہے ہیں۔

پنجاب کی غریب عورتیںقرضہ اور گردہ
قرضے سے تنگ آ کر گردہ بیچا تھا: نذیراں بی بی
گردہ چور
کراچی میں مبینہ ’گردہ چور‘ ڈاکٹر گرفتار
گردوں کا پیکٹگردوں کیلیے زبردستی
لاہور میں چار ڈاکٹروں سمیت کئی گرفتار
گردہ5 منٹ میں 20 آدمی
گردہ بیچنے والے تو کئی ہیں پر خریدار کون ہیں؟
گردہ بیچنے والا خاندانگردہ دو اور پیسہ لو
مریض زیادہ، گردے کم۔ عارف شمیم کی رپورٹ
گردہڈاکٹر اور ڈونر
’مریض ساتھ تھا لیکن پیسے ڈاکٹر سے ملے تھے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد