مبینہ ’گردہ چور‘ ڈاکٹر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے ایک غریب دکاندار کے آپریشن کے دوران گردہ چوری کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا ہے۔ گلستان جوہر کے رہائشی محمد کاشف کو کچھ عرصے سے پیٹ میں تکلیف تھی۔ میڈیکل رپورٹوں میں معلوم ہوا کہ اسے پتے میں پتھری ہے۔ محمد کاشف کے بھائی ثاقب نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے بھائی کو میڈی کامپلیکس کے ڈاکٹر کاشف متین نے بتایا تھا کہ پتے کا آپریشن کیا جائے گا جس کے بعد یہ تکلیف ختم ہوجائے گی۔ ثاقب نے بتایا ’کاشف کا میڈی کامپلیکس میں آپریشن کیا گیا جو نوے منٹ تک جاری رہا ڈاکٹر نے انہیں پانچ دن ہسپتال میں رکھا اور پھر فارغ کردیا ثاقب کے مطابق ڈاکٹر کی دوائی جاری رہی مگر تکلیف کی شدت میں کوئی کمی نہ ہوئی، ’جس کے بعد کچھ لوگوں کے مشورے پر ہم نے دوسرے ڈاکٹر سے معائنہ کروایا۔ الٹرا ساؤنڈ سے پتہ چلا کہ دائیں طرف کا گردہ موجود ہی نہیں ہے جبکہ پتہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم ڈاکٹر کاشف متین سے ملنے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ نہ ملے جس کے بعد ہم نے ان کے خلاف گردے کی چوری کا مقدمہ دائر کروایا ہے۔ دو بچوں کے باپ محمد کاشف کی طبیعت اب بھی خراب ہے اور ڈاکٹر نے انہیں پتے کے آپریشن کا مشورہ دیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے بستر پر ہونے کی وجہ سے ان کی دکان بند ہے اور وہ پریشانی اور بیماری دونوں کا شکار ہیں۔ تیموریہ پولیس نے ڈاکٹر کاشف متین کو گرفتار کرلیا ہے تحقیقاتی افسر کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے۔ دوسری جانب محکمہ صحت کے صوبائی وزیر نے گردہ چوری کی تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں ماہر ڈاکٹر اور محکمہ صحت کے حکام شامل ہوں گے۔ | اسی بارے میں گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان مریض زیادہ ہیں اور گردے کم09 December, 2004 | پاکستان ’کوئی انہیں مجبور نہیں کرتا‘11 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||