گردے زبردستی نکالنے والا گروہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر لاہور کی ایک عدالت نے ان چار ڈاکٹروں کو جیل بھجوادیا ہے جنہیں پولیس نے انسانی گردے زبردستی نکال کر فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس ’گردہ سکینڈل‘ میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے اور پولیس کے ایک افسرکے مطابق اب تک کم ازکم گیارہ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ لاہور کے ایڈیشنل آئی جی ملک اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو یہ اطلاعات تو کافی عرصے سے مل رہی تھیں کہ شہر میں کوئی ایک ایسا گروہ سرگرم ہے جو غریب لوگوں کے جسم سے گردے نکال کر فروخت کرتا ہے تاہم جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایک ایسے شخص محمد عارف نے پولیس سے رابطہ کیا جو اس گروہ کی قید سے فرار ہوکر آیا تھا۔ محمد عارف کی نشاندہی پر پولیس نے لاہور کے علاقے لیاقت آباد کے ایک مکان پرچھاپہ مارا تو اس مکان سے ایک عورت سمیت دس متاثرہ افراد بازیاب ہوئے۔ محمد عارف پندرہ روز تک ان کی قید میں رہنے کے بعد فرار ہوا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ ’یہ تمام انتہائی غریب لوگ تھے جنہیں ان کی مرضی کے خلاف قید رکھا گیا تھا۔ ان میں سے چھ ایسے تھے جن کے گردے نکالے جاچکے تھے جبکہ پولیس کے مطابق باقیوں کے گردے آپریشن کے ذریعے ابھی نکالے جانے تھے‘۔
پولیس نےاس مکان پر تعینات چوکیداروں کو حراست میں لینے کے بعد ان تین نجی ہپستالوں پر چھاپہ مارا جہاں پرغریب محنت کشوں کے گردے مبینہ طور پر زبردستی نکالے جاتے تھے۔ ان ہسپتالوں کے چار ڈاکٹروں بھی گرفتار کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزموں نے متاثرہ افراد کو فی کس پچاس سے ساٹھ ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا لیکن کس ایک کو بھی ادائیگی نہیں کی جب کہ ’گردہ سکینڈل‘ میں ملوث یہ گروہ ضرورت مند مریضوں کو یہی گردہ ڈھائی سے چھ لاکھ روپے میں فروخت کرتا تھا اور غیرملکیوں کے لیے اس کی قیمت دس لاکھ روپے سے تجاوز کرجاتی تھی۔ بازیاب ہونے والے چھتیس سالہ محنت کش منیر نے پولیس کو بیان دیا کہ ’اسے ایک شخص نوکری کا جھانسہ دے کر اس مکان میں لایا پھر اسے چند انجکشن دیکر بے ہوش کیا گیا اور جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک ہسپتال میں تھا اور اس کا ایک گردہ اس کی مرضی کے خلاف نکالا جا چکا تھا‘۔ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ متاثرہ افراد کا گردہ نکالے جانے کے بعد مناسب علاج بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ بازیاب ہونے والے دوافراد کی حالت نازک ہے جنہیں ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے انسانی اعضاء کی خرید و فروخت پر پابندی کا قانون لانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ بل ابھی پارلیمان سے منظوری کا منتظر ہے۔ |
اسی بارے میں ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||