BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 July, 2006, 15:01 GMT 20:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچوں کاقتل: پولیس اہلکارگرفتار

سپریم کورٹ نے ماں کے خط پر تحقیقات کا حکم دیا
شیخوپورہ پولیس نے ایک انسپکٹر سمیت ان دو اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے پوسٹ مارٹم ہوجانے کے باوجود گاؤں مانانوالہ کے ایک بچے کے قتل کا مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔


پولیس کے خلاف یہ کارروائی مقتول بچے کی بیوہ ماں ممتاز بی بی کے اس خط پر شروع ہوئی جو انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھا تھا اور چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے کر اس خط کو درخواست میں تبدیل کر دیا۔

اب سپریم کورٹ کا فل بنچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ گرفتار اہلکاروں کے خلاف پولیس آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرکے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ لیاگیا۔

گرفتاروں کا ریمانڈ
 سپریم کورٹ کا فل بنچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ گرفتار اہلکاروں کے خلاف پولیس آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کرکے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ لیاگیا

خاتون نے اپنے بٹیے کے قتل پر پولیس کی کارروائی نہ ہونے کا شکایت تو کی ہی ہے ساتھ ہی ساتھ اپنے خط میں انہوں نے علاقے کے آٹھ دیگر بچوں کے نام درج کیے ہیں اور کہا کہ ان تمام کو مبینہ طور پر اغواء کرکے قتل کیا گیا۔

خط میں خاتون نے بچوں کے اغواء کا مقصد ان کے جسمانی اعضا گردے اور دل نکال کر فروخت کرنا بیان کیا۔

شیخوپورہ پولیس ایک ملزم شہزاد سے ان وارداتوں کی تفتیش کر رہی ہے۔

یہ ملزم لاہور کے ایک بچے کے اغواء کے مقدمے میں گرفتار تھا اور پولیس نے اسے لاہور کی جیل لا کر جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لیا۔

عدالتی ریکارڈ میں ملزم شہزاد کا لاہور کی پولیس کو دیا گیا وہ بیان بھی شامل ہے جس کے مطابق ملزم شہزاد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے پچیس لڑکوں کے جسمانی اعضا فروخت کرنے کی خاطر انہیں اغواء کرکے قتل کیا۔

پچیس بچوں کے اغوا کا اعتراف
 ملزم شہزاد کا لاہور کی پولیس کو دیا گیا وہ بیان بھی شامل ہے جس کے مطابق ملزم شہزاد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے پچیس لڑکوں کے جسمانی اعضا فروخت کرنے کی خاطر انہیں اغواء کرکے قتل کیا

شیخوپور کے ضلعی پولیس افسر نے پچیس افراد کی ہلاکت کے واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ملزم نے شیخوپورہ پولیس کو ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کو اگر ملزم شہزاد نے کوئی بیان دیا تھا تو وہ ابھی شیخوپورہ پولیس تک نہیں پہنچا البتہ ایس ایس پی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملزم کے خلاف شیخوپورہ میں نوعمر لڑکوں کے قتل کے کم از کم دو مقدمات درج ہیں جب کہ ایک تیسرے قتل کے مقدمے میں وہ پہلے سے لاہور کی جیل میں تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں چند سال پہلے سو بچوں کے قتل کا پولیس کو وقت علم ہوا تھا جب بچوں کے مبینہ قاتل جاوید اقبال نے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا تھا۔

اب شیخوپورہ کے تازہ واقعہ پر تفتیش جاری ہے اور دو ہفتے کے بعد جب یہ پولیس رپورٹ سپریم کورٹ کے روبرو پیش کی جائے گی تو تب ہی پتہ چل سکے گا کہ پچیس افراد کے قتل کا معاملہ کیا رخ اختیار کرے گا۔

اسی بارے میں
گردہ کدھر گیا؟
29 June, 2006 | پاکستان
مریض زیادہ ہیں اور گردے کم
09 December, 2004 | پاکستان
’گیارہ بگٹی مخالف اغوا‘
27 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد