BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 21:53 GMT 02:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماں کا خط، سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ نے ماں کے خط پر تحقیقات کا حکم دیا
سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب کے ایک گاؤں سے پچیس بچوں کے میبینہ اغوا اور قتل کے واقعات کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور پولیس نے بچوں کے اغوا میں ملوث ایک ملزم کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس مقدمے کی سماعت ضلع شیخوپورہ کے علاقے مانانوالہ کی خاتون ممتاز بی بی کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو لکھے ایک خط پر شروع کی تھی۔ اس خط میں خاتون نے کہا ہے کہ ان کے کم عمر بیٹے سعید احمد کو اغوا کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

خاتون نے اپنے خط میں علاقے سے غائب آٹھ دیگر بچوں کے نام بھی دیے اور کہا کہ ان تمام کو مبینہ طور پر اغوا کرکے قتل کیا گیا۔انہوں نے بچوں کے اغوا کا مقصد ان کے جسمانی اعضاء گردے اور دل نکال کر فروخت بیان کیا۔

انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ان کے بیٹے کو قتل ہوئے ڈھائی سال ہوگئے لیکن پولیس نے مقدمہ درج کیا اور نہ ہی نامزد ملزم کے خلاف کارروائی کی۔ چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیکر اس خط کو درخواست میں تبدیل کیا اور شیخوپورہ پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی۔

پولیس نے ڈھائی سال کی تاخیر کے بعد ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جمعرات کو اس نئے مقدمہ سے متعلق ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا۔

اس ریکارڈ میں ملزم شہزاد کا وہ بیان بھی شامل تھا جو پولیس کی حالیہ تفتیش میں قلمبند کیا گیا۔ اس بیان کے مطابق ملزم شہزاد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے پچیس لڑکوں کے جسمانی اعضا فروخت کرنے کی خاطر انہیں اغوا کرکے قتل کیا۔

پولیس نے عدالت کو اس بات سے بھی آگاہ کیا کہ ملزم لاہور سے ایک بچے کے اغوا کے مقدمے میں پہلے سے گرفتار تھا اور پولیس نے اسے جیل لاکر جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لیا ہے جہاں اس نے مبینہ طور پر مذکورہ بیان میں پچیس بچوں کے اغوا کا انکشاف کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ڈھائی سال پہلے اتنا بڑا واقعہ ہوا اور پولیس نے نوٹس تک نہیں لیا اور اب اتنی تاخیر سے مقدمہ درج کیا گیا ہے کہ طبی شواہد ضائع ہوچکے ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ کیس خراب ہونے کی ذمہ داری پولیس پر ہے۔

سپریم کورٹ نے شیخوپور کے ضلعی پولیس افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ پندرہ یوم کے اندر اس معاملے کی تفتیش مکمل کرکے عدالت میں پیش کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس سے پہلے سو بچوں کے قتل کا ایک سکینڈل اس وقت سامنے آیا تھا جب بچوں کے مبینہ قاتل جاوید اقبال نے خود پولیس کو اس کی اطلاع دی تھی۔ جاوید اقبال بعد میں جیل میں پراسرار حالات میں ہلاک ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں
گردہ کدھر گیا؟
29 June, 2006 | پاکستان
مریض زیادہ ہیں اور گردے کم
09 December, 2004 | پاکستان
’گیارہ بگٹی مخالف اغوا‘
27 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد