’حکومت کارکنوں کے اغوا میں ملوث‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تیل، قدرتی گیس اور مدنیات کے شعبے سے منسلک کارکنوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ سوئی میں گیس فیلڈ پر کام کرنے والے ایک درجن سے زائد ملازمین کے اغوا میں ملوث ہے۔ آل پاکستان آئل، گیس اینڈ منرل لیبر فیڈریشن نے یہ الزام پشاور میں پیر کے روز منعقد ایک اخباری کانفرنس میں لگایا۔ فیڈریشن کے چیئرمین ذوالفقار افغانی کا کہنا تھا کہ سوئی میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان پٹرولیم لیمیٹڈ کی یونین کے تقریباً بیس افراد کو حکومت نے اغوا کرایا تھا۔ ذوالفقار افغانی کے بقول ان میں سے دو تین کو رہا کر دیا گیا لیکن اتنا مار پیٹ کر کہ وہ اب بات کرنے اور چلنے پھرنے کے بھی لائق نہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے مطالبہ کیا کہ وہ پی پی ایل کے اغوا شدہ عہدیداروں کو جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں بازیاب کرانے کے لیئے ضروری اقدامات کریں۔ سوئی سدرن، سوئی ناردرن، اوجی ڈی سی ایل، پی ایس او، این آر ایل، پارکو، پی پی ایل، شیل اور اٹک ریفائنری جیسے بڑے اداروں کے تقریباً چالیس ہزار ملازمین کی نمائندہ فیڈریشن نے یہ اخباری کانفرنس پشاور میں ایک اجلاس کے بعد کی جس کا اصل مقصد ان اداروں کی نجکاری کی مخالفت کا اعلان کرنا تھا۔ ان ملازمین کا موقف تھا کہ ان منافع بخش اداروں کو فروخت کرنے سے ملک میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام متحد ہی اور اس نجکاری کی شدید مخالفت کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’سوئی کا محاصرہ ختم کیا جائے‘18 January, 2005 | پاکستان سوئی کے کئی علاقوں پرگولہ باری14 June, 2006 | پاکستان سوئی آپریشن، متعدد ہلاک14 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||