BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 June, 2006, 04:42 GMT 09:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گردہ کدھر گیا؟

امین اللہ اس سارے معاملے پر بہت پریشان ہے
صوبہ سرحد میں ایک گیارہ سالہ لڑکے کا ’لاپتہ گردہ‘ ایک معمہ بن گیا ہے۔ لڑکے کے رشتہ دار ایک ڈاکٹر پر اسے نکال کر فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ ہسپتال کے لوگ اسے ’بےہودہ‘ بہتان قرار دے رہے ہیں۔

پشاور کے مضافات میں اچینی پایاں کے رہائشی زیارت گل پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب اپنے بیٹے کی الٹراساونڈ ٹیسٹ رپورٹ سے اسے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے چند روز پہلے ایک آپریشن میں اس کے گیارہ سالہ برخوردار امین اللہ کا گردہ ہی نکال دیا ہے۔

پیشے کے اعتبار سے باورچی اور ان پڑھ زیارت گل نے واویلا شروع کر دیا اور ڈاکٹروں پر الزام لگانے لگا کہ انہوں نے اس کا گردہ نکال کر فروخت کر دیا ہے۔ اس کی فریاد مقامی اخبارات نے بھی شہ سرخیوں میں شائع کی اور پولیس نے اس کے کہنے پر ڈاکٹر کے خلاف رپورٹ بھی درج کر لی۔

رپورٹ میں والد نے الزام لگایا کہ وہ امین اللہ کو پیٹ میں تکلیف کے لیئے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر گوہر علی کے پاس لے گیا۔ معائنہ کے بعد ڈاکٹر نے بچے کو ان کے نجی کلینک میں طلب کرکے بھاری رقم کے عوض اس کا آپریشن کر دیا۔ چند روز بعد طعبیت دوبارہ ناساز ہونے پر جب الٹرا ساونڈ کرایا تو زیارت گل کا دعویٰ ہے اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے بیٹے کا ایک گردہ ہی غائب ہے۔

ہسپتال میں اپنے بیٹے کے سرہانے بیٹھے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زیارت گل نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں نے آپریشن سے پہلے ان سے کسی قسم کی اجازت نہیں مانگی تھی۔

زیارت گل کا دعویٰ ہے کہ اس کے بیٹے کا ایک گردہ چوری کر لیا گیاہے
’اگر وہ مجھ سے اجازت مانگتے تو میں پہلے اپنے بڑے بوڑھوں سے مشورہ کرتا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ مجھ سے اس بارے میں انہوں نے کوئی دستخط بھی نہیں لیئے۔‘

زیارت گل نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں نے ان سے علاج کے تمام کاغذات بھی رکھ لیئے اور انہیں ریکارڈ کے لیئے کچھ بھی نہیں دیا۔ ’اس پریشانی میں میرے پچاس ساٹھ ہزار روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ اب میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔‘

’میں کچھ نہیں مانگتا۔ مجھے اور کوئی فکر نہیں بس میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے کی جان بچ جائے۔ میں نے ڈاکٹر کو بتا دیا ہے کہ تم نے مرغی کے بچے کو حلال نہیں کیا میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔‘

ہسپتال کے بستر پر لیٹا امین اللہ بھی پریشان ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے اس کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ ’مجھے تکلیف ہے میں چاہتا ہوں کہ میں جلد از جلد ٹھیک ہوجاؤں اور اپنے مدرسے جا سکوں۔‘

زیارت گل کے گلی محلے کے لوگ اور رشتہ داروں کا ایک مجمع ہسپتال میں موجود ہے۔ علاقے کے نائب ناظم محمد اسرار آفریدی کا کہنا ہے ڈاکٹر نے ظلم کیا ہے۔ ’وہ اب انہیں لوگوں کے ذریعے لاکھوں کی پیشکش کر رہا ہے تاکہ یہ رپورٹ درج نہ کرائیں۔‘

وضاحت
 کڈنی فروخت کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں کہ ایک سے اتاری اور دوسرے کو لگا دی۔ پہلے ٹیسٹ ہوتے ہیں کہ لینے والے شخص کے لیئے وہ موزوں ہے یا نہیں۔ مگر ہمارے اخبارات نے ایسی سرخیاں لگائیں کہ جیسے یہ منٹوں کا کھیل ہے
ہسپتال کے منتظم صفدر شاہ
حقوق انسانی کی ایک تنظیم کا کارکن دیار خان بھی اس مجمع میں شامل تھے۔ وہ بات کو کچھ اور آگے لے گئے۔ ’دراصل یہ ایک زیادتی تھی جو سامنے آئی ہے مگر ایسی ہزاروں زیادتیاں ہیں جو سامنے نہیں آتیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں حکومت سے کے اس کڈنی مافیا کے خلاف کارروائی کرے۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ میں اس یک طرفہ مہم کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے بھی بغیر حقائق جانے یا تحقیق کے اس لڑکے کو طلب کر کے دو لاکھ روپے کا چیک فوراً تھما دیا۔ وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے ڈاکٹر گوہر علی کی گرفتاری کے احکامات جاری کیئے۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور الزامات ثابت ہونے پر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ ڈاکٹر نے درایں اثنا عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔

یہ تو تھا تصور کا میڈیا میں آنے والا ایک رخ۔ دوسرا موقف ابھی تک سامنے نہیں آسکا ہے اور مقامی اخبارات کے کسی صحافی نے شاید جاننے کی کوشش بھی نہیں کی یا انہیں متعلقہ ڈاکٹر مل نہیں سکے۔

ڈاکٹر گوہر علی سے ملاقات کی آس میں اس نجی ہسپتال میں پہنچے جہاں وہ پریکٹس کرتے ہیں۔ ان سے تو ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کے ساتھی ڈاکٹر ضرور ملے جو میڈیا میں یک طرفہ کوریج پر سیخ پا دکھائی دیتے تھے۔

 میں کچھ نہیں مانگتا۔ مجھے اور کوئی فکر نہیں بس میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے کی جان بچ جائے۔ میں نے ڈاکٹر کو بتا دیا ہے کہ تم نے مرغی کے بچے کو حلال نہیں کیا میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں
امین اللہ کے والد زیارت گل
ہسپتال کے منتظم صفدر شاہ نے بتایا کہ پینتالیس سالہ ڈاکٹر گوہر پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ڈاکٹر گوہر ایم بی بی ایس کے علاوہ ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس کی ڈگریاں بھی رکھتے ہیں۔ ’کوئی کیسے چند لاکھ روپوں کی خاطر اپنا پچیس تیس سال کا کیریئر داو پر لگا سکتا ہے؟‘

صفدر شاہ نے بتایا کہ ڈاکٹر گوہر اس نجی ہسپتال میں صرف پریکٹس کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس لڑکے کی رپورٹوں کے مطابق اس کا ایک گردہ پہلے سے مردہ تھا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ہوسکتا ہے آپریشن کے دوران ڈاکٹر نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہٹا دیا۔ یہ کوئی غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کے تعین کے لیئے طریقہ کار موجود ہے۔ ’طبی عملے سے غلطیاں مغرب میں بھی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر گوہر ہسپتال کے لان میں نماز ادا کر رہے تھے کہ مریض کے لواحقین نے ان سے اصرار کیا کہ آپ اچھے انسان ہیں آپریشن آپ ہی کریں گے۔ ’اس پر ڈاکٹر صاحب نے ہمدردی دکھاتے ہوئے ان لوگوں سے معمول کے پچیس تیس ہزار نہیں بلکہ صرف پانچ ہزار لینے کا فیصلہ کیا۔ اس ہمدردی کا انہیں یہ صلہ ملا ہے کہ وہ آج انتہائی کرب سے گزر رہے ہیں۔‘

’کڈنی فروخت کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں کہ ایک سے اتاری اور دوسرے کو لگا دی۔ پہلے ٹیسٹ ہوتے ہیں کہ لینے والے شخص کے لیئے وہ موزوں ہے یا نہیں۔ مگر ہمارے اخبارات نے ایسی سرخیاں لگائیں کہ جیسے یہ منٹوں کا کھیل ہے۔‘

ڈاکٹر گوہر کے ساتھیوں کا ماننا ہے کہ ان سے بھی ذرائع ابلاغ میں اپنا موقف نہ دینے سے معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کے کئی روز بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ کہ اگر ان کے خلاف الزامات ثابت ہو جائیں تو وہ پھانسی چڑھنے اور مریض کو دس کڑوڑ روپے دینے کو تیار ہیں۔

طبی معاملات میں مکمل تحقیق کے بغیر کوئی رائے قائم کرنا کسی کو غلط بیانی کا مرتکب کرسکتی ہے۔ لہذا اس معاملے میں بھی مکمل تحقیق کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک بات واضع ہے کہ فریقین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔

اسی بارے میں
’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘
15 November, 2004 | پاکستان
مریض زیادہ ہیں اور گردے کم
09 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد