گردہ کدھر گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں ایک گیارہ سالہ لڑکے کا ’لاپتہ گردہ‘ ایک معمہ بن گیا ہے۔ لڑکے کے رشتہ دار ایک ڈاکٹر پر اسے نکال کر فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہیں جبکہ ہسپتال کے لوگ اسے ’بےہودہ‘ بہتان قرار دے رہے ہیں۔ پشاور کے مضافات میں اچینی پایاں کے رہائشی زیارت گل پر اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب اپنے بیٹے کی الٹراساونڈ ٹیسٹ رپورٹ سے اسے معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے چند روز پہلے ایک آپریشن میں اس کے گیارہ سالہ برخوردار امین اللہ کا گردہ ہی نکال دیا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے باورچی اور ان پڑھ زیارت گل نے واویلا شروع کر دیا اور ڈاکٹروں پر الزام لگانے لگا کہ انہوں نے اس کا گردہ نکال کر فروخت کر دیا ہے۔ اس کی فریاد مقامی اخبارات نے بھی شہ سرخیوں میں شائع کی اور پولیس نے اس کے کہنے پر ڈاکٹر کے خلاف رپورٹ بھی درج کر لی۔ رپورٹ میں والد نے الزام لگایا کہ وہ امین اللہ کو پیٹ میں تکلیف کے لیئے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر گوہر علی کے پاس لے گیا۔ معائنہ کے بعد ڈاکٹر نے بچے کو ان کے نجی کلینک میں طلب کرکے بھاری رقم کے عوض اس کا آپریشن کر دیا۔ چند روز بعد طعبیت دوبارہ ناساز ہونے پر جب الٹرا ساونڈ کرایا تو زیارت گل کا دعویٰ ہے اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے بیٹے کا ایک گردہ ہی غائب ہے۔ ہسپتال میں اپنے بیٹے کے سرہانے بیٹھے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زیارت گل نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں نے آپریشن سے پہلے ان سے کسی قسم کی اجازت نہیں مانگی تھی۔
زیارت گل نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں نے ان سے علاج کے تمام کاغذات بھی رکھ لیئے اور انہیں ریکارڈ کے لیئے کچھ بھی نہیں دیا۔ ’اس پریشانی میں میرے پچاس ساٹھ ہزار روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ اب میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔‘ ’میں کچھ نہیں مانگتا۔ مجھے اور کوئی فکر نہیں بس میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے کی جان بچ جائے۔ میں نے ڈاکٹر کو بتا دیا ہے کہ تم نے مرغی کے بچے کو حلال نہیں کیا میرے بیٹے کو تکلیف دی ہے میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔‘ ہسپتال کے بستر پر لیٹا امین اللہ بھی پریشان ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے اس کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔ ’مجھے تکلیف ہے میں چاہتا ہوں کہ میں جلد از جلد ٹھیک ہوجاؤں اور اپنے مدرسے جا سکوں۔‘ زیارت گل کے گلی محلے کے لوگ اور رشتہ داروں کا ایک مجمع ہسپتال میں موجود ہے۔ علاقے کے نائب ناظم محمد اسرار آفریدی کا کہنا ہے ڈاکٹر نے ظلم کیا ہے۔ ’وہ اب انہیں لوگوں کے ذریعے لاکھوں کی پیشکش کر رہا ہے تاکہ یہ رپورٹ درج نہ کرائیں۔‘
مقامی ذرائع ابلاغ میں اس یک طرفہ مہم کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے بھی بغیر حقائق جانے یا تحقیق کے اس لڑکے کو طلب کر کے دو لاکھ روپے کا چیک فوراً تھما دیا۔ وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے ڈاکٹر گوہر علی کی گرفتاری کے احکامات جاری کیئے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور الزامات ثابت ہونے پر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ ڈاکٹر نے درایں اثنا عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔ یہ تو تھا تصور کا میڈیا میں آنے والا ایک رخ۔ دوسرا موقف ابھی تک سامنے نہیں آسکا ہے اور مقامی اخبارات کے کسی صحافی نے شاید جاننے کی کوشش بھی نہیں کی یا انہیں متعلقہ ڈاکٹر مل نہیں سکے۔ ڈاکٹر گوہر علی سے ملاقات کی آس میں اس نجی ہسپتال میں پہنچے جہاں وہ پریکٹس کرتے ہیں۔ ان سے تو ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کے ساتھی ڈاکٹر ضرور ملے جو میڈیا میں یک طرفہ کوریج پر سیخ پا دکھائی دیتے تھے۔ صفدر شاہ نے بتایا کہ ڈاکٹر گوہر اس نجی ہسپتال میں صرف پریکٹس کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس لڑکے کی رپورٹوں کے مطابق اس کا ایک گردہ پہلے سے مردہ تھا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ہوسکتا ہے آپریشن کے دوران ڈاکٹر نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہٹا دیا۔ یہ کوئی غلطی بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کے تعین کے لیئے طریقہ کار موجود ہے۔ ’طبی عملے سے غلطیاں مغرب میں بھی ہوتی ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر گوہر ہسپتال کے لان میں نماز ادا کر رہے تھے کہ مریض کے لواحقین نے ان سے اصرار کیا کہ آپ اچھے انسان ہیں آپریشن آپ ہی کریں گے۔ ’اس پر ڈاکٹر صاحب نے ہمدردی دکھاتے ہوئے ان لوگوں سے معمول کے پچیس تیس ہزار نہیں بلکہ صرف پانچ ہزار لینے کا فیصلہ کیا۔ اس ہمدردی کا انہیں یہ صلہ ملا ہے کہ وہ آج انتہائی کرب سے گزر رہے ہیں۔‘ ’کڈنی فروخت کرنا کوئی اتنا آسان کام نہیں کہ ایک سے اتاری اور دوسرے کو لگا دی۔ پہلے ٹیسٹ ہوتے ہیں کہ لینے والے شخص کے لیئے وہ موزوں ہے یا نہیں۔ مگر ہمارے اخبارات نے ایسی سرخیاں لگائیں کہ جیسے یہ منٹوں کا کھیل ہے۔‘ ڈاکٹر گوہر کے ساتھیوں کا ماننا ہے کہ ان سے بھی ذرائع ابلاغ میں اپنا موقف نہ دینے سے معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کے کئی روز بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ کہ اگر ان کے خلاف الزامات ثابت ہو جائیں تو وہ پھانسی چڑھنے اور مریض کو دس کڑوڑ روپے دینے کو تیار ہیں۔ طبی معاملات میں مکمل تحقیق کے بغیر کوئی رائے قائم کرنا کسی کو غلط بیانی کا مرتکب کرسکتی ہے۔ لہذا اس معاملے میں بھی مکمل تحقیق کے بعد ہی کوئی رائے قائم کی جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک بات واضع ہے کہ فریقین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ | اسی بارے میں گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان مریض زیادہ ہیں اور گردے کم09 December, 2004 | پاکستان ’کوئی انہیں مجبور نہیں کرتا‘11 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||