’میرا گردہ بیچ کر ٹریکٹر خرید لیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے شہر بہاولپور کی پولیس نے ایک شخص کے خلاف بلا اجازت اپنی بیوی کا گردہ فروخت کر کے ٹریکٹر خریدنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے اس کے ایک رشتہ دار کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ میں نامزد دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ بہاولپور کے نواحی علاقے احمد پور شرقیہ کی رہائشی سمیعہ بی بی نے کہا ہے کہ ان کی دسمبر دوہزار چار میں ملزم شکیل سے شادی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ شوہر کی مارپیٹ کی وجہ سے ان کا حمل ضائعہ ہوگیا۔ سمعیہ بی بی کے مطابق ان کے شوہر شکیل، سسر محمد اسماعیل، اور دو سسرالی رشتہ دار اللہ بخش اور عبدالحمید انہیں علاج معالجے کے لیے بہاولپور لے گئے جہاں سے وہ پندرہ روز کے بعد واپس آئیں۔ سمیعہ کہتی ہیں کہ اس کے ایک ہفتے بعد ہی ان کے شوہر ایک ٹریکٹر بھی خرید لائے اور جب انہوں نے پوچھا کہ رقم کہاں سے آئی ہے تو جواب ملا کہ دوستوں سے ادھار لی ہے۔ سمیعہ بی بی نے کہا کہ وہ اکثر بیمار رہنے لگیں جس پر جون دوہزار پانچ میں یعنی چھ ماہ بعد ان کے شوہر نے مارپیٹ کر انہیں گھر سے نکال دیا۔ سمیعہ کہتی ہیں کہ ایک بار ان کی حالت زیادہ خراب ہوئی اور سانس کی تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انہیں ان کے والدین ایک بار پھر بہاولپور لائے جہاں الٹرا ساؤنڈ کے بعد ڈاکٹر کامران نے بتایا کہ ان کا دایاں گردہ غائب ہے۔ سمیعہ کے بقول ان کے والدین نے چھان بین کی تو انہیں علم ہوا کہ سمیعہ کے سسرالی رشتہ داروں نے ان کا گردہ بیچ دیا تھا اور اس سے ملنے والی رقم سے وہ ٹریکٹر خرید کر لائے تھے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم انہوں نے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا تھا جس پر بدھ کو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ تھانہ نوشہرہ جدید کے ڈیوٹی افسر اقبال جعفر نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ایک ملزم عبدالحمید کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے ملنے والی معلومات کے ذریعے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جائےگا۔ پولیس کے مطابق دیگر ملزموں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ پاکستان میں گردے سمیت دیگر انسانی اعضا کی خرید وفروخت کی جاتی ہے اور اطلاعات کے مطابق غریب افراد معمولی معاوضے کی خاطر اپنے اعضاء فروخت کر دیتے ہیں جو دوسرے مریضوں کے پیوند کاری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ضلع سرگودھا کا ایک گاؤں بھلوال گردہ کی فروخت کے لیے بدنام ہے اور اس گاؤں میں درجنوں افراد نے اپنے گردے بیچ کر قرض اتارا، شادی کی یا دوسری کسی ضرورت کو پورا کیا۔ وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ایک ایسا قانون لانے کی منظوری دی ہے جس کے تحت انسانی اعضا کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور پیوند کاری صرف رشتہ داروں تک محدود کر دی جائے گی۔ | اسی بارے میں گردہ کدھر گیا؟29 June, 2006 | پاکستان ’اعضاء کی پیوند کاری کا قانون تیار‘31 January, 2007 | پاکستان مبینہ ’گردہ چور‘ ڈاکٹر گرفتار08 July, 2006 | پاکستان پولیس گردہ فروش ڈاکٹر کی تلاش میں27 June, 2006 | پاکستان ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان مریض زیادہ ہیں اور گردے کم09 December, 2004 | پاکستان گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||