پولیس گردہ فروش ڈاکٹر کی تلاش میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے سنگولنڈے سے تعلق رکھنے والے اس دس سالہ بچے کو دو لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے جس کا گردہ نجی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے نکال کر مبینہ طور پر فروخت کردیا ہے جبکہ دوسری جانب ملزم گرفتاری سے بچنے کےلیئے روپوش ہوگیا ہے۔ منگل کے روز پشاور میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ اکرم درانی نے نجی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر گوہر علی کی گرفتاری کے احکامات جاری کیئے تھے اور متاثرہ بچے کے علاج کے لیئے دو لاکھ روپے کے چیک دینے کا اعلان بھی کیا جو آج ان کے والد کے حوالے کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے تحقیقات ہورہی ہے اور الزامات ثابت ہونے پر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ ادھر تھانہ یو نیورسٹی ٹاؤن کے ایک اہل کار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نجی ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر کے گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جارہے ہیں تاہم فی الحال وہ روپوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ملزم کے ساتھ کام کرنے والے دو معاونین کو گرفتار کیا ہے جبکہ اس کے کلینک کو بھی سیل کردیا گیاہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر گوہر علی نے اپنے پرائیویٹ کلینک میں دو روز قبل سنگو لنڈے سربند سے تعلق رکھنے والے دس سالہ بچے امین کا بھاری رقم کے عوض آپریشن کیا تھا۔ تاہم چند روز بعد بچے کی حالت مزید بگڑ گئی جس پر بچے کے والد نے مریض کا الٹراساونڈ کروایا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ بچے کا ایک گردہ غائب ہے جس پر بچے کے والد نے پولیس سٹیشن میں ڈاکٹر کے خلاف رپورٹ درج کرادی۔ ادھر قبائلی علاقہ باڑہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں دوکانداروں، ٹرانسپورٹ یونین اور ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ممبران نے منگل کے روز پشاور میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے باڑہ کا محاصرہ ختم کرنے اور بازار فوری طورپر کھولنے کے حق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بازار کے بندش کے باعث مقامی لوگوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ فوری طور پر بازار کھول کر وہاں پر کاروباری سرگرمیاں بحال کرے۔ |
اسی بارے میں رؤف کشمیری: دو ملکوں کا قیدی26 June, 2006 | پاکستان مجلس عمل رابطہ مہم چلائےگی26 June, 2006 | پاکستان وزیرستان: بھتہ خور سمیت چھ ہلاک26 June, 2006 | پاکستان میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟08 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||