BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 22:46 GMT 03:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سردار جی کا ویزے کے بغیر سفر

جوگیندر بے شمار سکھوں کو جانتے ہیں جو پاکستان میں کئی جگہوں پر بلا اجازت گئے ہیں
ہندوستان سے آنے والے ایک سکھ یاتری جوگندر سنگھ اوبرائے نے پاکستان قیام کے دوران ایک غیر قانونی حرکت کی ہے۔

وہ پاکستان کی مٹی ’چرا‘ کے لے گئے ہیں کیونکہ یہ مٹی ان کے آبائی گاؤں کی تھی جہاں جانے کی اب انہیں اجازت نہیں ہے۔

جوگندر سنگھ اوبرائے ان تئیس سو سکھ یاتریوں میں شامل ہیں جو پاکستان کی نو روز کی یاترا کے بعد بدھ کی رات واپس ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔

یہ سکھ یاتری گرو ارجن دیو جی کی چار سو ویں برسی میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے لیکن ان کی یاترا میں لاہور، حسن ابدال اور ننکانہ صاحب کے گردوراے شامل تھے اور ان کے مشروط ویزوں میں صرف انہی جگہوں پر جانے کی اجازت شامل تھی۔

ٹرین آج کیوں چل رہی ہے؟
ساٹھ سال پہلے جب ٹرین شاہدرہ کے نزدیک رکی تھی تو میں رونے لگ گیا کہ یہ چل کیوں نہیں رہی اور آج جب یہ چلنے کو ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آرہے ہیں کہ یہ چل کیوں رہی ہے

اس کے علاوہ کسی بھی شہر میں جانا خلاف قانون بھی ہے اوراس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکر کے سزا دی جاسکتی ہے۔

پاکستان اور بھارت دو ایسے ممالک ہیں جو ایک دوسرے کے شہریوں کو صرف مخصوص شہروں کا ویزا جاری کرتے ہیں اور عام سیاحوں کی طرح وہ پورے ملک کا سفر نہیں کر سکتے۔

ہندوستانی پنجاب کے شہر روپڑ کے جوگندر سنگھ اوبرائے ساٹھ سال سے پاکستان کا ویزہ لگنے کا انتظار کر رہے تھے اور جب ویزہ لگنے کےبعد وہ پاکستان آئے تو انہوں نے دوسرے شہر جانے کی پابندی ماننے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بےشمار سکھوں کو جانتے ہیں جو پاکستان یاترا کرنے آتے ہیں اور اپنے گاؤں کو دیکھ کر ہی واپس جاتےہیں۔

جوگندر سنگھ اوبرائے آٹھ سال کے تھے جب انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنا گاؤں چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔

انہیں ساٹھ سال پہلے ٹرین کا وہ خوفناک سفر نہیں بھولا تھا جب چلتی ٹرین پر حملے ہوتے تھے اور ان کے ڈبے سے ایک جوان لڑکی کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

جوگندر سنگھ اوبرائے نے کہا کہ’ میرے دل سے اپنے گاؤں کی یاد بھی نہیں نکلی میں آٹھ سال کا تھا جب ہمیں یہ شہر چھوڑنا پڑا تھا آج میں اڑسٹھ سال کا ہوگیا ہوں لیکن لائل پور (فیصل آباد) سے اپنے گاؤں ستیانہ بنگلہ تک کا راستہ اور گلیاں کوچے مجھے آج بھی یادہیں۔‘

جوگندر سنگھ اوبرائے یہ جانتے بوجھتے کہ ایسا کرنا خلاف قانون ہے ستیانہ بنگلہ جا پہنچے۔

لائل پور سے نکلتے ہوئے جھال کا پل بھی انہیں یاد تھا اور وہ بڑی ندی بھی جس کے کنارے ان کا گاؤں تھا۔

پکڑے جانے کے خوف سے جوگندر سنگھ نے اپنا حلیہ تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی خاص طرز سے لپٹی نیلی پگڑی اتار کر انہوں نے سفید رومال سر پر باندھا اور پتلون کی جگہ پاجامہ اور کرتا پہن لیا لیکن بہرحال یہ بھی پاکستان کا عام لباس نہیں تھا۔

اسی لیے جب وہ ستیانہ بنگلہ پہنچے اورکسی بزرگ سے ملنے کی خواہش کی تو ملنے والے پہلے ہی شخص نے کہا کہ ’سردار جی اپنا گاؤں دیکھنے آئے ہو۔‘

جوگندر سنگھ کو پہلے ایک بزرگ ملے جو ان کے نانا اور والد کو جانتے تھے تاہم خود ان بزرگ کی بیشتر زندگی برطانوی فوج میں گذری تھی وہ ان کے گھر کا پتہ بتا سکے نہ انہیں پہچان سکے۔

تاہم جوگندر سنگھ اوبرائے کو ایک سو نو سالہ بوڑھے شخص نے پہچان لیا ’اوے تو شاہ کا دوہتا ہے‘

اس بوڑھے نے یہ کہہ کر محبت سے ان کا بازو پکڑا اور رونا شروع ہوگئے۔

انہی کی نشاندہی پر جوگندر سنگھ نے وہ گردوراہ بھی دیکھا جس کے تہہ خانے میں اب لوگوں نے مکان بنا لیے ہیں۔

ساٹھ برس تک ویزے کا انتظار
ہندوستانی پنجاب کے شہر روپڑ کے جوگندر سنگھ اوبرائے ساٹھ سال سے پاکستان کا ویزہ لگنے کا انتظار کر رہے تھے اور جب ویزہ لگنے کےبعد وہ پاکستان آئے تو انہوں نے دوسرے شہر جانے کی پابندی ماننے سے انکار کر دیا

جوگندر سنگھ کو اپنا مکان بھی مل گیا اگرچہ اس کے مرکزی دروازے کی جگہ تبدیل کی جاچکی تھی۔

ان کے ماموں کرتار سنگھ کے مکان کے تین ٹکڑے ہوچکے تھے۔

وہ کنواں جہاں جوگندر سنگھ اوبرائے ساتھی بچوں کے ساتھ نہاتے تھے وہاں اب بھی بچے نہا رہے ہیں لیکن اب اس کی جگہ ٹیوب ویل لگاہے۔

نہر سے نکلنے والا وہ نالہ بند کر دیا گیا ہے جو تھانے کے سامنے سے گذرتا تھا۔

اگر کچھ نہیں بدلا تو گاؤں میں تھانے کی عمارت یا پھر لائل پور کا گھنٹہ گھر۔

جوگندر سنگھ نے اپنے گاؤں کی مٹی اٹھائی اسے سونگھ کر دیکھا یا شائد چومنے کی کوشش کی اور پھر احتیاط سے کاغذ میں لپیٹ کر موم جامے میں رکھ لیا۔

جوگندر سنگھ نے کہا کہ ’میری یاترامکمل ہوگئی ‘

ان کے بقول انہوں نے اپنا مکہ مدینہ دیکھ لیا اور اب مزید مقدس مقام ان کے لیے غیر اہم ہوگئے ہیں۔

جوگندر سنگھ نے باقی یاترا دیگر سکھوں کے ساتھ کی جہاں انہیں سرکاری اہلکار لے گئے وہ چلے گئے۔

لاہور کے نواح میں واہگہ ریلوے سٹیشن پر پاکستان کو الوداع کہنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ ’ساٹھ برس میں بہت تبدیلی آگئی ہے۔‘

ساٹھ سال پہلے جب ٹرین شاہدرہ کے نزدیک رکی تھی تو میں رونے لگ گیا کہ یہ چل کیوں نہیں رہی اور آج جب یہ چلنے کو ہے تو میری آنکھوں میں آنسو آرہے ہیں کہ یہ چل کیوں رہی ہے۔‘

اسی بارے میں
قربتیں اور فاصلے
15 March, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد