میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دماغ کی رسولی کے مرض میں مبتلا ایک نوعمر لڑکی اور اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد کو لاہور کے ایک مہنگے نجی ہسپتال میں بروقت مرض کی مناسب تشخیص اور علاج مہیا نہیں کیا جا سکا، اسے ایمرجنسی شعبہ میں سر درد اور قے روکنے کی دوا دی جاتی رہی اور وہ چند روز بعد ایک دوسرے نجی ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ اس واقعہ پر لاہور کے سینیئر ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل وزیراعلٰی کی معائنہ ٹیم نے انکوائری کی اور متعلقہ ڈاکٹروں اور ہسپتال کی غفلت اور غیر پیشہ وارانہ رویے کی نشان دہی کی۔ یہ رپورٹ تین ماہ سے وزیراعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی میز پر موجود ہے اور آج تک اس پر کوئی انتظامی یا قانونی کاروائی نہیں کی گئی۔ سولہ سالہ لڑکی جہاں آرا کی چار مارچ کو ہلاکت کے بارے میں ہسپتال اور ڈاکٹروں کے خلاف کی گئی شکایت پر سروسز ہسپتال کے پرنسپل اور پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر فیصل مسعود، لاہور جنرل ہسپتال کے پروفیسر آف نیوروسرجری ڈاکٹر نذیر احمد اور وزیراعلی معائنہ ٹیم کے رکن شوکت علی شاہ نے یہ انکوائری مکمل کی اور اس سال تین مئی کو اپنے دستخطوں کے ساتھ یہ رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کی تھی۔ اکیس صفحوں پر مشتمل انکوائری میں تمام فریقین کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور انکوائری ٹیم کے نتائج کے ساتھ انہیں بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ بعد میں پتہ چلا کہ لڑکی جہاں آرا دماغ کی رسولی کے مرض میں مبتلا تھی۔ اس کے ماں باپ کا موقف ہے کہ اگر اس کو بروقت کوئی ماہر ڈاکٹر دیکھ لیتا اور اس کا علاج شروع کردیتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی جبکہ لاہور ڈیفنس کے ایک نجی ہسپتال میں ایک نووارد جونیئر ڈاکٹر اس کو دوائیں دیتا رہا۔ جب ماں کی کوششوں سے اگلی صبح ایک سینئر ڈاکٹر آیا تو اس نے ایمرجنسی دیکھتے ہوئے بھی لڑکی کا علاج شروع نہیں کیا اور شام کا وقت دے کر اپنے سرکاری ہسپتال کی نوکری پر چلا گیا۔ اس عرصہ میں لڑکی حالت خراب تر ہوگئی اور اسے بے ہوشی کی کیفیت میں دوسرے نجی ہسپتال لے جانا پڑا جہاں وہ دو دن بعد مر گئی۔ انکوائری میں لڑکی جہاں آرا کی ماں زرین اعجاز نے کہا کہ اس سال یکم مارچ کو شام سات بجے لڑکی کو سر میں درد ہوا تو وہ اسے نیشنل ہسپتال ڈیفنس کی ایمرجنسی میں لے گئی۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود ایک ڈاکٹر نے اس کامعائنہ کرکے اسے دوا دی اور وہ واپس گھر آ گئے لیکن لڑکی کی کیفیت برقرار رہی۔ وہ اسے ساڑھے دس گیارہ دوبارہ اسی ہسپتال میں لے گئی۔ لڑکی نے متلی اور قے کی۔ اسی ڈاکٹر نے دوبارہ مریضہ کو دیکھا، انجکشن لگایا اور ڈرپ لگائی۔ تاہم انجکشن لگانے سے مریضہ تقریبا بے ہوش ہوگئی۔ اس پر اس کی ماں نے میڈیکل اسٹاف سے مدد مانگی۔ نصف شب کے بعد ڈیڑھ بجے صبح لڑکی کی حالت بگڑنے لگی اور اس کے اعضا اکڑنے لگے اور اس نے ایک بار پھر قے کی۔ ماں کے مطابق رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے تک کوئی ماہر یا اسپیشلسٹ ڈاکٹر لڑکی کو دیکھنے نہیں آیا۔ لڑکی کی ماں ہسپتال کی مالکہ ڈاکٹر شاہدہ سے ٹیلی فون پربات کرنے کی کوشش کرتی رہیں اور صبح جب ان سے رابطہ ہوا تو ڈاکٹر شاہدہ نے کہا کہ وہ کسی ماہر ڈاکٹر کو بھیج رہی ہیں۔ صبح پونے آٹھ بجے جنرل ہسپتال کے ایک ماہر نیورو سرجن ڈاکٹر نوید اشرف لڑکی کو دیکھنے کےلیے نیشنل ہسپتال آئے۔ ہسپتال کے عملہ نے کہا کہ اس کا نیورو سرجن سے پہلے رابطہ نہیں ہوسکا تھا کیونکہ انہوں نے ٹیلی فون بند کیا ہوا تھا۔ نیوروسرجن نے لڑکی کو دیکھا لیکن لڑکی کی ماں سے کہا کہ کہ وہ کچھ کہہ نہیں سکتے کہ بیماری کی نوعیت کیا ہے لیکن علامات ابنارمل ہیں۔ڈاکٹر نے مریضہ کا ایم آر آئی کرانے کی تجویز دی اور کہا کہ وہ تین بجے سہہ پہر دوبارہ آ کر اسے دیکھیں گے۔ لڑکی کی ماں اس کی خراب طبیعیت سے پریشان تھی اور عملہ سے بیماری کی نوعیت پوچھتی رہی جس پر ہسپتال کے عملہ نے اس کے مطابق اسے کہا کہ وہ اپنی لڑکی کو وہاں سے لے جاسکتی ہے۔ ماں نے ایک اور نجی ہسپتال کے ڈاکٹر جاوید اکرم سے رابطہ کیا تو انہوں نے اسے مریض اپنے ہسپتال اکرم کمپلیکس میں لانے کا کہا۔ وہ سوا نو بجے صبح اپنی لڑکی کو ایمبولینس میں اکرم کمپلیکس لے گئی۔ وہاں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بچی کی حالت بگڑ گئی۔ اس کا سی ٹی سکین کرایاگیا۔ اس کی بیماری دماغ کی رسولی ( کولائڈ سسٹ یا لسونتی جھلی) کی تشخیص ہوئی۔ لڑکی دو دن اس ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد چار مارچ کو انتقال کرگئی۔ نیشنل ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد سرور نے انکوائری ٹیم کو بتایا کہ اس واقعہ کے روز ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر زاہد حیدر ایمرجنسی میں صرف ایک روز کے لیے آئے تھے اور انہیں اب اس ڈاکٹر کا اتا پتا معلوم نہیں۔ انہوں نے لڑکی کے والدین کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد، غلط اور قیاس آرائی اور سنی سنائی باتوں پر مبنی قرار دیا۔ تاہم ڈاکٹر سرور نے اس بات کو تسلیم کیا کہ جس کمرے میں لڑکی کو رکھا گیا وہاں کوئی مانیٹر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے عملہ نے لڑکی کی ماں سے کہا تھا کہ وہ انہیں دوسرے ہسپتال منتقل نہ کریں کیونکہ ان کے ایم آر آئی کا کرنے کا شیڈول بنا لیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکا رکردیا۔ وزیراعلی معائنہ ٹیم نے اپنی انکوائری رپورٹ کے نتائج میں لکھا ہے کہ ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ مریضہ کی بیماری کی تشخیص کرنے اور مناسب علاج شروع کرنے میں تاخیر واقع ہوئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نیشنل ہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک ناتجربہ کار ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھا۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے کسی مناسب طریقہ کے بغیر اسی روز اس ڈاکٹر کو ملازمت پر رکھا تھا۔ ایمرجنسی میں دوسرا ڈاکٹر بھی تھا جس نے نصف شب کے بعد ڈیڑھ بجے لڑکی کو دیکھا۔ انکوائری کمیٹی کا کہنا ہے کہ دونوں ڈاکٹروں نے جب یہ دیکھا کہ لڑکی مسلسل قے کررہی تھی، اس کا رنگ زرد پڑ رہا تھا، بے ہوشی کی کیفیت طاری ہورہی تھی اور اس کے اعضا اکڑنے لگے تھے انہیں چاہیے تھا کہ وہ ماہر فزیشن سے فوری رابطہ کرتے اور اس مریضہ کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کرتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جس سے ان کی غیر مستعدی کا پتہ چلتا ہے۔ انکوائری ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ہسپتال میں میڈیکل سہولتیں تو موجود تھیں لیکن ان کا مناسب استعمال نہیں کیا گیا۔ انکوائری ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہسپتال ماہر ڈاکٹروں کو ملازمت پر رکھتا ہے لیکن وقت پر ان کا استعمال نہیں کرتا تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفصیل سے غور اور بحث کرنے کے بعد ان کی رائے ہے کہ نیشنل ہسپتال کی انتظامیہ کی غفلت کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔ انکوائری ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر لڑکی کا پہلی مرتبہ ہی مناسب معائنہ کرلیا جاتا اور اور اس کا علاج کیا جاتا تو یہ سانحہ روکا جاسکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر یا تو نااہل تھے یا غفلت کے مرتکب ہوئے۔ ایمرجنسی کے ساتھ ہی اسپیشلسٹ فزیشن ڈاکٹر ضیا اللہ موجود تھے لیکن کسی نے ان سے مشورہ نہیں لیا اورنہ ان کومریض دیکھنے کے لیے بلایا۔ انکوائری رپوٹ کے مطابق ڈاکٹر نوید اشرف سرکاری ہسپتال میں اپنی نوکری چھوڑ کر نیشنل ہسپتال لڑکی کو دیکھنے گئے جو ان کی غیر پیشہ وارانہ حرکت تھی لیکن جب انہوں نے مریضہ کی حالت دیکھ لی تھی تو انہیں واپس جانے کے بجائے لڑکی کا علاج شروع کرنا چاہیے تھا۔یوں ایک حد تک وہ غفلت کے مرتکب ہوئے۔ انکوائری ٹیم نے کہا ہے کہ ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ نیشنل ہسپتال غفلت کا مرتکب ہوا اور اگر لڑکی کو مناسب علاج مل جاتا اور لڑکی کی ماں کو اس کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنے میں چھپے خطرے کے بارے میں تنبیہ کردی جاتی تو حالات کو بہتر بنایا جاسکتا تھا۔ انکوائری رپوٹ کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ہسپتال میں کوئی ماہر ڈاکٹر موجود ہی نہیں تھا جو مریضہ کو مشورہ دے سکتا۔ انکوائری ٹیم کا کہنا ہے کہ لڑکی کو ایک سال سے سر درد کی شکایت تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی تھی اور اس کے ساتھ اسے قے ہونا شروع ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر جاوید اکرم اور شاہد محمود نے بھی لڑکی کو دیکھا لیکن وہ اس کی حالت کی سنگینی کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ انکوائری رپوٹ نے کہا ہے کہ نیشنل ہسپتال کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیے جانے کا معاملہ حکومت کے محکمہ قانون یا وکیل کو اس کی رائے لینے کے لیے بھیجا جانا چاہیے۔ پاکستان میں بڑے ڈاکٹر اور نجی ہسپتالوں کے اثر و رسوخ کے پیش نظر دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اس انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کوئی کاروائی کرے گی یا نہیں؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||