BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 07:20 GMT 12:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں بھی سکول جانا چاہتا ہوں‘

سردار
سردار بھی دوسرے بچوں کی طرح سکول جانا چاہتا ہے
سردار یونیورسٹی روڈ پر پانی بیچتا ہے۔ وہ صبح سویرے کام پر نکلتا ہے اور رات دیر تک اس سڑک پر لوگوں کو پانی پلاتا ہے جبکہ اس کے عوض وہ روپے، دو روپے لیتا ہے۔

گیارہ سالہ سردار کا اس دنیا میں کوئی نہیں۔ وہ جب چار سال کا تھا تو اس کے باپ کا انتقال ہوا جبکہ ماں کی محبت سے وہ چھ سال کے عمر میں محروم ہوا۔ سردار کا کوئی گھر نہیں اور نہ اسے اس بات کا پتہ ہے کہ وہ کہاں سے آیا اور ان کے رشتہ دار کون ہیں۔اس کو صرف اتنا یاد ہے کہ وہ بورڈ کے علاقے میں اپنے ماں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا۔

جب ماں کا انتقال ہوا تو اس نے ایک چائے والے کی دوکان پر نوکری اختیار کی اور آج کل وہ سارا دن یونیورسٹی روڈ پر ٹاؤن کے علاقے میں پانی بیچتا ہے اور رات اس سڑک کے بیچ میں بنی جگہ پر کھلے آسمان تلے گزراتا ہے۔ ہر وقت اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کولر ہوتا ہے جس سے وہ لوگوں کو پانی پلاتا ہے جبکہ سردیوں کے موسم میں وہ چائے کا دوکان پر کام کرتا ہے۔

سردار کا کہنا ہے کہ اس کی دلی خواہش ہے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح سکول جائے کیونکہ جب اس کی ماں زندہ تھی تو وہ سکول جایا کرتا تھا۔ ’ میرا کوئی بھی نہیں کہ مجھے سکول میں داخل کروائے ، اگر میر کوئی بڑا بھائی ہوتا تووہ مجھے ضرور سکول میں داخل کرواتا‘۔

صوبائی دارلحکومت کی اس مشہور سڑک پر سردار کی طرح اپ کو سینکڑوں ایسے مزدور بچے ملیں گے جو سارا دن محنت مزدروری کرکے رات اس کھلے آسمان تلے گزارتے ہیں۔

اگر میر کوئی بڑا بھائی ہوتا تووہ مجھے ضرور سکول میں داخل کرواتا

ان مزدور بچوں کا عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق پشاور کے دور دراز علاقوں اور اضلاع سے ہیں جبکہ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جن کا کوئی گھر نہیں اوروہ بے سرو سامانی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کم عمر بچوں میں زیادہ تر لاچار اور غریب ہیں جن کے والدین یا تو مرچکے ہیں یا کام کرنے کے قابل نہیں رہے اور وہ گھریلو حالات کی وجہ سے محنت مزدوری پر مجبور ہے۔

ان بچوں میں عصمت اللہ بھی ہے جن کا تعلق چارسدہ سے ہے۔ 14 سالہ عصمت اللہ کے ماں باپ چار سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں جان بحق ہوگئے۔ عصمت اللہ کے تین بہنیں ہیں جو ان سے چھوٹی ہیں ۔والدین کے وفات کے بعد اس نے سکول جانا چھوڑ دیا اور اب وہ گھر کا واحد کفیل ہے، سارا دن محنت مزدوری کرتا ہے اور بہنوں کا پیٹ پال رہا ہے۔

عصمت اللہ کہتا ہے کہ کاش ان کے والد زندہ ہوتے ، زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی ہے، پشاور میں سر چھپانے کےلیے جگہ تک نہیں کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔

ویسے تو یونیورسٹی روڈ کئی کلومیٹرز پر مشتمل ہے لیکن زیادہ تر یہ لاچار بچے شیرپاؤ ہسپتال، سپین جماعت اور ٹاؤن کے سامنے بنے ہوئے سڑک پر نظر آتے ہیں۔سڑک کے درمیان میں بنی یہ جگہ ان بچوں اور دیگر مزدورں کے لیے بہت اہم حثیت رکھتی ہے کیو نکہ بقول ان کے یہاں سے ان کو مزدوری بھی ملتی ہے اور وہ صبح کام پر بھی یہاں سےجاتے ہیں۔

 سرائے کی تعیر سے کھلے آسمان تلے رہنے والے بچوں اور مزدورں کی تعداد میں کچھ کمی ضرور واقع ہوئی ہے تاہم ابھی بھی ایک بڑی تعداد شہر میں فٹ پاتھوں پر رہ رہی ہے۔ بعض مزدوروں کو شکایت ہے کہ سرکاری سرائے میں ان سے شناختی کارڈ اور پیسوں کا تقاضا کیا جاتا ہے اور وہاں پر اکثر بجلی بھی نہیں ہوتی۔

پشاور میں بچوں کے حقوق کے سلسلےمیں سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم سپارک کے صوبائی کوارڈنیٹر جواد اللہ کہتے ہیں کہ پشاور میں ایسے بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہیں جوگلی کوچوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک بل قومی اسمبلی میں زیر بحث ہے اگر یہ بل پاس ہوجاتی ہے تو اس سے کم آز کم گلی کوچوں میں کام کرنے والے بچوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے گا۔

پشاور میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی سرکاری اور غیر تنظمیں کام کررہی ہے لیکن ان مزدور بچوں کی فلاح کے لیے ابھی تک کسی تنظیم نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے البتہ صوبائی حکومت نے شیرپاؤ ہسپتال کے عمارت سے ملحقہ ایک سرکاری سرائے حال ہی میں تعمیر کی ہے جس میں ڈھائی سو لوگوں کی رہنے کی گنجائش ہے۔

مزدور بچوں کا عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔

اس سرائے کے ایک اہلکار سہیل خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سرائے حکومت نے خصوصی طور پر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر رہنے والے بچوں اور مزدورں کے لیے بنائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سرائے میں کل آٹھ بڑے بڑے ہال ہیں جس میں چھ مردوں اور دو خواتین کے لیے مختصں ہیں۔ایک ہال میں 30 افراد رہ سکتے ہیں۔ سہیل خان کا کہنا تھا کہ وہ مسافروں اور مزدوروں سے دو روپے فی رات لیتے ہیں جبکہ سرائے میں تمام بنیادی سہولیات بھی موجود ہیں۔

اس سرائے کی تعیر سے کھلے آسمان تلے رہنے والے بچوں اور مزدورں کی تعداد میں کچھ کمی ضرور واقع ہوئی ہے تاہم ابھی بھی ایک بڑی تعداد شہر میں فٹ پاتھوں پر رہ رہی ہے۔ بعض مزدوروں کو شکایت ہے کہ سرکاری سرائے میں ان سے شناختی کارڈ اور پیسوں کا تقاضا کیا جاتا ہے اور وہاں پر اکثر بجلی بھی نہیں ہوتی۔

اس سلسلے میں جب صوبائی وزیر برائے زکوۃ و سماجی بہبود حافظ حشمت خان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایم ایم اے کی حکومت کا کارنامہ ہے کہ پہلی دفعہ پشاور میں مزدورں ، بچوں اور بے آسرا لوگوں کے لیے 75 لاکھ روپے کی لاگت سے بڑی عالی شان سرائے بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے ابھی بھی کچھ مزدرو بچے ہوں جو سرکاری سرائے نہیں آنا چاہتے لیکن یہ جگہ ہم نے انہی لوگوں کے لیے بنائی ہے ، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ راتوں کو فٹ پاتھوں پر نہ سوئیں بلکہ سرائے آئیں جہاں ہر قسم کی بنیادی سہولت موجود ہے۔

ان لاچار اور بے سہارا بچوں کے حقوق کے لیے آوازیں تو بہت بلند ہوتی ہے لیکن عملی کام کا شدید فقدان ہے محض کتابوں میں قوانین درج کرنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ قوانین نافذ بھی ہوں اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد