BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعضاء کی تجارت پر پابندی کا قانون

انسانی اعضاء
دنیا میں چند ہی ممالک ایسے رہ گئے تھے جہاں یہ قانون نہیں تھا
ملک کی اعلی عدالت کی جانب سے حکم کے چند دن بعد ہی وفاقی کابینہ نے ملک میں انسانی اعضاء کی تجارت پر پابندی کے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں اس قانون کی منظوری دی گئی۔ حکام کو امید ہے کہ اس قانون کے آنے سے پاکستان ’گردوں کے سستے بازار‘ جیسے دھبے سے سے آزاد ہو جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں انسانی اعضاء کی تجارت کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت تھی تاکہ غریب اور نادار افراد کے استحصال کا خاتمہ ہوسکے۔ ان کا کہنا کہ ان کی حکومت کو ضرورت مند افراد کی مشکل کا احساس ہے جو صرف ایک باقاعدہ شفاف نظام کے تحت ہی دور کی جا سکے گی۔

بعد میں صحافیوں کو کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی اور وزیر صحت نصیر خان نے اسے تاریخی فیصلہ قرار دیا۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں چند ہی ممالک ایسے رہ گئے تھے جہاں یہ قانون نہیں تھا۔ ان میں پاکستان بھی شامل تھا لیکن اب ایسا نہیں رہا۔‘

یہ آرڈیننس اس برس کے اوائل سے کابینہ کے پاس زیرِ غور تھا۔ تاہم مسلسل تاخیر پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے گزشتہ دنوں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کو اس قانون کو فورا نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔

گردوں کی فروخت پر سزا
 قانون کے تحت گردوں کی فروخت پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والے شخص کو پانچ برس قید تک کی سزا دی جاسکے گی

پاکستان میں اس قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے گردوں کا کاروبار کافی آسانی سے ممکن تھا۔ ذرائع ابلاغ کئی برسوں سے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرواتا رہا لیکن حکام ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ بلا آخر عدالت کے حکم پر پیش رفت ہوئی ہے۔ خود وزیر صحت نصیر خان نے میڈیا کا اس جانب توجہ مبذول کرانے پر شکریہ ادا کیا۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اب اس قانون کے تحت گردوں کی فروخت پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والے شخص کو پانچ برس قید تک کی سزا دی جاسکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک باقاعدہ نظام متارف کروایا جائے گا جس کے تحت مقررہ ہسپتالوں میں کمٹیاں اور ’ڈونر بنک‘ قائم کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں قانون کی منظوری میں یہ اچانک تیزی میڈیا یا عدالت کی وجہ سے سامنے آئی ہے تو وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اس قانون پر گزشتہ ڈیڑھ برس سے کام ہو رہا تھا اور تمام صوبوں کی رائے اکٹھی کی جا رہی تھی۔ ’یہ قانون بڑی محنت اور توجہ سے تیار کیا گیا ہے۔‘

ہمسایہ ممالک بھارت اور ایران میں انسانی اعضاء کے کاروبار پر پہلے سے پابندی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد