گردہ: غیرملکی مریض مشکل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کی طرف سے لاہور کے تین ہسپتالوں کے خلاف کی گئی حالیہ کارروائی نے دنیا بھر سے گردہ ٹرانسپلانٹ آپریشن کے لیے آنے والے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تین بڑے نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی سے پہلے لاہور کے ان تین ہسپتالوں میں ہر ماہ چالیس کے قریب گردے تبدیل کیے جاتے تھے۔ ٹرانسپلانٹ کے لیے لاہور آنے والے مریضوں کی زیادہ تعداد مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے عربوں کی بتائی جاتی ہے۔ پولیس کی طرف سے قبضے میں لیے گئے ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، لیبیا اور مصر کے علاوہ جنوبی افریقہ، امریکہ، کینیڈا، سنگاپور، ملائیشیا اور انڈیا سے بھی مریض گردے تبدیل کرانے کے لیے لاہور آچکے ہیں۔ لیبیا کے شہر سبہا کے رہائشی الفقیرا عبدالرحمان عبدالرحیم اپنے خاندان کے چار افراد کے ساتھ پچھلے ماہ لاہور آئے۔ ان کے یہاں آنے کا مقصد اپنی پھوپھی اور بھتیجی کے گردے ٹرانسپلانٹ کروانا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں ان سے سترہ ہزار امریکی ڈالرز پیشگی فی کس وصول کیے گئے اور انہیں مئی کے آخری ہفتہ میں آنے کو کہا گیا۔ الفقیرا خاندان کے دیگر چار افراد کے ساتھ لاہور میں مقیم اپنے دوست کے گھر پہنچے۔ دو دن کے قیام کے بعد وہ ہسپتال کے چوتھے فلور میں، جو کہ غیرملکیوں کے لیے مختص ہے، منتقل ہوئے۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد لگاتار تین چار دن ان کی پھوپھی اور بھتیجی کے مختلف ٹیسٹ ہوئے۔ تمام ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد 28 مئی کا دن ان کے گردہ ٹرانسپلانٹ کے لئے مقرر کیا گیا لیکن اس سے قبل پولیس نے ڈاکٹر کو گردہ فروشی کے کاروبار کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ الفقیرا نے کہا: ’ہم تقریباً دو ہفتے اسی انتظار میں رہے کہ رہائی کے بعد وہ ڈاکٹر ان کا گردہ ٹرانسپلانٹ کریں گے۔ تاہم ان کی واپسی سے نا امید ہو کر راولپنڈی میں کڈنی سنٹر اور کراچی میں ایس آئی یو ٹی کا دورہ کیا لیکن مطمئن نہ ہو سکے۔ ہمارے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا کہ کسی اور جگہ سے یہ ٹرانسپلانٹ کرانے کا نتیجہ کہیں یہ نہ نکلے کہ آپریشن کے بعد پیچیدگیاں (پوسٹ آپریشن کومپلیکیشنز) پیدا ہوجائیں کیونکہ ابھی تک اس ڈاکٹر نے ہمارے تین دوسرے رشتہ داروں کے ٹرانسپلانٹ کیے ہیں، وہ اللہ کے فضل و کرم سے صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔‘ الفقیرا اس بات سے لاعلم ہیں کہ جن افراد کے گردے ان کے رشتہ داروں کو ملنے تھے، ان کو یا تو پیسے نہیں دیے جاتے یا بہت کم۔ تاہم الفقیرا اس امر سے شناسا ہیں کہ انتہائی غربت پاکستانیوں کو اپنے گردے بیچنے کی حد تک محبور کر دیتی ہے۔ الفقیرا کی پھوپھی اور بھتیجی کا، جو مکمل پردہ نشین ہیں، شمار ان بےشمار غیرملکیوں میں ہوتا ہے جو ہر ماہ پاکستان خصوصاً پنجاب میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے لیے آتے ہیں۔ لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن چوہدری تصدق حسین نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ جب فیروز پور روڈ پر واقع ہسپتال پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں تین عرب باشندے موجود تھے جنہوں نے بتایا کہ ان سے سولہ ہزار امریکی ڈالر فی کس وصول کیے گئے ہیں۔ مئی میں ہونے والی اس کارروائی میں دو ہسپتالوں کے مالکوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم ایک ہسپتال کا مالک تاحال مفرور ہے۔ ان کی گرفتاری ان دس لوگوں کی گواہی پر عمل میں آئی جو پنجاب کے مختلف علاقوں سے لاہور روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔ ان میں اعجاز نامی ایک شخص نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس کے ہم نام شخص نے بہتر کام دلوانے کا جھانسا دے کر اپنے کوارٹر واقع کوٹ لکھپت میں نو دوسرے لوگوں کے ساتھ ’قید‘ کر دیا۔ اعجاز اور عبدالطیف جن کا تعلق خانیوال اور اوکاڑہ سے ہے، اپنے گردوں سے محروم ہوگئے جبکہ باقی آٹھ لوگ جن میں کراچی کی پچیس سالہ خاتون صبا ناصر شامل ہے، محفوظ رہے۔ لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن چوہدری تصدق حسین کا کہنا ہے ڈاکٹر نصراللہ کا کہنا ہے کہ سن 1996 میں انڈیا نے گردوں کی پیوندکاری پر پابندی کا قانون نافذ کیا جس کے تحت کوئی شخص اپنے رشتے داروں کے علاوہ کسی اور سے گردہ نہیں لے سکتا۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے قبل ناکارہ گردوں کے مریض بھارت کا رخ کیا کرتے تھے مگر اب ان کے پاس پاکستان آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اس وقت سے اب تک تقریباً پچاس سے سو غیرملکی اوسطاً ہر ماہ پاکستان آتے ہیں۔ ڈاکٹر نصراللہ نے مشرق وسطیٰ سے زیادہ مریضوں کے آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے کیونکہ وہاں ’کشتے‘ جو جنسی قوت کو بڑھانے کے کام آتے ہیں، کا استعمال زیادہ ہے جس کی وجہ سے گردے ناکارہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر نصراللہ نے مزید بتایا کہ تینوں ہسپتالوں کے خلاف کارروائی اس لیے عمل میں لائی جا سکی کہ وہ لوگ پولیس کے پاس چلے گئے جنہیں ان کے گردوں سے ان کی مرضی کے خلاف محروم کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے گردہ کسی شخص کو دے سکتا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عظیم الدین زاہد نے الزام لگایا کہ اس گھناؤنے کاروبار میں بعض اعلٰی سرکاری عہدے دار شامل ہیں۔ اس کاروبار کو بظاہر روکنے کے لیے جس قانون (انسانی اعضاء کی پیوندکاری کا آرڈیننس سن دو ہزار سات) کا مسودہ وفاقی کابینہ کے پاس منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے جس میں یہ شق موجود ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے گردہ کسی کو بھی دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے اگر یہ قانون اسی طرح نافذ ہوگیا تو پاکستان قانونی طور پر گردوں کی خریدوفروخت کا بازار بن جائے گا۔ اس مسئلے کا حل یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں ڈاکٹروں کا ایک بورڈ دماغی طور پر مردہ قرار دے دے، ان کے گردے ایسے مریضوں کو دیے جا سکیں جنہیں اپنے رشتے داروں میں ’ڈونر‘ نہیں ملتا۔ |
اسی بارے میں گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان گردہ کدھر گیا؟29 June, 2006 | پاکستان مبینہ ’گردہ چور‘ ڈاکٹر گرفتار08 July, 2006 | پاکستان گردے زبردستی نکالنے والا گروہ26 May, 2007 | پاکستان ڈاکٹروں کی ضمانت کی التجا مسترد31 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||