BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گردہ: غیرملکی مریض مشکل میں

فائل فوٹو: گردے کا ایک ڈونر
فائل فوٹو: گردے کا ایک ڈونر
پولیس کی طرف سے لاہور کے تین ہسپتالوں کے خلاف کی گئی حالیہ کارروائی نے دنیا بھر سے گردہ ٹرانسپلانٹ آپریشن کے لیے آنے والے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تین بڑے نجی ہسپتالوں کے خلاف کارروائی سے پہلے لاہور کے ان تین ہسپتالوں میں ہر ماہ چالیس کے قریب گردے تبدیل کیے جاتے تھے۔ ٹرانسپلانٹ کے لیے لاہور آنے والے مریضوں کی زیادہ تعداد مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے عربوں کی بتائی جاتی ہے۔

پولیس کی طرف سے قبضے میں لیے گئے ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، لیبیا اور مصر کے علاوہ جنوبی افریقہ، امریکہ، کینیڈا، سنگاپور، ملائیشیا اور انڈیا سے بھی مریض گردے تبدیل کرانے کے لیے لاہور آچکے ہیں۔

لیبیا کے شہر سبہا کے رہائشی الفقیرا عبدالرحمان عبدالرحیم اپنے خاندان کے چار افراد کے ساتھ پچھلے ماہ لاہور آئے۔ ان کے یہاں آنے کا مقصد اپنی پھوپھی اور بھتیجی کے گردے ٹرانسپلانٹ کروانا تھا۔

 الفقیرا خاندان کے دیگر چار افراد کے ساتھ لاہور میں مقیم اپنے دوست کے گھر پہنچے۔ دو دن کے قیام کے بعد وہ ہسپتال کے چوتھے فلور میں، جو کہ غیرملکیوں کے لیے مختص ہے، منتقل ہوئے۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد لگاتار تین چار دن ان کی پھوپھی اور بھتیجی کے مختلف ٹیسٹ ہوئے۔ تمام ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد 28 مئی کا دن ان کے گردہ ٹرانسپلانٹ کے لئے مقرر کیا گیا لیکن اس سے قبل پولیس نے ڈاکٹر کو گردہ فروشی کے کاروبار کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
الفقیرا کا، جو کہ لیبیا کی وزارت داخلہ میں ملازم ہیں، کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے تین افراد پہلے ہی لاہور کے ایک ہسپتال سےگردے تبدیل کروا چکے ہیں۔ ’اس ہسپتال میں کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کا گردہ ٹرانسپلانٹ میں کامیابی کا تناسب بہتر ہے اس وجہ سے وہ (سبہا) میں اس حوالے سے کافی جانے جاتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں ان سے سترہ ہزار امریکی ڈالرز پیشگی فی کس وصول کیے گئے اور انہیں مئی کے آخری ہفتہ میں آنے کو کہا گیا۔

الفقیرا خاندان کے دیگر چار افراد کے ساتھ لاہور میں مقیم اپنے دوست کے گھر پہنچے۔ دو دن کے قیام کے بعد وہ ہسپتال کے چوتھے فلور میں، جو کہ غیرملکیوں کے لیے مختص ہے، منتقل ہوئے۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد لگاتار تین چار دن ان کی پھوپھی اور بھتیجی کے مختلف ٹیسٹ ہوئے۔ تمام ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد 28 مئی کا دن ان کے گردہ ٹرانسپلانٹ کے لئے مقرر کیا گیا لیکن اس سے قبل پولیس نے ڈاکٹر کو گردہ فروشی کے کاروبار کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

الفقیرا نے کہا: ’ہم تقریباً دو ہفتے اسی انتظار میں رہے کہ رہائی کے بعد وہ ڈاکٹر ان کا گردہ ٹرانسپلانٹ کریں گے۔ تاہم ان کی واپسی سے نا امید ہو کر راولپنڈی میں کڈنی سنٹر اور کراچی میں ایس آئی یو ٹی کا دورہ کیا لیکن مطمئن نہ ہو سکے۔ ہمارے دل میں یہ خوف بیٹھ گیا کہ کسی اور جگہ سے یہ ٹرانسپلانٹ کرانے کا نتیجہ کہیں یہ نہ نکلے کہ آپریشن کے بعد پیچیدگیاں (پوسٹ آپریشن کومپلیکیشنز) پیدا ہوجائیں کیونکہ ابھی تک اس ڈاکٹر نے ہمارے تین دوسرے رشتہ داروں کے ٹرانسپلانٹ کیے ہیں، وہ اللہ کے فضل و کرم سے صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔‘

الفقیرا اس بات سے لاعلم ہیں کہ جن افراد کے گردے ان کے رشتہ داروں کو ملنے تھے، ان کو یا تو پیسے نہیں دیے جاتے یا بہت کم۔ تاہم الفقیرا اس امر سے شناسا ہیں کہ انتہائی غربت پاکستانیوں کو اپنے گردے بیچنے کی حد تک محبور کر دیتی ہے۔

 لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن چوہدری تصدق حسین کا کہنا ہےکہ ایجنٹ غریب آدمیوں کو پچاس سے اسی ہزار روپے کے عوض گردہ فروخت کرنے پر راضی کرلیتے ہیں لیکن چند خوش قسمت لوگ ہی دس سے پندرہ ہزار روپے وصول کر پاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک مقامی مریض سے ہسپتال کی انتظامیہ ایک گردہ تبدیل کرنے کا پانچ سے چھ لاکھ روپے وصول کرتی ہے جبکہ غیرملکیوں کے لیے فیس پندرہ سے بیس ہزار امریکی ڈالر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چونکہ لیبیا میں گردہ ٹرانسپلانٹ پر پابندی ہے اس لیے ان کو پاکستان آنا پڑا اور یہ واحد ملک ہے جہاں پر یہ سہولت بآسانی دستیاب ہے۔ ان کے مطابق ہسپتال کی انتظامیہ نے ان کی پیشگی رقم سے چار ہزار امریکی ڈالرز ٹیسٹوں کی فیس کے کاٹے ہیں اور انہیں بتایا ہے کہ وہ جلد ہی ان سے گردہ ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے رابطہ کرے گی۔

الفقیرا کی پھوپھی اور بھتیجی کا، جو مکمل پردہ نشین ہیں، شمار ان بےشمار غیرملکیوں میں ہوتا ہے جو ہر ماہ پاکستان خصوصاً پنجاب میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے لیے آتے ہیں۔

لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن چوہدری تصدق حسین نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ جب فیروز پور روڈ پر واقع ہسپتال پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں تین عرب باشندے موجود تھے جنہوں نے بتایا کہ ان سے سولہ ہزار امریکی ڈالر فی کس وصول کیے گئے ہیں۔

مئی میں ہونے والی اس کارروائی میں دو ہسپتالوں کے مالکوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم ایک ہسپتال کا مالک تاحال مفرور ہے۔ ان کی گرفتاری ان دس لوگوں کی گواہی پر عمل میں آئی جو پنجاب کے مختلف علاقوں سے لاہور روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔

ان میں اعجاز نامی ایک شخص نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس کے ہم نام شخص نے بہتر کام دلوانے کا جھانسا دے کر اپنے کوارٹر واقع کوٹ لکھپت میں نو دوسرے لوگوں کے ساتھ ’قید‘ کر دیا۔ اعجاز اور عبدالطیف جن کا تعلق خانیوال اور اوکاڑہ سے ہے، اپنے گردوں سے محروم ہوگئے جبکہ باقی آٹھ لوگ جن میں کراچی کی پچیس سالہ خاتون صبا ناصر شامل ہے، محفوظ رہے۔

لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن چوہدری تصدق حسین کا کہنا ہے
کہ ایجنٹ غریب آدمیوں کو پچاس سے اسی ہزار روپے کے عوض گردہ فروخت کرنے پر راضی کرلیتے ہیں لیکن چند خوش قسمت لوگ ہی دس سے پندرہ ہزار روپے وصول کر پاتے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایک مقامی مریض سے ہسپتال کی انتظامیہ ایک گردہ تبدیل کرنے کا پانچ سے چھ لاکھ روپے وصول کرتی ہے جبکہ غیرملکیوں کے لیے فیس پندرہ سے بیس ہزار امریکی ڈالر ہے۔

 ڈاکٹر نصراللہ کا کہنا ہے کہ سن 1996 میں انڈیا نے گردوں کی پیوندکاری پر پابندی کا قانون نافذ کیا جس کے تحت کوئی شخص اپنے رشتے داروں کے علاوہ کسی اور سے گردہ نہیں لے سکتا۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے قبل ناکارہ گردوں کے مریض بھارت کا رخ کیا کرتے تھے مگر اب ان کے پاس پاکستان آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اس وقت سے اب تک تقریباً پچاس سے سو غیرملکی اوسطاً ہر ماہ پاکستان آتے ہیں۔
لاہور جنرل ہسپتال کے یورولوجسٹ ڈاکٹر فواد نصراللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اعضاء کی پیوندکاری کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیرملکی ادھر کا رخ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نصراللہ کا کہنا ہے کہ سن 1996 میں انڈیا نے گردوں کی پیوندکاری پر پابندی کا قانون نافذ کیا جس کے تحت کوئی شخص اپنے رشتے داروں کے علاوہ کسی اور سے گردہ نہیں لے سکتا۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے قبل ناکارہ گردوں کے مریض بھارت کا رخ کیا کرتے تھے مگر اب ان کے پاس پاکستان آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اس وقت سے اب تک تقریباً پچاس سے سو غیرملکی اوسطاً ہر ماہ پاکستان آتے ہیں۔

ڈاکٹر نصراللہ نے مشرق وسطیٰ سے زیادہ مریضوں کے آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے کیونکہ وہاں ’کشتے‘ جو جنسی قوت کو بڑھانے کے کام آتے ہیں، کا استعمال زیادہ ہے جس کی وجہ سے گردے ناکارہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر نصراللہ نے مزید بتایا کہ تینوں ہسپتالوں کے خلاف کارروائی اس لیے عمل میں لائی جا سکی کہ وہ لوگ پولیس کے پاس چلے گئے جنہیں ان کے گردوں سے ان کی مرضی کے خلاف محروم کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے گردہ کسی شخص کو دے سکتا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عظیم الدین زاہد نے الزام لگایا کہ اس گھناؤنے کاروبار میں بعض اعلٰی سرکاری عہدے دار شامل ہیں۔

اس کاروبار کو بظاہر روکنے کے لیے جس قانون (انسانی اعضاء کی پیوندکاری کا آرڈیننس سن دو ہزار سات) کا مسودہ وفاقی کابینہ کے پاس منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے جس میں یہ شق موجود ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے گردہ کسی کو بھی دے سکتا ہے۔

ڈاکٹر زاہد کا کہنا ہے اگر یہ قانون اسی طرح نافذ ہوگیا تو پاکستان قانونی طور پر گردوں کی خریدوفروخت کا بازار بن جائے گا۔ اس مسئلے کا حل یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں ڈاکٹروں کا ایک بورڈ دماغی طور پر مردہ قرار دے دے، ان کے گردے ایسے مریضوں کو دیے جا سکیں جنہیں اپنے رشتے داروں میں ’ڈونر‘ نہیں ملتا۔

گردہڈاکٹر اور ڈونر
’مریض ساتھ تھا لیکن پیسے ڈاکٹر سے ملے تھے‘
 گردے گردہ فروشی جاری
غریب صرف ایک لاکھ میں ’عطیہ‘ دینے کوتیار
اعضاء فروشی کیس
بچوں کے قتل کا مقدمہ، پولیس اہلکارگرفتار
گردوں کا پیکٹگردوں کیلیے زبردستی
لاہور میں چار ڈاکٹروں سمیت کئی گرفتار
گردہ بیچنے والا خاندانگردہ دو اور پیسہ لو
مریض زیادہ، گردے کم۔ عارف شمیم کی رپورٹ
خواتین نے گردہ بیچا(فائل فوٹو)گردہ بیچ کر ٹریکٹر
’بتائے بغیر میرا گردہ بیچ کر ٹریکٹر خرید لیا‘
 سونامی متاثرمتاثرین کی حالت زار
سونامی سے متاثرہ غریب اپنا گردہ بیچنے پر مجبور
اسی بارے میں
’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘
15 November, 2004 | پاکستان
گردہ کدھر گیا؟
29 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد