BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 January, 2007, 16:26 GMT 21:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونامی متاثرین گردہ بیچنے پرمجبور

متاثرہ ماہی گیروں کو سمندر سے خاصی دوری پر عارضی کیمپوں میں رکھا گیا ہے
ہندوستان کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں حکومت نے غریب ماہی گیروں کے اپنا گردہ فروخت کرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

حالیہ دنوں میں مقامی اخباروں نے یہ خبر دی تھی کہ دوسال قبل سمندری طوفان سونامی کی تباہی سے متاثرہ افراد اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مجبوراً اپنے گردے فروخت کر رہے ہیں۔

سونامی کی تباہی سے متاثرہ افراد کی آبادکاری کا کام تمل ناڈو میں بہتر رہا ہے لیکن ریاست کے دارالحکومت چنئی میں یہ کام ذرا سست رہا ہے۔

متاثرہ ماہی گیروں کو سمندر سے خاصے فاصلے پر عارضی کیمپوں میں رکھا گیا ہے اور اس وجہ سے ان کو مچھلیاں پکڑنے کے لیے ساحل تک پہچنا مہنگا پڑتا ہے اور اکثر انہیں ماہی گیری کے جہاز بھی نہیں مل پاتے۔

متاثرہ ماہی گیروں کے لیے سمندر کے نزدیک پختہ مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے حالانکہ حکومت نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ متاثرہ افراد کے لیے سمندر کے کنارے جلد از جلد پختہ مکان تعمیر کیے جائیں گے۔

گردے کی قیمت
ایک انسانی گردے کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے لیکن فروخت کرنے والے کو آدھی رقم ہی مل پاتی ہے اور باقی پیسے بیچ والے لے جاتے ہیں۔

بعض خانداندانوں کے مرد طوفان سے معذور ہوچکے ہیں جس کے سبب خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اکیلے ہی جھیلنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وجہ سے ذہنی پریشانیوں کا بھی شکار ہیں۔

انہیں مصائب سے متاثرہ افراد اپنا گردہ فرخت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

چنئی کے ایک کیمپ میں موجود کچھ متاثرہ افراد نے جو اپنا گردہ فروخت کرچکے ہیں اور پھر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اپنی مالی مجبوریوں سے نجات کے لیے گردہ فروخت کرنے کے علاوہ کو‏ئی اور راستہ نہیں ہے۔

علاقےمیں کام کرنے والی ایک رضا کار تنظیم کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اب تک پچاس سے زائد افراد اپنا گردہ فروخت کرچکے ہیں اور یقیناً اس سے زیادہ افراد ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انسانی گردہ
ہندوستان کےقوانین کےمطابق گردے کی فروخت پر پابندی ہے

چنئی کی ضلع میجسٹریٹ آر جیا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ رجحان خطرناک ہے اور وہ بھی ایسے وقت پر جب حکومت متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت غیر قانونی طریقے سےگردے کی فروخت کے معاملے کے بارے میں تفصیلات حاصل کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایسے افراد کے لیے خاص سکیم وضع کی ہے جو سونامی کی تباہی کے سبب اعصابی تناؤ اور ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔

ہندوستان کےقوانین کےمطابق گردے کی فروخت پر پابندی ہے اور صرف نزدیکی رشتہ داروں کے ذریعہ ہی گردہ عطیہ کرنے کی اجازت ہے۔

ماضی میں بھی غربت کے سبب گردہ فروخت کرنےکی خبریں سانے آتی رہی ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ سونامی کے متاثرین کی حالت زار کا یہ پہلو سامنے آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک انسانی گردے کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے لیکن فروخت کرنے والے کو آدھی رقم ہی مل پاتی ہے اور باقی پیسے بیچ والے لے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘
15 November, 2004 | پاکستان
مریض زیادہ ہیں اور گردے کم
09 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد