سونامی متاثرین گردہ بیچنے پرمجبور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں حکومت نے غریب ماہی گیروں کے اپنا گردہ فروخت کرنے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ حالیہ دنوں میں مقامی اخباروں نے یہ خبر دی تھی کہ دوسال قبل سمندری طوفان سونامی کی تباہی سے متاثرہ افراد اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے مجبوراً اپنے گردے فروخت کر رہے ہیں۔ سونامی کی تباہی سے متاثرہ افراد کی آبادکاری کا کام تمل ناڈو میں بہتر رہا ہے لیکن ریاست کے دارالحکومت چنئی میں یہ کام ذرا سست رہا ہے۔ متاثرہ ماہی گیروں کو سمندر سے خاصے فاصلے پر عارضی کیمپوں میں رکھا گیا ہے اور اس وجہ سے ان کو مچھلیاں پکڑنے کے لیے ساحل تک پہچنا مہنگا پڑتا ہے اور اکثر انہیں ماہی گیری کے جہاز بھی نہیں مل پاتے۔ متاثرہ ماہی گیروں کے لیے سمندر کے نزدیک پختہ مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے حالانکہ حکومت نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ متاثرہ افراد کے لیے سمندر کے کنارے جلد از جلد پختہ مکان تعمیر کیے جائیں گے۔
بعض خانداندانوں کے مرد طوفان سے معذور ہوچکے ہیں جس کے سبب خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اکیلے ہی جھیلنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وجہ سے ذہنی پریشانیوں کا بھی شکار ہیں۔ انہیں مصائب سے متاثرہ افراد اپنا گردہ فرخت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ چنئی کے ایک کیمپ میں موجود کچھ متاثرہ افراد نے جو اپنا گردہ فروخت کرچکے ہیں اور پھر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اپنی مالی مجبوریوں سے نجات کے لیے گردہ فروخت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ علاقےمیں کام کرنے والی ایک رضا کار تنظیم کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اب تک پچاس سے زائد افراد اپنا گردہ فروخت کرچکے ہیں اور یقیناً اس سے زیادہ افراد ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
چنئی کی ضلع میجسٹریٹ آر جیا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ رجحان خطرناک ہے اور وہ بھی ایسے وقت پر جب حکومت متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غیر قانونی طریقے سےگردے کی فروخت کے معاملے کے بارے میں تفصیلات حاصل کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایسے افراد کے لیے خاص سکیم وضع کی ہے جو سونامی کی تباہی کے سبب اعصابی تناؤ اور ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ ہندوستان کےقوانین کےمطابق گردے کی فروخت پر پابندی ہے اور صرف نزدیکی رشتہ داروں کے ذریعہ ہی گردہ عطیہ کرنے کی اجازت ہے۔ ماضی میں بھی غربت کے سبب گردہ فروخت کرنےکی خبریں سانے آتی رہی ہیں لیکن یہ پہلی بار ہے کہ سونامی کے متاثرین کی حالت زار کا یہ پہلو سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک انسانی گردے کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے لیکن فروخت کرنے والے کو آدھی رقم ہی مل پاتی ہے اور باقی پیسے بیچ والے لے جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان ’ڈاکٹر گردے کا سودے کرتے ہیں‘26 November, 2004 | پاکستان مریض زیادہ ہیں اور گردے کم09 December, 2004 | پاکستان ’کوئی انہیں مجبور نہیں کرتا‘11 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||