ڈاکٹروں کی ضمانت کی التجا مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی ایک ماتحت عدالت نے ان چار ڈاکٹروں اور ان کے ایک ساتھی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے جنہیں پولیس نے مبینہ طور پر انسانی گردوں کی خرید و فروخت کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ڈاکٹروں کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ لاہور کی فیکٹری ایریا پولیس نے ان کے خلاف دس غریب افراد کے اغوا اور ان میں سے چھ کے گردے زبردستی نکال لینے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ پولیس کاکہنا ہے کہ گردہ سکینڈل کے مزید کرداروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ادھر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن یعنی پی ایم اے نےان ڈاکٹروں کی گرفتار کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے معاملے پر باضابطہ قانون سازی کی جائے تاکہ اس سلسلہ میں ابہام دور ہو اور پولیس ایک معزز پیشہ سے وابستہ افرادکو بلاجواز تنگ نہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ گردوں کی خرید و فروخت کے بارے میں حالیہ سنسنی خیز خبروں کی بنیاد جس عطیہ دہندہ منیر کو بنایا گیا ہے پولیس رپورٹ کے مطابق اس کا گردہ دو بار نکالا گیا جو ڈاکٹر سرور کے بقول ناممکن ہے کیونکہ کوئی شخص دونوں گردوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ پی ایم اے کے رہنما ڈاکٹر سعید الہی نے اعلان کیا کہ اس پولیس کارروائی کے خلاف ڈاکٹروں کی تنظیم وزیر اعلیٰ پنجاب اور پولیس کے حکام کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرے گی۔
پی ایم اے کے قانونی مشیر میاں جاوید اقبال آرائیں نے کہاکہ پاکستان میں انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کے امتناع کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اس صورتحال میں اس الزام کے تحت پولیس کی کارروائی ان کے اختیارات سے تجاوز اور غیرقانونی حرکت ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں نہایت کم قمیت پر انسانی گردہ مل جاتا ہے اور گردہ تبدیلی کے آپریشن کے اخراجات بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ پی ایم اے کے ڈاکٹر سعید الہی نے کہا کہ اس کی وجہ ملک میں انتہا کی غربت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گردہ فروخت کرنے والے زیادہ تر افراد یا تو قرض میں جکڑے بھٹہ مزدور ہوتے ہیں جو اپنا قرض اتارنے کے لیے گردہ فروخت کرتے ہیں یا پھر ایسے لوگ جو مالی پریشانی سے تنگ آکر یہ حرکت کرتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اس کاروبار میں ملوث نہیں ہیں ان کے پاس تو گردہ عطیہ دینے والا اور گردے کا طلبگار آتے ہیں۔ عطیہ دینے والا بیان حلفی جمع کراتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گردہ دے رہا ہے اور ڈاکٹر اپنی فیس لیکر آپریشن کردیتا ہے جو ان کےبقول کوئی غیر قانونی فعل نہیں ہے۔ البتہ ڈاکٹر سعید الہی نے کہا وہ زبردستی گردہ نکالنے کو غیر قانونی اور غیر انسانی حرکت سمجھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں گردے زبردستی نکالنے والا گروہ26 May, 2007 | پاکستان گردوں کی بیماری: جسمانی یا سماجی09 November, 2004 | پاکستان ’قرضے کی وجہ سے گردہ بیچا‘15 November, 2004 | پاکستان گاؤں میں 300 افراد گردے بیچ چکے ہیں19 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||