اعضاءکی تجارت، حکومت کو نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے جنت بن چکا ہے اور حکومت اس کاروبار کو روکنے کے لیے قانون سازی سے کترا رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئےچیف جسٹس نے گردوں کی فروخت سے متعلق انسانی حقوق کے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کیبنٹ ڈویژن اور سیکرٹری صحت کو چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر عدالت میں طلب کر لیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ حکومت انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کو روکنے سے متعلق قانون سازی میں کیوں دیر کر رہی ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ ’ہم تو صرف یہ کہتے ہیں خدارا اپنا کام تو کرو۔‘
گردوں کی خرید و فروخت سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کیبنٹ ڈویژن کے اہلکاروں سے استفسار کیا کہ ابھی تک آرڈیننس جاری کیوں نہیں ہوا ہے جو حکومتی اہلکاروں کے مطابق بالکل تیار ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت جب چاہتی ہے تو ایک گھنٹے میں آرڈیننس جاری کر دیتی ہے، لیکن انسانی حقوق سے متعلق ایک آرڈیننس جاری نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جسے گردے کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاکستان کا رخ کرتا ہے اور کچھ اطلاعات کے مطابق چالیس ہزار ڈالر میں گردہ تبدیل کروا لیتا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے کہا کہ حکومت انسانی اعضاء کی خرید و فروخت روکنے کے لیے مؤثر اقدام نہیں کر رہی ہے۔ کیبنٹ ڈویژن کے ایک اہلکار نے کہا کہ انسانی اعضاء کی خرید و فروخت سے متعلق قانون کا مسودہ بالکل تیار ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسے آرڈیننس کی شکل میں لاگو کر دیا جائے گا۔
جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ کچھ ایسے عناصر جن کا انسانی اعضاء کی خرید و فروخت سے مفاد وابستہ ہے وہ اس قانون کو بننے نہیں دے رہے ہیں۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے کہا کہ عدالت نے صحیح کہا ہے کہ مفاد پرست اس قانون کی راہ میں حائل ہیں۔ سماعت کےدوران چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حکومت یہ قانون متعارف نہیں کرنا چاہتی تو سپریم کورٹ اپنے عدالتی اختیار کے تحت اس حوالے سے قانون لاگو کر دے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں کے تمام مرد اپنا ایک ایک گردہ بیچ چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے بڑے بڑے سیکریٹریٹ ہیں لیکن وہ لوگوں کی فلاح سے متعلق ایک قانون بنانے میں اتنا وقت لے رہی ہے۔ |
اسی بارے میں منافع بخش کاروبار یا مجبوری؟21 June, 2007 | پاکستان ڈاکٹروں کی ضمانت کی التجا مسترد31 May, 2007 | پاکستان ’میرا گردہ بیچ کر ٹریکٹر خرید لیا‘22 February, 2007 | پاکستان ماں کا خط، سپریم کورٹ کا حکم06 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||