BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 11:13 GMT 16:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعضاءکی تجارت، حکومت کو نوٹس

جسٹس افتخار
’حکومت لوگوں کی فلاح سے متعلق قانون جاری کرنے میں تاخیر کر رہی ہے‘
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کرنے والوں کے لیے جنت بن چکا ہے اور حکومت اس کاروبار کو روکنے کے لیے قانون سازی سے کترا رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئےچیف جسٹس نے گردوں کی فروخت سے متعلق انسانی حقوق کے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کیبنٹ ڈویژن اور سیکرٹری صحت کو چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر عدالت میں طلب کر لیا ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ حکومت انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کو روکنے سے متعلق قانون سازی میں کیوں دیر کر رہی ہے۔

چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ ’ہم تو صرف یہ کہتے ہیں خدارا اپنا کام تو کرو۔‘

قانون سازی میں رکاوٹ
 کچھ ایسے عناصر جن کاانسانی اعضاء کی خرید و فروخت سے مفاد وابستہ ہے وہ اس قانون کو بننے نہیں دے رہے ہیں
جسٹس بھگوان داس

گردوں کی خرید و فروخت سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کیبنٹ ڈویژن کے اہلکاروں سے استفسار کیا کہ ابھی تک آرڈیننس جاری کیوں نہیں ہوا ہے جو حکومتی اہلکاروں کے مطابق بالکل تیار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت جب چاہتی ہے تو ایک گھنٹے میں آرڈیننس جاری کر دیتی ہے، لیکن انسانی حقوق سے متعلق ایک آرڈیننس جاری نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جسے گردے کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاکستان کا رخ کرتا ہے اور کچھ اطلاعات کے مطابق چالیس ہزار ڈالر میں گردہ تبدیل کروا لیتا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے کہا کہ حکومت انسانی اعضاء کی خرید و فروخت روکنے کے لیے مؤثر اقدام نہیں کر رہی ہے۔

کیبنٹ ڈویژن کے ایک اہلکار نے کہا کہ انسانی اعضاء کی خرید و فروخت سے متعلق قانون کا مسودہ بالکل تیار ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسے آرڈیننس کی شکل میں لاگو کر دیا جائے گا۔

ایک گاؤں کے تمام مرد اپنا ایک ایک گردہ بیچ چکے ہیں

جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ کچھ ایسے عناصر جن کا انسانی اعضاء کی خرید و فروخت سے مفاد وابستہ ہے وہ اس قانون کو بننے نہیں دے رہے ہیں۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے کہا کہ عدالت نے صحیح کہا ہے کہ مفاد پرست اس قانون کی راہ میں حائل ہیں۔

سماعت کےدوران چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حکومت یہ قانون متعارف نہیں کرنا چاہتی تو سپریم کورٹ اپنے عدالتی اختیار کے تحت اس حوالے سے قانون لاگو کر دے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں کے تمام مرد اپنا ایک ایک گردہ بیچ چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے بڑے بڑے سیکریٹریٹ ہیں لیکن وہ لوگوں کی فلاح سے متعلق ایک قانون بنانے میں اتنا وقت لے رہی ہے۔

 گردے گردہ فروشی جاری
غریب صرف ایک لاکھ میں ’عطیہ‘ دینے کوتیار
گردوں کا پیکٹگردوں کیلیے زبردستی
لاہور میں چار ڈاکٹروں سمیت کئی گرفتار
گردہ5 منٹ میں 20 آدمی
گردہ بیچنے والے تو کئی ہیں پر خریدار کون ہیں؟
گردہ بیچنے والا1، 2، نہیں 300
’گاؤں میں تین سو افراد گردے بیچ چکے ہیں‘
پنجاب کی غریب عورتیںقرضہ اور گردہ
قرضے سے تنگ آ کر گردہ بیچا تھا: نذیراں بی بی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد