اعضاء پیوندکاری، بل اسمبلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے قومی اسمبلی میں جمعہ کو انسانی اعضاء کی تجارت اور پیوندکاری کا بل پیش کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی نے شفائی اغراض کے لیے عضلات اور بافتوں (ٹشوز) کو تبدیل کرنے، ذخیرہ کرنے اور پیوندکاری کا انتظام وضع کرنے کا بل 2007 ایوان میں پیش کیا۔ تاہم بل پر ایوان میں غور کے لیے وقت کا تعین بعد میں ہوگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو اعضاء کی تجارت کو روکنے کے لیے فوری قانون سازی کے حکم کے چند دن بعد ہی وفاقی کابینہ نے ملک میں اس بابت پابندی کے ایک آرڈیننس کی منظوری دی تھی۔ بل کی حاصل کردہ ایک کاپی کے مطابق بغیر اختیار کے پیوندکاری کی غرض سے انسانی عضو کو تبدیل کرنے میں کسی بھی طریقے سے مدد کرنے یا اس کام میں کی معاونت کرنے پر دس سال کی سزائے قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اگر ایسا شخص رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر ہو تو اس کا نام بھی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو مناسب کارروائی کے لیے بھیجا جائے گا۔ بل کی شق بارہ کے تحت جو کوئی اس ایکٹ یا وضع کردہ کسی قاعدے یا اس کے تحت دی گئی رجسٹریشن کی کسی شرط کی خلاف ورزی کرے، جس کے لیے اس ایکٹ میں علیحدہ سے کوئی سزا موجود نہ ہو تو اسے تین سال تک قید یا تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا یا دونوں دی جا سکیں گی۔ قانون کے تحت جرم کے مقدمے کی سماعت مجسٹریٹ درجہ اول سے نیچے کی کوئی عدالت نہیں کر سکے گی۔ اس قانون کے جو اغراض و مقاصد بیان کیے گئے ہیں ان میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں سرجری کے ذریعے پیونکاری بالخصوص گردوں کی پیوندکاری میں کامیابی کی بہتر شرح کی وجہ سے اچھی شہرت کا حامل ملک بتایا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کوگردوں کی سستی منڈی کے طور پر بھی الزام کا سامنا ہے۔ بل میں تسلیم کیا گیا ہے کہ غرباء کی جانب سے گردوں کی فروخت کے واقعات عروج پر ہیں۔ بعض ترقی یافتہ ممالک کے مریض پیوندکاری کے لیے عضلات خریدنے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ ادھر قومی اسمبلی میں آج حزب اختلاف کے اراکین نے ملک کے قبائلی علاقوں میں غیریقینی صورتحال کی وجہ سے میٹرک کے طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے پر بطور احتجاج علامتی واک آؤٹ کیا۔میران شاہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مولانا نیک زمان نے نکتہ اعتراض پر ایوان میں یہ معملہ اٹھایا۔ ان کا موقف تھا کہ باجوڑ سے وزیرستان تک پیدا کردہ خطرناک صورتحال نے ہزاروں کی تعداد میں طلبہ کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے رکن قومی اسمبلی ریاض پیرزادہ نے بعدازاں اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ آج ختم ہونے والے بیالیسویں اجلاس کے دوران حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین کی عدم دلچسپی کا مظہر کورم کی کمی کے باوجود اجلاس جاری رکھنا تھا۔ | اسی بارے میں ماں کا خط، سپریم کورٹ کا حکم06 July, 2006 | پاکستان ڈاکٹروں کی ضمانت کی التجا مسترد31 May, 2007 | پاکستان منافع بخش کاروبار یا مجبوری؟21 June, 2007 | پاکستان گردہ: غیرملکی مریض مشکل میں 27 June, 2007 | پاکستان اعضاءکی تجارت، حکومت کو نوٹس25 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||