متنازعہ گانا، سپریم کورٹ کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے ملک کے معروف پاپ گلوکار ابرار الحق کو ان کے ایک متنازعہ گانے پر عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ ابرار الحق کا متنازعہ گانا ان کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی البم ’نعرہ ساڈہ عشق اے‘ میں شامل ہے جس میں وہ ایک فرضی کردار پروین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’نی پروین! بڑی نمکین اے، اتّوں توں مسکین پر وچوں بڑی شوقین اے۔ ڈھول وجدا وجدا نی آجا ڈھول وجدا ڈھول وجدے دے نال ٹھمکا وی سجدا۔‘ قائم مقام چیف جسٹس نے ایک اردو اخبار میں شائع ہونے والے کالم پر اس گانے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔
کالم نگار کے مطابق طالبہ نے اپنے خط میں شکایت کی تھی کہ اس گانے کے مارکیٹ میں آنے کے بعد کالج میں آنا جانا اس کے لئے بہت مشکل ہوگیا تھا اور وہ جب بھی کالج کی کینٹین کے قریب سے گزرتی تھی لڑکے یہ گانا گانا شروع کردیتے تھے اور اس پر ہنستے تھے۔ جسٹس رانا بھگوان داس نے ابرار الحق کے علاوہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاہم معاملے کے سماعت کی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی ہے۔ ابرار الحق گلوکار بننے سے قبل لاہور کے ایچی سن کالج میں پڑھایا کرتے تھے۔ وہ اب تک اپنے چار البم ریلیز کرچکے ہیں اور ان کے بقول تمام گانے وہ خود ہی لکھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ان کے بعض گانے تنازعے کا شکار رہے ہیں اور ان کا پہلا گانا ’کنے کنے جانا اے بلو دے گھر‘ ہی ان کی مقبولیت کا باعث بنا تھا۔ |
اسی بارے میں پنجابن نہیں ناچےگی 01.01.1970 | صفحۂ اول بلو کے گھر سے صغری ہسپتال تک28.07.2003 | صفحۂ اول ڈیڈو کا ریکارڈ توڑ البم 06 October, 2003 | فن فنکار ابرارالحق کا پانچواں البم ریلیز21 May, 2004 | فن فنکار ایران میں کوئین ایلبم25 August, 2004 | فن فنکار حدیقہ کیانی کا ’رف کٹ‘08 December, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||