سیاہ اور سفید طالبان - ایک ہی سکے کے دو رُخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان پاک جِرگہ ایک متوقع مشترکہ اعلامیے کے ساتھ اختتام کو پہنچا مگر اس اختتامی اجلاس کی ایک اہم بات صدر مشرف کی شرکت اور ان کا خطاب تھا۔ امن جِرگے میں صدر مشرف کی مکمل عدم شرکت سے خطے میں امن کے امکانات پر منفی اثرات مرتب ہوتے۔ اس امر کا ٹھیک ٹھیک تعین بہت مشکل ہے کہ صدر مشرف کو شرکت پر آمادہ کرنے میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے فون نے اپنا کام دکھایا یا افغان صدر کرزئی سے ٹیلی فون پر طویل تبادلہ خیال کا دخل رہا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ جرگے کی مذمت میں صرف دو آوازیں سننے میں آئیں۔ طالبان کے ترجمان نے اسے امریکی سازش قرار دیا اور جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں حِزبِ اختلاف کے قائد فضل الرحمٰٰن نے اسے بےمعنی مشق سے تعبیر کیا۔ دوسری طرف شرکت سے انکار کرنے والوں مدعوئین میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی عمائدین تھے یا پھر کم از کم نو اگست تک صدر مشرف کی شرکت پر سوالیہ نشان موجود تھا۔ امن جرگے کے مخالفین کی اس صف بندی میں صدر مشرف کی موجودگی سے خطے میں نیز بیرونی دنیا میں گہرے شکوک و شبہات پیدا ہونا لازم تھا۔
تاہم یہ اعلان کہ تمام طالبان دہشت گرد نہیں بلکہ افغان معاشرے کا حصہ ہیں جنہیں سیاسی گفت و شنید کی مدد سے افغانستان کے سیاسی اور معاشرتی منظر میں سمونے کی ضرورت ہے دراصل صدر پرویز کے اس نقطۂ نظر کا تسلسل ہے جس کے مطابق طالبان کو اچھے اور برے نیز معتدل اور سخت گیر طالبان کے خانوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی ہیت مقتدرہ نے ایک پیچیدہ حکمتِ عملی اختیار کی جس کے مطابق القاعدہ کے ارکان کو امریکی جذبہ انتقام بجھانے کے لیے قربان کر دیا جائے لیکن طالبان کی ایک قیمتی اثاثے کی طرح حفاظت کی جائے۔ جب نائن الیون کے ردِ عمل کی آگ ٹھنڈی ہو جائے تو طالبان کو افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آنے میں مدد کی جائے تاکہ سٹرٹیجک گہرائی دوبارہ حاصل کی جا سکے۔ تورا بورا کی لڑائی کے فورا بعد کے ہنگامہ پرور دنوں میں یہ خفیہ حکمتِ عملی خاصی مؤثر رہی لیکن جب 2002 میں گرفتار ہو کر امریکہ کے سپرد کیے جانے والے والے 700 قیدیوں میں طالبان کی تعداد بمشکل درجن بھر نکلی تو یہ راز بڑی حد تک فاش ہو گیا۔
ایسی صورت میں طالبان کا یہ سوچنا فطری تھا کہ افغان پہاڑوں میں جا کر امریکی فوج سے مار کھانے کی بجائے پاکستان ہی پر ہاتھ کیوں نہ صاف کیا جائے جبکہ یہاں عوام کے مختلف دھڑوں میں ان کے لیے اچھی خاصی حمایت بھی موجود ہے اور پاکستانی ہیئت مقتدرہ کے کچھ حصے ان کی پشت پناہی پر بھی آمادہ ہیں۔ صدر مشرف کے منصوبے میں حقیقی خلل وہاں پیدا ہوا جہاں انہوں نے فرض کر لیا کہ وہ ’اچھے اور اعتدال پسند‘ طالبان کے نام سے جن عناصر کی اندرونِ ملک اور بیرونی دنیا میں وکالت کر رہے ہیں، یہ اصحاب پاکستانی حکومت سے تعاون پر آمادہ رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ پاکستانی حکومت کے ساتھ تعاون نام نہاد اچھے طالبان کی ضرورت ہے تاہم مفروضہ ’برے‘ طالبان کے ساتھ ان کے رشتے کہیں زیادہ گہرے اور حکمتِ عملی کی بجائے نظریاتی بنیادوں پر استوار ہیں۔ اعتدال پسند طالبان کے نظریاتی ڈانڈے صدر مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز اور دیگر اعلٰی حکام پر متعدد قاتلانہ حملوں کے بعد واضح ہونا شروع ہوگئے تھے تاہم ان کی پوری حقیقت لال مسجد کے واقعات سے کھل کر سامنے آئی جب طالبان کے لاڈلے عناصر نے مشکل صورتِ حال میں حکومت کا کہا ماننے سے صاف انکار کر دیا۔
زیادہ مناسب یہ ہے کہ اچھے یا برے طالبان کی موضوعی بحث سے ہٹ کر بنیادی سوالات پر غور کیا جائے۔ طالبان نے ستمبر 1996 سے لے کر 2001 دسمبر تک افغانستان کے وسیع رقبے پر حکومت کی۔ چھ برس کا یہ عرصہ ان کے فلسفے اور نظریۂ حکومت کی تفہیم میں مدد دے سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے سربراہ اور دسمبر 2001 سے طالبان کے پرجوش حامی قاضی حسین احمد تک طالبان دور حکومت میں ان کے طریقۂ کار کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کر چکے ہیں۔ طالبان کی جانب سے تادمِ تحریر اپنے کسی نقطۂ نظر یا پالیسی پر نظرِ ثانی کا اشارہ سامنے نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا طالبان (اچھے یا برے) کے حامی اپنے پچھواڑے میں ایسی حکومت کی موجودگی پسند کریں گے جو بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دے، دنیا بھر سے لڑائی مول لے اور خود اپنے ہی شہریوں کو یرغمال بنا لے۔ طالبان کی سرپرستی کا تقاضا کرنے والے عناصر کیا اس سلوک کی تائید کرتے ہیں جو طالبان نے اپنے دورِ حکومت میں عورتوں، بچوں، مذہبی اقلیتوں اور عام افغان شہریوں کے ساتھ روا رکھا؟ بدلے ہوئے حالات میں ایک ایسی حکومت پر عالمی برادری کا ردِ عمل کیا ہو گا جو القاعدہ کو اپنی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے فراہم کرے تا کہ اس کے تربیت یافتہ کارکن دنیا بھر میں تباہی پھیلا دیں؟ طالبان کے فلسفۂ سیاست کے ضمن میں مشکل یہ ہے کہ اس سے دنیا بھر میں محاز آرائی کے نقارے پر چوٹ لگتی ہے۔ رستم کیانی کے لفظوں میں صف بندی کے دونوں طرف یکساں تاریکی چھا جاتی ہے۔ ایسے فساد آمیز سیاسی نقطۂ نظر کو رعایات دے کر امن پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس کی تعمیر ہی میں ایسی خرابی ہے کہ زمین تاخت و تاراج ہو جاتی ہے اور آسمان دھواں دھواں ہو جاتا ہے۔ طالبان کو پہلے بھی ایسی دنیاوی امور کی کچھ پرواہ نہیں تھی اور اب تو ان کے پاس زمین بھی نہیں۔ پاکستان کے پاس تو زمین بھی ہے اور 16 کروڑ شہری بھی۔ پاکستان کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں باڑ لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل11 May, 2007 | پاکستان افغانستان کا فوجی حل نہیں: نیٹو08 May, 2007 | پاکستان باجوڑ میں ’طالبان‘ سڑکوں پر 18 June, 2007 | پاکستان ’امریکی اپنا نقصان چھپاتے ہیں‘25 June, 2007 | پاکستان ’حملے حکومتی پالیسی کا ردعمل‘18 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں طالبان کا دعویٰ25 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||