BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 00:10 GMT 05:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل کی سڑکوں پر اکیلا پاکستانی

پاک افغان جرگہ
پاکستانی مندوبین کو صرف ہوٹل اور خیمے کے درمیان آمد و رفت کی اجازت ہے۔

پاک افغان امن جرگے کے پہلے روز جب ہم دن بھر کی محنت کے بعد تھکے ماندے کابل کے انٹرکانٹیننٹل ہوٹل سے (جہاں پاکستانی مشرانوں کو ٹھہرایا گیا ہے) نکلے تو ہوٹل کے راستے میں سکیورٹی والوں نے ہماری گاڑی روکی اور دری زبان میں میرے بی بی سی پشتو اور دری کے ساتھیوں سے کچھ بات کی جس کے بعد ہمیں اجازت مل گئی۔

بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ سکیورٹی والے پوچھ رہے تھے کہ ہم میں سے کوئی پاکستانی تو نہیں۔ میں نے اس بات کو مذاق سمجھا۔ مگر ایک ہمکار نے (کابل میں کوُلیگ یا رفیقِ کار کو یونہی متعارف کرایا جاتا ہے) مجھے آگاہ کیا کہ پاکستانی مندوبین کو صرف ہوٹل اور خیمے کے درمیان آمد و رفت کی اجازت ہے۔

دوسرے روز جرگے کی کارروائی کے خاتمے پر میرے دوسرے ساتھی جلدی چلے گئے اور میں بعض شرکائے جرگہ سے ان کے تاثرات جاننے کے لیے رک گیا۔ کچھ دیر بعد جب تنہا ہوٹل سے نکلا تو راستے میں بنے ناکے پر موجود سکیورٹی والوں کو پہلے ہی کوئی متنبہ کر رہا تھا کہ ایک ’پاکستانی نما‘ تمھاری طرف آ رہا ہے، جانے نہ پائے۔

کابل میں پاکستانی پرچم
 ایک ہمکار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’بڑے عرصے بعد کابل کی سڑکوں پر پاکستانی پرچم نظر آیا ہے۔‘

ناکے پر روک لیا گیا۔ میری شلوار قمیض، اس پر واسکٹ اور پھر پشتو زبان، میرے پاکستانی ہونے کے لیے کافی تھے۔ میرے بتانے پر بھی کہ میں ’جورنالِسٹ‘ ہوں مجھے انتظار کرنے کو کہا گیا۔ کچھ دیر بعد اندر سے پیغام آیا کہ شناختی کارڈ دیکھ چھوڑ دیا جائے۔ جان بچی سو لاکھوں پائے۔۔۔۔

مگر ابھی صعوبتیں ختم نہیں ہوئی تھیں۔ جس مقام سے مجھے ٹیکسی ملی وہ ہوٹل سے کوئی ڈیڑھ میل دور ہے۔ یہ دائرہ پرائیویٹ گاڑی یا پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے علاقہ ممنوعہ ہے۔ جگہ جگہ پولیس والے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اجنبی شہر، سڑک پر اندھیرا، میرا پاکستانی لبادہ، پولیس والوں کی وضاحت کہ بدامنی کے پیش نظر پاکستانی مندوبین کو ہوٹل سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ میں جرگہ مندوب نہیں تھا مگر دل میں ایک وسوسہ سا آکر گزر گیا۔ آیت الکرسی پر ہی قناعت کی۔ ورنہ شاید آپ میری یہ تحریر پڑھنے سے محروم رہ جاتے! ویسے آپس کی بات ہے اس وقت میں خود کو زیادہ صحت مند محسوس کر رہا ہوں کیونکہ ایک تو پیدل چلا اور اس پر خوف کا تڑکا ۔۔۔ کافی کیلوریز برن ہوگئی ہونگی۔

ویسے کابل انٹرنیشل ایئرپورٹ اور جرگہ کے مقام تک راستے بھر میں پاکستانی اور افغانستان کے پرچم ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔ کابل میں پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو سامنے رکھتے ہوئے بات اچھنبے کی ہے۔ ایک ہمکار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’بڑے عرصے بعد کابل کی سڑکوں پر پاکستانی پرچم نظر آیا ہے۔‘

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جو پہلا پاکستانی وفد ایک بین الاقوامی اجلاس میں شریک ہوا تھا وہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بگرام کے فوجی ایئرپورٹ پر، جو امریکہ کے زیرانتظام ہے، پہنچا تھا جہاں سے اسے امریکی گاڑیوں میں اجلاس کے مقام تک لے جایا گیا تھا۔ اجلاس میں بھی وفد نے چپ میں امان پائی تھی۔ صرف ایک پاکستانی افسر نے خود کو ظاہر کرنے کی جسارت کی تھی اور بھی اس لیے کہ مذکورہ پاکستانی افسر ایک تو افغانوں کے لیے اجنبی نہیں تھا اور دوسرے پاکستان مخالف افغان بھی اس کا احترام کرتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ مذکورہ افسر نے پناہ گزینوں کے محکمہ سے وابستگی کے دوران پاکستان میں افغان مہاجرین کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تھا۔

اب سڑکوں پر پاکستانی پرچم کا لہرانا، ایک ہی وقت میں ڈھائی سو سے زیادہ پاکستانیوں کی کابل آمد جن میں کئی سرکاری حکام بھی شامل ہیں، افغان حکام کی طرف سے خوشدلی کا مظاہرہ ۔۔۔ سب بدلتی ہوا کا پتا ہے۔

ویسے مجھے دو ہزار چار کے مقابلے میں ایک اور ہلکی سی تبدیلی بھی محسوس ہوئی۔ تین سال پہلے جب میں صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے یہاں آیا تھا تو ایئرپورٹ کی عمارت پر اس وقت غیرمنتخب صدر حامد کرزئی اور خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کی بڑی بڑی تصاویر پینٹ کی گئی تھیں۔ اس بار یہ تصاویر وہاں نظر نہیں آئیں۔ نہیں جانتا یہ اتفاق ہے یا داخلی سیاست کی بساط پر مہروں کے گھر بدل گئے ہیں۔

اتحادی فوج اور نیٹو دستےاتحادیوں کا جواز
’طافغان شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘
پاک افغان جرگہ پاک افغان جرگہ
تین روزہ گرینڈ امن جرگہ کا آغاز ہوگیا
کابل جرگہ محبوب اور کالی لکیر
پشتون سرحد کو کالی لکیر کہتے ہیں
اسی بارے میں
’ذرا سنبھل کے!‘
09 August, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد