’سول ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکہ کی اتحادی فوج اور نیٹو دستوں کو ان دنوں بین الاقوامی تنظیموں اور صدر حامد کرزئی سمیت متعدد اندرونی و بیرونی حلقوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی سویلین ہلاکتوں کے سبب شدید تنقید کا سامنا ہے۔ نیٹو فوج اور امریکہ کی اتحادی فوج نے چھ جولائی کو ستر طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا لیکن اگلے ہی روز اخبارات کی شہہ سرخیوں میں اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں پینتیس شہری بھی شامل تھے۔ تیس جون کو بھی نیٹو فوج کے ہاتھوں پچاس شہری مارے گئے تھے۔ افغانستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کے ترجمان احمد نادر نادری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سال اب تک اتحادی فوج کے ہاتھوں تین سو شہریوں کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کی اتحادی فوج اور نیٹو دستوں کے کمانڈروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ اس کی ایک وجہ اتحادی اور نیٹو فوج کا افغان حکام کے ساتھ عدم تعاون ہے۔ اس کے علاوہ صدر کرزئی نے اتحادی افواج کو متنبہ کیا کہ اپنی مرضی سے گھروں میں گھس کر تلاشی لینے کا رحجان بھی ناقابل قبول ہے۔ افغانستان میں اتحادی اور نیٹو افواج کا کردار کافی مختلف ہے۔ نیٹو فوج کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان میں امن و امان قائم کرکے ایسا ماحول پیدا کرے جس میں ترقیاتی کام کیے جا سکیں۔ جبکہ امریکہ اور اتحادی فوج کی ذمہ داری القاعدہ کو کھوج نکالنا ہے لیکن اتحادی افواج کی نسبت نیٹو فوج کی افغانستان میں موجودگی زیادہ نمایاں ہے۔
اتحادی فوج کے نزدیک اتنے بڑے پیمانے پر افغان شہریوں کی ہلاکت کی ایک بڑی وجہ طالبان کی حکمت عملی ہے۔ طالبان اکثر حملے شہریوں کے بھیس میں کرتے ہیں یا پھر ایسے مقامات پر حملہ آور ہوتے ہیں جہاں کثیر تعداد میں شہری موجود ہوں۔ اس کی وجہ سے اتحادی افواج کے لیے جنگجوؤں اور شہریوں کے بیچ امتیاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔یوں شہریوں کی ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ شیفر نے حال ہی میں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے نیٹو کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں نیٹو کمانڈروں کو حکم دیا گیا ہے کہ طالبان کے خلاف کاروائی میں جانی نقصان کم کرنے کے لیے کم طاقت کے بم استعمال کیے جائیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے ترجمان علیم صدیقی نےبی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے شہری ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں اور افواج کو سویلین جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے چاہیں۔ اگر دیکھا جائے تو زیادہ تر افغان شہری امریکہ کی اتحادی فوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں لیکن چونکہ نیٹو فوج کی موجودگی زیادہ نمایاں ہے اس لیے عوام دونوں فوجوں میں تفریق نہیں کرتے اور نیٹو کو زیادہ بدنامی کا سامنا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ افغان حکومت اور اتحادی افواج کو بے گناہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں میں کمی کی تدابیر پر غور کرنا ہوگا ورنہ افغانستان میں کسی بھی دن کوئی بھی گاؤں جنوبی ویتنام کا ’مائی لائی‘ بن سکتا ہے جہاں امریکنیوں نے انیس سو اڑسٹھ میں پانچ سو سے زائد بے گناہ اور نہتے کسانوں کو صرف اس بنیاد پر مار ڈالا کہ ان کو اطلاع تھی کہ گاؤں میں جنگجو موجود ہیں۔ | اسی بارے میں ’بمباری سے پچاس شہری زخمی‘03 August, 2007 | آس پاس ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک30 June, 2007 | آس پاس شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش20 June, 2007 | آس پاس نیٹو کا حملہ،’عام شہری ہلاک‘01 May, 2007 | آس پاس افغانستان میں ’آٹھ شہری‘ ہلاک04 March, 2007 | آس پاس افغان شہریوں کی ہلاکت غلطی: نیٹو03 January, 2007 | آس پاس فضائی حملہ: متعدد افغان شہری ہلاک09 May, 2007 | آس پاس فضائی حملہ: 21 افغان شہری ہلاک09 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||