ہلمند: نیٹو حملہ، عام شہری ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب بیرونی افواج کی جانب سے کی گئی بمباری میں زیادہ تر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ علاقے کے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں پچاس سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ نیٹو کی سربراہی میں فوجی دستے آئساف کا کہنا ہے کہ کارروائی ہوئی ہے لیکن انہیں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا کوئی علم نہیں ہے۔ گرشک کے قریب ایک گاؤں سے درجنوں افراد نے بی بی سی کو فون کر کے اس بمباری کی اطلاع دی۔ ان کے مطابق یہ بمباری دو سے تین گھنٹے جاری رہی۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ اس حملے میں پچاس سے اسی شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں اور وہ ان کی لاشوں کو گرشک لا رہے ہیں تا کہ حکام کو دکھا سکیں۔ ہلمند صوبے کے پولیس چیف محمد حسین اندیوال کا کہنا ہے کہ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں لیکن انہوں نے کوئی تعداد نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی افواج نے اس حملے سے پہلے افغان حکام سے کسی بھی قسم کا کوئی مشورہ نہیں کیا۔ آئساف کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ گرشک کے علاقے میں دو دن سے کارروائی جاری ہے جس میں فضائی طاقت اور بمباری کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس کارروائی میں شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں لیکن کسی بھی عام شہری کی ہلاکت ان کے علم میں نہیں ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان، ہلاکتوں پر غُصّہ جائز:نیٹو24 June, 2007 | آس پاس نیٹو کا کردار غیر ذمہ دارانہ: کرزئی23 June, 2007 | آس پاس شہری ہلاک، تفتیش ضروری:نیٹو22 June, 2007 | آس پاس ہلمند فضائی حملہ ’25 شہری ہلاک‘ 22 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||