افغان شہریوں کی ہلاکت غلطی: نیٹو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ 2006 میں افغانستان میں ان کی سب سے بڑی غلطی بےقصور شہریوں کی ہلاکت تھی۔ نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ افواج اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کررہی ہیں جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکت کم کرنا ہے۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ نیٹو نے گزشتہ سال طالبان کے مقابلے میں کافی کم لوگوں کو ہلاک کیا۔ نیٹو کے مطابق گزشتہ سال طالبان نے لگ بھگ 100 خودکش حملے کیے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی گزشتہ ماہ شدت پسند حملوں کو روکنے میں اپنی ناکامی کی بات کرتے ہوئے روپڑے اور انہوں نے اتحادی افواج پر ’ہمارے بچوں کو ہلاک کرنے‘ کا الزام لگایا۔ افغانستان کے جنوب اور مشرق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے ساتھ ہی معصوم شہریوں کی ہلاکت نہ روکنے کی وجہ سے کرزئی حکومت کو شدید دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سن 2001 میں طالبان کے زوال کے بعد سے سب سے زیادہ تشدد گزشتہ سال دیکھنے میں آیا۔
افغانستان میں نیٹو افواج پر طالبان کے خلاف متعدد فوجی کارروائیوں اور مسلح جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام ہے۔ گزشتہ اکتوبر قندھار میں نیٹو کے حملے میں ایک ہی خاندان کے بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کابل میں نیٹو کے ترجمان بریگڈیئر رچرڈ نیوگی نے کہا کہ اتحادی افواج اس سال اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ ایک چیز جو ہم نے غلط کی اور جس کا ازالہ کرنے کی ہم کوشش کررہے ہیں، وہ بےقصور شہریوں کی ہلاکت تھی۔‘ گزشتہ ماہ صدر کرزئی نے نیٹو کے کمانڈروں سے ملاقات کی تھی اور ان پر اندھادھند فائرنگ کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے نیٹو افواج سے اپنی کارروائیوں میں احتیاط برتنے کی اپیل کی تھی۔ افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال طالبان اور نیٹو افواج کی متعدد کارروائیوں میں لگ بھگ 4000 افراد مارے گئے جن میں پچیس فیصد شہری تھے۔ |
اسی بارے میں افغانستان: یہ شدت پسند کون ہیں؟18 August, 2006 | آس پاس نیٹو بمباری: ’درجنوں شہری‘ ہلاک26 October, 2006 | آس پاس کابل: دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک10 October, 2006 | آس پاس جنوبی افغانستان سے نقل مکانی04 October, 2006 | آس پاس تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس باہمی اختلافات دور کریں: بش28 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||