BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 January, 2007, 18:47 GMT 23:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان شہریوں کی ہلاکت غلطی: نیٹو
گزشتہ سال افغانستان میں 4000 افراد ہلاک ہوئے
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کا کہنا ہے کہ 2006 میں افغانستان میں ان کی سب سے بڑی غلطی بےقصور شہریوں کی ہلاکت تھی۔

نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا کہ افواج اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کررہی ہیں جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکت کم کرنا ہے۔

تاہم ترجمان نے کہا کہ نیٹو نے گزشتہ سال طالبان کے مقابلے میں کافی کم لوگوں کو ہلاک کیا۔ نیٹو کے مطابق گزشتہ سال طالبان نے لگ بھگ 100 خودکش حملے کیے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی گزشتہ ماہ شدت پسند حملوں کو روکنے میں اپنی ناکامی کی بات کرتے ہوئے روپڑے اور انہوں نے اتحادی افواج پر ’ہمارے بچوں کو ہلاک کرنے‘ کا الزام لگایا۔

افغانستان کے جنوب اور مشرق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے ساتھ ہی معصوم شہریوں کی ہلاکت نہ روکنے کی وجہ سے کرزئی حکومت کو شدید دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

سن 2001 میں طالبان کے زوال کے بعد سے سب سے زیادہ تشدد گزشتہ سال دیکھنے میں آیا۔

صدر کرزئی نے اتحادی افواج پر اندھادھند فائرنگ کا الزام لگایا ہے
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نیٹو کی افواج اب اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کررہی ہیں اور ان کی کوشش ہوگی کہ طالبان کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے۔

افغانستان میں نیٹو افواج پر طالبان کے خلاف متعدد فوجی کارروائیوں اور مسلح جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام ہے۔ گزشتہ اکتوبر قندھار میں نیٹو کے حملے میں ایک ہی خاندان کے بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کابل میں نیٹو کے ترجمان بریگڈیئر رچرڈ نیوگی نے کہا کہ اتحادی افواج اس سال اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ ایک چیز جو ہم نے غلط کی اور جس کا ازالہ کرنے کی ہم کوشش کررہے ہیں، وہ بےقصور شہریوں کی ہلاکت تھی۔‘

گزشتہ ماہ صدر کرزئی نے نیٹو کے کمانڈروں سے ملاقات کی تھی اور ان پر اندھادھند فائرنگ کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے نیٹو افواج سے اپنی کارروائیوں میں احتیاط برتنے کی اپیل کی تھی۔

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال طالبان اور نیٹو افواج کی متعدد کارروائیوں میں لگ بھگ 4000 افراد مارے گئے جن میں پچیس فیصد شہری تھے۔

 ہلمندافغانستان میں نیٹو
جوانوں اور رسد کی کمی رہی تو کیا ہوگا؟
برطانوی فوج کی گاڑیطالبان کا خاتمہ،
پانچ سال بعد بھی کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟
بھنگ کے پودےبھنگ کے جنگلات
اتحادی فوج کے خلاف افغان جنگوؤں کا حربہ
افغان پولیسزابل، خودکش حملہ
افغان پولیس کے قافلے پر حملے میں 5 افراد ہلاک
مزاحمت کارمزاحمت کا حل کیا؟
امریکی فوجیوں کے لیئے نیا ہدایت نامہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد