 | | | گزشتہ ہفتے ایک حملے میں سات بچے ہلاک ہو گئے تھے |
افغانستان میں کام کرنے والی بین الاقوامی امدادی نتظیموں نے طالبان کے خلاف افغان اور امریکی فوج کی کارروائیوں میں شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چرانوے مختلف بین الاقوامی اور افغان امدادی تنظیموں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ کم از کم دو سو تیس کے قریب شہری نیٹو اور امریکی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس گروہ نے یہ شکایت بھی کی کہ امریکی اور نیٹو افواج ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتی ہیں اور اکثر کارروائیاں غلط معلومات پر کی جاتی ہیں۔ اس گروہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں کارروائیوں میں مصروف فوجیوں کو چاہیے کہ جنگجوؤں اور شہریوں میں تمیز کرنے کی کوشش کریں۔ گزشہ اتوار کو امریکی فوج نے سات بچوں کو غلطی سے ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ یہ بچے ایک مدرسے پر فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ غیر ملکی افواج کا اصرار ہے کہ وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ کسی کارروائی میں شہری ہلاک نہ ہوں مگر ان کا الزام ہے کہ طالبان شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ |