BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 June, 2007, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان میں ایرانی اثر و رسوخ

حیرت
حیرت کا خوبصورت اور قدیم شہر
ایران کے ہمیشہ سے ہی مغربی افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں اور وہاں پر ایران نے کروڑوں ڈالر خرچ کیئے ہیں۔

کابل میں ایرانی سفیر محمد بہرامی کہتے ہیں کہ ’ افغانستان میں مدد فراہم کرنے والوں میں ایران کا اہم کردار ہے‘۔

’ہم یقین رکھتے ہیں کہ تمام بین الاقوامی برادری ایک ہی کشتی میں سوار ہے اور افغانستان میں ہماری منزل ایک ہے‘۔

آج کی اس سیاسی دنیا میں جس ایک منزل کی بات وہ کرتے ہیں کیا وہ مدد سے زیادہ کنٹرول اور اثر و رسوخ تو نہیں؟

اگر امریکہ اور ایران کے مابین نازک تعلقات پر نظر ڈالی جائے تو افغانستان میں کنٹرول حاصل کرنے کی ایک بہت بڑی سیاسی وجہ موجود ہے۔

افغانستان سے ایک بڑی مقدار میں پوست ایران سمگل کی جاتی ہے جو وہاں چار ملین افراد کی نشے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس بارے میں تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ ایران سے افغانستان کیا لے جایا جا رہا ہے۔

مغربی افغانستان کے سرحدی کمانڈر رحمت اللہ صافی نے اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ ’ایران میں موجود ہمارے خفیہ ایجنٹوں سے جو رپورٹیں ہمیں موصول ہوتی ہیں ان کے مطابق ایران سے اسلحہ افغانستان لایا جاتا ہے‘۔

ایرانی سرحد پر تعینات گارڈ دوسری جانب دیکھ رہا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ ہتھیار جو دشمن استعمال کر رہا ہے جیسا کہ بھاری مشین گن، ہینڈ گرنیڈ اور دیگر تباہی بپھیلانے والے ہتھیار، یہ سب آسمان سے نہیں اترتے بلکہ یقیناً یہ سرحد پار سے آ رہے ہیں۔ پاکستان ایک طرح سے یہ سب کھلے عام کر رہا ہے لیکن ایران چھپ کر راز داری سے طالبان یا افغان حکومت کی مخالفوں کی مدد کر رہا ہے‘۔

ہر روز ہونے والے واقعات سے اس بات کے شواہد مل رہے ہیں کہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم اب افغانستان میں بھی آ رہے ہیں۔

خفیہ ذرائع کے مطابق ضروری نہیں کہ ایرانی حکومت اس میں ملوث ہو لیکن ایرانی ایجینسیاں طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہتھیاروں کی نقل و حمل کا سلسلہ جاری ہے۔

قندھار سے قندوز اور بدفشاں سے ہرات تک، غرض یہ کہ ملک کے ہر کونے میں بموں سے افغانی اور بین الاقوامی سکیورٹی سروسز کے کئی فوجی اور پولیس والے اور متعداد شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔

سٹیفن ایونز ایک سال کے لیے افغانستان میں برطانوی سفیر رہے ہیں اور حال ہی میں افغانستان سے جا چکے ہیں۔ وہ ہلمند میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کچھ اس طرح بتاتے ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ گیارہ اپریل کا واقعہ ہے جب جنوبی افغانستان میں طالبان کے ایک کارواں کی جب روک کر تلاشی لی گئی تو ان کے پاس سے ایرانی ساخت کا اسلحہ اور تباہی پھیلانے والے ہتھیار برآمد ہوئے‘۔

’یہ ان کے پاس کہاں سے آئے، کیوں آئے اور کن حالات کے تحت آئے ان سوالوں کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے‘۔

برطانیہ کا پہلے ہی کہنا ہے کہ ایران ’ عراق میں دہشت گردی کی پشت پناہی، اسلحہ کے لیے مالی مدد اور حمایت کر رہا ہے‘ اور برطانیہ نے خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ سب کچھ افغانستان میں بھی ہو سکتا ہے۔

ایرانی سفیر اسلحہ کی فراہمی کے ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔

ایرانی سفیر
ایرانی سفیر اسلحہ کی فراہمی کے ان الزامات کو رد کرتے ہیں۔

ہرات کے خوبصورت اور قدیم شہر کی تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں بھی بیرونی طاقتوں نے افغانستان کو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے اور اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کے لیے استعمال کیا۔

سکندر اعظم اور چنگیز خان یہاں آئے تھے اور 1850 کی دہائی میں برطانوی یہاں ایرانیوں سے لڑے تھے۔

روری سٹورٹ ایک سابق سفارت کار ہیں اور اب افغانستان میں مقیم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’افغانستان اور عراق میں ایرانی حکومت کے مقاصد تقریباً ایک جیسے ہی ہیں اور وہ یہ کہ حالات کو کمزور کر دیا جائے اور امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوج کو ایران کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے روکا جائے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ بہت بڑا کھیل کھیلتے ہیں اور ہمسایہ ممالک میں روایتی دخل اندازی کے ذریعے اپنے قومی مفاد کا دفاع کرتے ہیں‘۔

ہر کوئی اسی راہ پر ہے یہاں تک کہ برطانیہ ، یورپین اور امریکی افواج بھی اپنے مالک میں خود کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے افغانستان میں موجود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا کھیل ہے جو افغانستان میں کھیلا جا رہا ہے۔

جب اس قسم کے سفارتی کھیل کسی دوسرے کی سر زمین پر کھیلے جاتے ہیں تو عوام اس سے متاثر ہوتی ہے اور ان کی زندگیاں کسی اور کی آپس کی جنگ کا نشانہ بنتی ہیں۔

اسی بارے میں
روسی میزائل ایران کے حوالے
23 January, 2007 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد