BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 January, 2007, 02:22 GMT 07:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیورنڈ لائن تسلیم کرنے کا مطالبہ

ڈیورنڈ لائن
غیر پشتونوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر پاکستان کے پشتون علاقے افغانستان کے ساتھ دوبارہ مل گئے تو افغانستان میں پشتونوں کی آبادی مزید بڑھ جائے گی
افغانستان کے شہر مزار شریف کے گورنر نے کہا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد کے طور پر تسلیم کرے۔

یہ بات گورنر عطامحمد نور نے جمعرات کے روز مزارشریف کے گورنر ہاوس میں قبائلی عمائدین کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب کے دوران کی۔علاقے کے تقریباً دوہزار قبائلی مشیران کی شرکت پر مشتمل اجتماع کا مقصد افعانستان میں قیام امن کے لیے کے لیے صلاح مشورہ تھا۔

عطا محمد نور نے کہا کہ افغانستان کے لیے موجودہ صورتحال میں عملی طور پر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے پشتون علاقوں کو دوبارہ حاصل کر کے اپنا حصہ بنا سکے۔

ان کے بقول ڈیورنڈ لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان تنازع ہی افغانستان میں مستقل قیام امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے لہذا افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے اس دعوے سے دستبردار ہوجائے۔

افغانستان میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی اعلی حکومتی اہلکار نے واضح الفاظ میں ڈیورنڈ لائن کے متعلق حکومتی پالیسی کے بارے میں ان خیالات کا اظہارکیا ہے۔

افغانستان کا دعوی ہے کہ پاکستان کے پشتون علاقے انکا حصہ ہیں جو ایک معاہدے کے تحت اٹھارہ سو ترانوے میں انگریزوں کے زیر کنٹرول آئے تھے جبکہ پاکستان ڈیورنڈ لائن کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک مستقل سرحد قرار دے رہا ہے۔

عطامحمد نور کا تعلق پروفیسر برہان الدین کی تنظیم جماعت اسلامی سے ہے اور انکا شمار شمالی اتحاد کے اہم کمانڈروں میں ہوتا ہے۔

افغانستان میں شمالی اتحاد کے زیادہ تر سیاسی قائدین اور دانشور اپنے بحث مباحثوں اور نجی محفلوں میں ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد قرار دینے کی حمایت کرتے ہیں۔

مبصرین کے بقول غیر پشتونوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر پاکستان کے پشتون علاقے افغانستان کے ساتھ دوبارہ مل گئے تو افغانستان میں پشتونوں کی آبادی اور بھی بڑھ جائے گی اور وہ مزیداقلیت میں تبدیل ہوکر افغانستان پر موجود ہ سیاسی کنٹرول کھو دیں گے۔

مزار شریف کےگورنر عطا محمد کے اس بیان پر افغان حکومت کا ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی بارے میں
ڈیورنڈ لائن پر خار دار تار
24 October, 2003 | صفحۂ اول
ڈیورنڈ لائن پھر زندہ
01.01.1970 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد