| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیورنڈ لائن پر خار دار تار
ڈیورنڈ لائن پر خار دار تار بچھا کر پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع سرحد کو واضح کیا جا رہا ہے تاکہ غیر قانونی طور پر سرحد کو عبور نہ کیا جاسکے۔ دونوں مالکوں کے درمیان سرحد پر کوئی واضح لکیر یا نشان موجود نہیں ہے ۔ خار دار تار بچھانے کے پاکستان حکومت کے فیصلے پر سپن بولدک میں سرحدی امور کے افسران نے سخت تنقید کی ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحد پر خار دار تار بچھانا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت جو خار دار تار چیدہ چیدہ مقامات پر بچھائی جا رہی ہے اس کا مقصد سرحد کو واضح کرنا ہے تاکہ کوئی بھی شخص یہ نہ کہے کہ اس نے سرحد غلطی سے عبور کر لی ہے اس کے علاوہ سرحد کے کچھ مقامات پر باڑ بھی بچھائی جا ئے گی جس کا مقصد دہشت گردوں اور سمگلروں کے لیے رکاوٹ پیدا کرنا ہے انھوں نے کہا ہے کہ اس کام کے لیے فنڈز درکار ہوں گے اوراس پر کام جاری ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ سرحد پر خار دار تار بچھانے کے فیصلے پر افغان حکومت کا کیا رد عمل ہے تو انھوں نے کہا ہے کہ اس پر انھیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے اور جہاں تک ان کی معلومات ہیں افغان حکومت نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔ اس بارے میں جب سپن بولدک میں تعینات سرحدی امور کے انچارج عبدرازق سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے خاردار تار بچھانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ سہ فریقی کمیشن میں یہ طے ہوا تھا کہ افغان پاکستان اور امریکی حکام سرحد کا معائنہ کریں گے لیکن پاکستانی حکام نے اپنے تئیں کام شروع کر رکھا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سرحد پر لائن رات کے وقت بچھائی جا رہی ہے اور اس پر کافی تیزی سے کام جاری ہےگ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے افغانستان میں اعلی حکام یہ الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقوں میں اپنی حد سے تجاوز کیا ہے جس کی ایک مثال چمن کے قریب تعمیر ہونے والے دوستی گیٹ کے افتتاح میں تاخیر ہے۔ اس بارے میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کو میجر جنرل صداقت علی شاہ نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے علاقوں میں تجاوز نہیں کیا ہے بلکہ پاکستان نے اپنی زمین باڑ بچھانے کی غرض سے چھوڑ دی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے مابیں سرحد کے حوالے سے تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔ افغانستان پاکستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے مشتبہ طالبان اور القاعدہ کے رکن افغانستان میں تخریبی کاروائیاں کرتے ہیں۔ اب پاکستان نے بھی کھلے عام یہ الزام عائد کرنا شروع کر دیا ہے کہ قندھار میں قائم بھارتی کونسل خانہ پاکستان میں تخریبی کاروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس بارے میں جمعہ کے روز چیف سیکرٹری بلوچستان میجر اشرف ناصر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ بم دھماکوں اور راکٹ فائر کرنے کے واقعات میں قندھار میں قائم بھارتی کونسل خانہ ملوث ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||