’ذرا سنبھل کے!‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے چھ اگست کو کابل پہنچنا تھا۔ خیال تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین نو تاریخ کو شروع ہونے والے پہلے مشترکہ امن جرگے سے قبل ذرا شہر کو دیکھ لوں گا کہ تین برس میں کتنا بدلا ہے۔ مگر قومی ائرلائن کی مہربانی سے ایسا نہیں ہو سکا اور جب اگلے دن پہنچا تو کام کی مصروفیت آڑے آگئی۔ تو اب فقط اتنا شہر ہی دیکھ پایا ہوں جتنا کہ ائرپورٹ سے سرینا ہوٹل، وہاں سے شہرِنو اور پھر انٹرکانٹیننٹل کے راستے میں پڑتا ہے۔ شہر دیکھنے کا اشتیاق مجھے یوں تھا کہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تین سال پہلے میں جس تیزی سے تعمیر ہوتی عمارتوں کو ادھورا چھوڑ کر آیا تھا اب ان کی کیا صورت نکلی ہے۔ میں سال دوہزار چار میں افغانستان کے صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے آیا تھا۔ میں جس ہوٹل میں ٹھہرا ہوں اس وقت صرف اس کا ڈھانچہ کھڑا تھا اور اب ہوٹل کے اندر داخل کے بعد لگتا ہے کہ میں کسی انتہائی ترقی یافتہ ملک کے کسی شاپنگ پلازہ پلس ہوٹل میں مہمان ہوں۔ ہاں مگر ہوٹل کے دروازے سے نکلتے ہی چار سو مسلح گارڈز دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو ’ذرا سنبھل کے!‘ اگرچہ شہر میں تباہ حال خطے زیادہ نظر آتے ہیں پھر بھی آنکھوں کو خیرہ کرنے والے ہوٹل اور شاپنگ پلازا پر نظر پڑ جاتی ہے۔ البتہ مجموعی تاثر ایک مفلس شہر کا ہی ابھرتا ہے۔ مگر میرے خیال میں صورتحال جلد بدل جائے گی۔
ویسے کہتے ہیں کہ کابل ایک زمانہ میں بڑا ماڈرن شہر تھا۔ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر دونوں لحاظ سے! یعنی عمارتیں اور سڑکیں اچھی تھیں اور خواتین کے جدید لباس پہننے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اب کچھ ملا جالا تاثر ہے۔ ٹریفک اگرچہ بے ہنگم ہے البتہ کئی سڑکیں کشادہ ہو چکی ہیں۔ لباس کے معاملے میں بھی کچھ رعایت نظر آتی ہے۔ ہاں شٹل کاک برقعے بھی بعض لوگوں کے نزدیک پسندیدہ لباس ہے۔ امریکی ڈالر یہاں کا مقبول سکہِ رائج الوقت ہے۔ راستے میں کہیں کہیں سے انڈیا کے پرانے گانے بھی سنائی دے جاتے ہیں۔ جس کا مطلب ہوا کہ امریکی موسیقی نے ابھی افغانوں کے دل میں گھر نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں پاک افغان جرگے کا آغاز09 August, 2007 | صفحۂ اول حملے غیرافغانیوں کا کام ہیں: کرزئی09 August, 2007 | آس پاس کابل میں طالبان کا خوف 27 September, 2006 | آس پاس کابل کا حسن30 August, 2006 | آس پاس کابل میں نیا فائیو سٹار ہوٹل08 November, 2005 | آس پاس کابل: غیرملکیوں کی حفاظت سخت 09 March, 2005 | آس پاس صدر جنرل پرویز مشرف کا دورہ کابل06 November, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||