BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 August, 2006, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل کا حسن
جنگ کے دوران کابل کا زیادہ حصہ تباہ و برباد ہو گیا
سترہویں صدی میں شاعر صیب تبریزی نے کابل کی خوبصورتی کو اپنی شاعری میں جیسے بیان کیا تھا اس کی وجہ سے وہ آج بھی زباں زد عام ہے۔
صیب کا کہنا ہے
’میرے گیت ہیں گل لالہ کی کشید
میں اس کے درختوں کے حسن کو دیکھ کر شرما جاتی ہوں
پل بستاں کے نیچے سے پانی ٹھاٹھیں مارتا گزرتا ہے
خدا اس حسن و خوبی کو انسان کی نظر بد سےمحفوظ رکھے‘

مگر اب بہت کم لوگ کابل کی خوبصورتی کو اپنی شاعری میں استعمال کرتے ہیں۔ شیاگان کے خزانے سے زیادہ قیمتی کابل کے سنگریزے اب صرف پتھروں کے ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں۔ کابل کا دریا اب کمزور اور گدلی ندی کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کے بہت سارے درختوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے لیئے کاٹا جا رہا ہے۔

جنگ و جدل اور سابق سوویت انداز کی شہری منصوبہ بندی نے اس افغانی دارالخلافے کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ صیب تبریزی کی اس خوبصورت سرزمین کو 1990 کی دہائی میں مجاہدین نے میدان جنگ بنا دیا جو اس شہر کے لیئے نہایت تباہ کن ثابت ہوا تھا۔

شہر کے بازاروں کی کچھ تعمیر نو نظر تو آرہی ہے مگر عمارتیں اتنی آسانی سے کھڑی نہیں کی جا سکتیں۔ بہت سی عمارتیں تو جیسے زمیں بوس ہونے کے لیئے تیار کھڑی ہیں اور کئی گلیاں ملبے تلے دبی پڑی ہیں۔

 اگر صحیح طریقے سے شہر کی تعمیر نو کی جائے تو بہت سے غیر ملکی سیاح متوجہ ہوں گے۔
کابل کا شہری خلیل اللہ

کابل کے رہائشی خلیل اللہ کا کہنا ہے کہ یہ شہر لڑائی کا مرکز بن گیا تھا۔ ہر روز بیس تیس راکٹ اس کے گھروں پر گرائے جاتے تھے۔ اب پانچ سالہ امن کے بعد لوگ اس شہر کو واپس لوٹ رہے ہیں اور پرانے کابل کے بازاروں میں رونق دکھائی دینے لگی ہے۔

خلیل اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم اپنے گھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری استطاعت نہیں ہےاس لیئے اب یہ تاریخی ورثہ ہیں۔اگر صحیح طریقے سے شہر کی تعمیر نو کی جائے تو بہت سے غیر ملکی سیاح متوجہ ہوں گے۔ خلیل کے مطابق انھیں نئے انداز کی عمارتیں نہیں چاہیئں کیو نکہ یہ پرانی عمارتیں ان کے آباؤ اجداد کا ورثہ ہیں۔

دو تنظیمیں اس شہر کی تعمیر نو میں مدد کر رہی ہیں۔ آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک نامی تنظیم رہائشی علاقے میں کام کر رہی ہے جبکہ ٹرکوائز ماؤنٹین فاؤنڈیشن نے جس کے سربراہ پرنس آف ویلز اور افغانی صدر حامد کرزئی ہیں، دریا کے شمالی کنارے پر کام شروع کیا ہے۔

فاؤنڈیشن چلانے والے روری سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ اب اس کی تعمیر کا کام پراپرٹی ڈیویلپرز کے ہاتھوں میں ہے۔ لاکھوں پناہ گزینوں کی واپسی سے شہر میں زمین کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ نیلی اور سبز شیشےلگی کھڑکیوں والی عمارتیں بڑی تیزی سے تعمیر کی جا رہی ہیں۔

سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ اب لوگ سستا اور کئی منزلہ گھر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جن میں پرانے کابل کی جھلک نظر نہیں آتی ہے۔

نئے منصوبوں میں تاریخی عمارات کو بحال کرنا بھی شامل ہے اور اسی لیئے ایک افغان آرٹس سکول بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ قدیم فن تعمیر کے مطابق بھی کچھ گھر تعمیر کیئے جائیں گے اور اس کے لیئے ہنر مندوں کی نئی نسل کی ضرورت ہے۔

لکڑی کا کام سکھانے والے یوسف صورت گر کا کہنا ہے کہ جنگ نے ہماری ثقافتی روایات اور بہت سے ہنرمندوں کو ہم سے چھین لیا ہے۔

آغا خان کی تنظیم نے سولہویں صدی کے مغل شہنشاہ کے بنائے ہوئے مینار کی تعمیر نو کی ہے اور یہ مقام اب سیر گاہ بن گیا ہے جہاں کابل کے لوگ گھر بھرکے ساتھ پکنک منانے آتے ہیں۔ بابر کے ان باغات کی بحالی بہت لوگوں کے لیئے دلچسپی کا باعث بنی ہے۔

ان پرسکون باغات میں جنوب مشرقی افغانستان کے جھگڑے اور افغانیوں کی حالت زار کو بھولنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ ان باغات کی سیر کو آنے والے اختر کا کہنا ہے کہ یہ مثبت بات ہے اور ایسی پر سکون جگہیں اور بھی ہونی چاہیئں۔

مگر سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ اس ثقافتی ورثے کا ایسا استعمال ان کے لیئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جنگ سے بچ رہنے والے ورثوں میں یہ آخری تاریخی ورثے ہیں اور یہی کابل کی شناخت بھی ہیں چناچہ انھیں پوری طرح محفوظ کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد