حملے غیرافغانیوں کا کام ہیں: کرزئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے سیاسی اور قبائلی عمائدین کے درمیان تین روزہ جرگہ کابل میں شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز کی طرف سے معذرت کے بعد ان کی جگہ وزیرِ اعظم شوکت عزیز افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ جرگے میں موجود ہیں۔ جرگے میں دونوں جانب سے تقریباً سات سو سیاسی و مذہبی رہنما اور قبائلی عمائدین شامل ہو رہے ہیں تاہم طالبان نے اس جرگے سے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس جرگے میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف مشترکہ کوششوں پر غور کیا جائے گا تاکہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر کی جا سکے۔ جرگے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان حملوں کے افغان تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’حملے غیر افغان عناصر کا کام ہیں۔ یہ ان لوگوں کی کارروائیاں ہیں جو افغانستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔ پاکستان اور افغانستان مشترکہ کوشش کے ساتھ خطے میں امن کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ اس امن جرگے کے ذریعے دو ممالک، دو بھائی اور دو ہمسائے قریب آ گئے ہیں‘۔ افغان صدر نے افغانستان میں کوریائی باشندوں کو اغواء کرنے والوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں دنیا بھر میں افغانستان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہیں۔ پاکستانی وزیرِاعظم شوکت عزیز نے اپنے خطاب میں انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’القاعدہ، طالبان اور دیگر انتہا پسندوں کے نظریات سے شدت پسندی، عسکریت پسندی اور فساد کو تقویت ملتی ہے۔ یہ عناصر ناصرف ہمارے معاشروں میں تکلیف، برداشت کی کمی اور جہالت پھیلاتے ہیں بلکہ ہمارے عظیم مذہبِ اسلام کو بھی بدنام کرتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’شرپسند عقائد پاکستان اور افغانستان کا مستقبل نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کو متحد ہو کر پوری قوت اور لگن کے ساتھ انتہا پسند عناصر کا خاتمہ کرنا ہو گا‘۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے پاک افغان جرگے میں شامل نہ ہونے سے اس جرگے کی افادیت کم ہو گئی ہے اور ممکن ہے کہ یہ جرگہ زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو۔ ادھر پاکستانی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف نے اپنے ہم منصب کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جرگے کو کامیاب بنانے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ آج افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے ان تمام شبہات کو مسترد کر دیا کہ جرگے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیئے جا سکیں گے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان شان میکارمیک نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کوشش کرے گی کہ صدر مشرف اس تین روزہ جرگے میں کسی موقع پر شامل ہو سکیں۔ | اسی بارے میں جرگے میں طالبان کی عدم شرکت08 August, 2007 | پاکستان مشرف جرگے میں نہیں جائیں گے08 August, 2007 | پاکستان کابل جرگے کے سامنے کئی سوالات08 August, 2007 | آس پاس اراکین پارلیمان بھی شرکت سے منکر05 August, 2007 | پاکستان پاک افغان لویا جرگہ اگست میں04 May, 2007 | آس پاس سرحد کے آرپار پختونوں کا جرگہ 08 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||