BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 August, 2007, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابل جرگہ: اراکین پارلیمان غیر آمادہ

جرگہ
گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کا ایک قومی جرگہ منعقد ہوا تھا (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پالیمان نے کابل میں پاک افغان مشترکہ امن جرگہ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کی تصدیق وزیرستان، اورکزئی، خیبر اور مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

جنوبی وزیرستان کے سینیٹر صالح شاہ نے بتایا کہ وزیرستان سے کوئی رکن پارلیمان پاک افغان لویا جرگہ میں شرکت نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس جرگے کا اصل فریق طالبان ہیں لیکن انہیں اس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے لہذا اس جرگہ میں شریک ہونا فضول اور بے معنی ہے۔‘

سنیٹیر صالح شاہ کے مطابق وزیرستان کے عمائدین اور مشران پہلے ہی اس جرگے کے بائیکاٹ کا اعلان کر چکے ہیں لہذا ان حالات میں انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ مقامی مشران کی عدم موجودگی میں وہ اس میں شریک ہوں۔

انہوں نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ وزیرستان کے اراکین پارلیمنٹ نے مقامی طالبان کے دباؤ کے باعث جرگہ میں شرکت کرنے سے انکار کیا ہے۔

یادر رہے کہ گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کا ایک قومی جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ اگر وزیرستان کے کسی ملک یا مشر نے پاک افغان امن جرگہ میں شرکت کی تو وہ ان کا دشمن ہوگا۔

 جرگہ وہ ہوتا ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں۔ کابل میں جو جرگہ ہورہا ہے ان میں اصل فریق طالبان دعوت ہی نہیں دی گئی ہے لہذا میں اسے جرگہ نہیں بلکہ سیاسی جلسہ کہوں گا
سینٹر محمد حسین اورکزئی

اورکزئی ایجنسی سے ایوان بالا کے رکن سینٹر میاں محمد حسین اورکزئی نے بتایا کہ ’ جرگہ وہ ہوتا ہے جس میں تمام فریق شامل ہوں۔ کابل میں جو جرگہ ہورہا ہے ان میں اصل فریق طالبان کو دعوت ہی نہیں دی گئی ہے لہذا میں اسے جرگہ نہیں بلکہ سیاسی جلسہ کہوں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس جرگہ میں شریک ہوکر ملک و قوم کا پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

بائیکاٹ کرنے والوں میں چھ ممبران قومی اسمبلی مولانا خلیل الرحمان، مولانا عبد المالک، مولانا معراج الدین، مولانا غلام صادق، مولانا نیک زمان اور مولانا محمد صادق جبکہ چار اراکین سینیٹ میں میاں محمد حسین اورکزئی، حافظ عبد الرشید، صالح شاہ اور مولانا عبد الرشید شامل ہیں۔

ان تمام اراکین کا تعلق شمالی اور جنوبی وزیرستان، اورکزئی، مہمند، باجوڑ اور خیبر قبائلی ایجنسیوں سے ہے جبکہ سیاسی طور پر ان ممبران کا تعلق جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان گروپ سے بتایا جاتا ہے، تاہم بائیکاٹ کرنے والے ممبران کا کہنا تھا کہ جرگہ میں عدم شرکت کا فیصلہ ان کا ذاتی ہے، پارٹی کا نہیں ہے۔

سیاسی طور پر ان ممبران کا تعلق جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان گروپ سے بتایا جاتا ہے

گزشتہ روز شمالی اور جنوبی وزیرستان کے پچاس قبائلی عمائدین نے بھی پشاور میں گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی سے ملاقات کے بعد نو اگست سے کابل میں شروع ہونے والے گرینڈ جرگہ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاک افغان امن جرگہ نو اگست سے کابل میں شروع ہو رہا ہے جو تین دن تک جاری رہے گا۔

مبصرین کے خیال میں اس جرگے کے اہم فریق طالبان کو اس میں شرکت کی دعوت نہ دیکر اس کی کامیابی کی بہت کم امید کی جارہی تھی لیکن قبائلی عمائدین اور اراکین پارلیمان نے بھی اس جرگہ میں عدم شرکت کا اعلان کرکے اس کی کامیابی کی امید مزید کم کردی ہے۔

گرینڈ قبائلی جرگہ’فوج واپس جائے‘
گرینڈ قبائلی جرگے کا منتخب اسمبلی کا مطالبہ
جرگہایجنڈے پر اتفاق
پاک افغان امن جرگہ کے ایجنڈے پر اتفاق ہوگیاہے
جرگہلویا جرگہ کی تیاری
افغانستان میں لویا جرگہ کی روایت قدیم ہے
میر سلیمان داؤد احمد زئیسرداروں کا فورم
بلوچوں کے حقوق کی لڑائی قلات کے جرگے میں
قبائلیجرگہ کی بحالی
رابطوں کی بحالی پر شدت پسندوں کا خیر مقدم
سندھ جرگہوزیر اعلی کی نگرانی
ہائی کورٹ کی پابندی کے باوجود جرگہ، جرمانہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد