BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 June, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اتحادی بزورِطاقت نہیں نکالےجاسکتے‘

جنرل مشرف
’پاک افغان مشترکہ امن جرگے میں قبائل اپنا کردار ادا کریں‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو بزورِ طاقت نہیں نکالا جا سکتا اور جب تک قبائلی علاقوں سے دراندازی بند نہیں ہوتی اور افغانستان کے اندر امن نہیں ہوتا تب تک نیٹو افواج وہاں موجود رہیں گی۔

گورنر ہاؤس پشاور میں منگل کو پاکستان کے سات قبائلی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو سو سے زائد قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ قبائل اپنے علاقے میں موجود غیر ملکی شدت پسندوں کو نکال باہر کریں۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر نے اپنے خطاب کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ قبائلی علاقوں سے بعض افراد سرحد پار کرکے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے خلاف لڑنے جاتے ہیں۔شہاب الدین خان کے مطابق’جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان میں قیام امن اور قبائلی علاقوں سے سرحد پار دراندازی بند نہیں ہوتی تب تک وہاں سے اتحادی افواج کا واپس جانا ممکن نہیں ہوگا‘۔

جنرل پرویز مشرف کا مزید کہنا تھا کہ پاک افغان مشترکہ امن جرگے میں قبائل اپنا کردار ادا کریں تاکہ افغانستان اور خطے میں قیام امن کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل کیا جا سکے اور سیاسی حکمت عملی کے ذریعے نیٹو افواج کا افغانستان سے جانا ممکن ہو سکے۔

 جب تک افغانستان میں قیام امن اور قبائلی علاقوں سے سرحد پار دراندازی بند نہیں ہوتی تب تک وہاں سے اتحادی افواج کا واپس جانا ممکن نہیں ہوگا۔
صدر مشرف

صدر مشرف نے پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں چین اور ترکی سے تعلق رکھنے والے بعض مبینہ شدت پسندوں کی موجودگی کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ قبائلی علاقوں میں سرگرم غیرملکیوں سے کچھ ایسی دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں یورپ اور امریکہ میں حملے کرنے سے متعلق تفصیلات درج تھیں اور بقول ان کے اگر ان منصوبوں کو بروقت ناکام نہیں بنایا جاتا تو گیارہ ستمبر سے بھی بڑا سانحہ رونما ہو نے کا خدشہ تھا جس کا خمیازہ پاکستان ہی کو بھگتنا پڑتا۔

صدر مشرف کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں قبائلی علاقوں پر لگی ہوئی ہیں اور یہاں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے تمام ممالک مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لہٰذا قبائل امن و امان کو یقینی بنائیں تاکہ وہاں ترقیاتی کام شروع کیے جا سکیں۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئےصوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے امن معا ہدے پر ستر فیصد تک عملدرآمد ہو رہا ہے لیکن بقول ان کے بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو اس معاہدے کی ناکامی کے درپے ہیں۔

قبائلی علاقے خیبر ایجسی سے تعلق رکھنے والے ملک وارث خان نے اس موقع پر سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت شمالی وزیرستان میں نیٹو افواج کی جانب سے ہونے والے مبینہ حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے۔

 اس وقت پوری دنیا کی نظریں قبائلی علاقوں پر لگی ہوئی ہیں اور یہاں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے تمام ممالک مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لہٰذا قبائل امن و امان کو یقینی بنائیں تاکہ وہاں ترقیاتی کام شروع کیے جا سکیں۔

دوسری طرف پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بیس میں سے اٹھارہ منتخب اراکین اسمبلی اور شمالی وزیرستان کے چند اہم ملکان نے جرگے سے احتجاجاً بائیکاٹ کیا۔ اراکین پارلیمنٹ کا مؤقف تھا کہ مرکزی حکومت قبائلی علاقوں کے امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل سے متعلق حکمت عملی وضع کرنے کے سلسلے میں فاٹا کے منتخب اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لے رہی ہے ۔

صدر مشرف کے دو روزہ دورے کے دوران فوجی چھاؤنی کے آس پاس تمام شاہراہیں بند کی گئی تھیں اور منگل کو بھی صبح سے شام تک جا بجا ٹریفک جام رہی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید گرمی میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد