پہلے چوکیوں کا خاتمہ پھربات چیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی جرگے نے شمالی وزیرستان میں قائم کردہ حفاظتی چوکیوں کے خاتمے تک مقامی طالبان سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پینتالیس رکنی جرگے میں شامل ملک قادر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے منگل کی صبح صوبہ سرحد کےگورنر سے ملاقات میں واضح کر دیا ہے کہ جب تک حکومت شمالی وزیرستان میں قائم چیک پوسٹوں کو نہیں ہٹاتی تب تک جرگہ طالبان سے مذاکرات کرنے شمالی وزیرستان نہیں جائے گا۔ ملک قادر کے مطابق ’ہم نےگورنر سے کہا کہ پانچ ستمبر کے معاہدے کے مطابق حکومت نئی چیک پوسٹ قائم نہیں کر سکتی لیکن حکومت نے ایسا کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے‘۔ ان کے مطابق انہوں نے گورنر سے کہا ہے کہ اس شرط کو قبول کیے بغیر وہ طالبان سے مذاکرات جاری نہیں رکھ سکتے کیونکہ طالبان کا واحد مطالبہ یہی ہے کہ چیک پوسٹوں کو ہٹایا جائے لہذٰا ایسی صورت میں جرگے کا واپس میران شاہ جانا بےفائدہ ہوگا۔ ملک قادر کا کہنا تھا کہ گورنر نے کہا کہ چیک پوسٹیں ہٹانے کے سلسلے میں وہ بے بس ہیں لہذٰا جرگہ ویسے جا کر طالبان کو معاہدے کی بحالی پر رضامند کرے لیکن بقول ان کے جرگے نے گورنر کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ ملک قادر خان نے بتایا کہ جرگے نے چیک پوسٹوں کو ہٹائے جانے پر غور کرنے کے لیےگورنر کو چار دن کی مہلت دی ہے اور بقول ان کے اگر حکومت نے رضامندی ظاہر کر دی تو جرگہ امن معاہدے کو بحال کرنے کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پینتالیس رکنی جرگے نے میران شاہ میں اپنے چند روزہ قیام کے دوران مقامی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے بعد پیر کو پشاور میں گورنر سرحد کو ملاقات کے دوران صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا اور اسے پروگرام کے مطابق منگل کو طالبان سے مذاکرات کرنے واپس میران شاہ جانا تھا۔ پینتالیس رکنی جرگہ صوبہ سرحد کے گورنر علی جان اورکزئی کی سفارش پر تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے چار اراکینِ قومی اسمبلی مولانا نیک زمان، مولانا معراج الدین، مولانا صالح شاہ اور مولانا عبدالمالک کے علاوہ سابق سینیٹر متین شاہ بھی شامل ہیں۔ جرگے میں شمالی وزیرستان کے پندرہ، جنوبی وزیرستان کے آٹھ، خیبر ایجنسی کا ایک، ،اورکزئی ایجنسی اور جنڈولہ کے دودو، باجوڑ، پارہ چنار، بنوں اور پشاور کے تین تین قبائلی عمائدین شامل ہیں۔ امن جرگے کے انکار کے بعد شمالی وزیرستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان جاری جنگ بندی سے متعلق آخری امید بھی بظاہر دم توڑ گئی ہے جس سے نہ صرف علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر منفی اثر مرتب ہونے کا خدشہ ہے بلکہ قبائلی علاقے میں القاعدہ کے دوبارہ منظم اور شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق امریکہ کے اعلی حکومتی اہلکاروں کے خدشات دور کرنے کی حکومتی کوششیں بھی زائل ہوسکتی ہیں۔ | اسی بارے میں باجوڑ طالبان اور دکانداروں کامعاہدہ23 July, 2007 | پاکستان اب میدانِ جنگ پورا وزیرستان ہو سکتا ہے15 July, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر ایک اور حملہ، سترہ ہلاک18 July, 2007 | پاکستان چوکی پرحملہ، پانچ حملہ آور ہلاک18 July, 2007 | پاکستان ’حکومت وزیرستان معاہدے پر قائم ہے‘16 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان امن معاہدہ ختم15 July, 2007 | پاکستان آپریشن کے بعد سرحد میں فوج13 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||