فوجی قافلے پر ایک اور حملہ، سترہ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے قریب ایک فوجی قافلے پر حملے میں سترہ فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے ہیں۔ میران شاہ کی پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز مدہ خیل کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب لواڑہ منڈی سے میران شاہ آنے والے ایک قافلے پر پہاڑیوں میں چھپے ہوئے مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ انتظامیہ کے مطابق جس جگہ حملہ ہوا وہ افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اس حملے میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔ فوج کے شعبۂ تعلقات ِعامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل وحید ارشد نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملے میں سولہ فوجیوں کے علاوہ حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی فوجیوں کو بنوں کے ملٹری ہسپتال میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں لائے جانے والے مزید ایک فوجی نے دم توڑ دیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے آج خطے میں فوجی اہداف پر ہونے والے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ چشمہ پل اور مدہ خیل کے علاقوں میں ہونے والے حملے طالبان جنگجوؤں کی کارروائی تھی۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ چشمہ پل پر چار گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی جبکہ مدہ خیل کے علاقے میں کافی بڑے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس سے چھ گاڑیاں تباہ اور ان میں بیٹھے ہوئے فوجی ہلاک ہوگئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی کارروائیاں جاری رہیں گی البتہ انہوں نے اپنے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ یاد رہے کہ چشمہ پل پر ہونے والے دھماکے میں میران شاہ سے بنوں جانے والا چار گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی چشمہ پل کے قریب ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی۔ اس دھماکے کے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار زخمی ہوگیا۔ دریں اثناء پولیٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ہی میر علی کے مقام پر ایک حفاظتی چوکی پر حملہ کیا گیا اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر وزارت داخلہ کی جانب سے حکام کو جاری کیے گئے ایک سرکاری حکم نامے میں مطلع کیا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نے پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے مولوی غنم زر کے ہمراہ سات یا آٹھ افراد دتہ خیل سے روانہ کیے ہیں۔ بی بی سی کو ملنے والی سرکاری دستاویز کے مطابق انہیں روانہ کرنے کا فیصلہ مقامی طالبان کے ساٹھ افراد ایک اجلاس میں ہوا تھا جس میں مولوی گل بہادر اور مولوی شربت کھدرخیل نے شرکت کی تھی۔ سرکاری دستاویز کے مطابق غنم زرگروپ ماضی میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ تاہم طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے اس خبر کو بےبنیاد قرار دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرنے کے لیے انہیں وزیرستان سے افراد روانہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ |
اسی بارے میں چوکی پرحملہ، پانچ حملہ آور ہلاک18 July, 2007 | پاکستان دو ہفتوں کے دوران آٹھ خود کش حملے18 July, 2007 | پاکستان فوجیوں سمیت پانچ افراد ہلاک17 July, 2007 | پاکستان ’حکومت وزیرستان معاہدے پر قائم ہے‘16 July, 2007 | پاکستان وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک16 January, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان امن معاہدہ ختم15 July, 2007 | پاکستان خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک14 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||