BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 13:51 GMT 18:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان کی حملوں سے لاتعلقی‘

نامعلوم افراد
’طالبان نے کہا کہ سڑکوں پر گھومنے والے نقاب پوشوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں‘
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ماموند قبیلے کے مشران نے مقامی طالبان سے امن معاہدے کے بارے میں مذاکرات کا پہلہ دور مکمل کرلیا ہے۔

جرگے میں شامل ایک رکن دفتر خان نے جمعہ کے روز بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ امن کمیٹی کے سربراہ ملک عبد العزیز کی سربراہی میں ماموند قبیلے کے تیس مشران پر مشتمل ایک جرگہ نےگزشتہ شام طالبان کی شوری کے ممبران سے ملاقات کی اور حکومت اور قبائل کے درمیان چار ماہ قبل طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مقامی’مجاہدین‘ سے تفصیلاً بات چیت کی۔

جرگہ کے رکن کے مطابق طالبان نے جرگہ کو باور کرایا کہ باجوڑ میں حکومتی اہلکاروں اور چیک پوسٹوں پر ہونے والوں حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر گھومنے والے مشکوک نقاب پوشوں سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کے خلاف حکومتی کارروائی پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

طالبان کی جانب سے مذاکرات میں شوری کے ممبران مولانا سید محمد، سالار مسعود، کمانڈر جان ولی عرف شینہ، مولانا عبد الحمید اور قاری غلام سید نے حصہ لیا جبکہ طالبان کے سربراہ مولوی فقیر اس موقع پر موجود نہیں تھے تاہم شوری اراکین ان سے وقتاً فوقتاً وائرلیس پر رابط کرتے رہے۔

دفتر خان کے مطابق ماموند قبیلے کے مشران نے طالبان سے مذاکرات کا پہلا دور مکمل کرلیا ہے اور اسی طرح دیگر تحصیلوں کے اقوام بھی اپنے اپنے علاقوں میں مقامی جنگجوؤں سے بات چیت مکمل کر کے پیر کو گرینڈ جرگہ کے سامنے رپورٹ پیش کریں گے۔

گزشتہ روز صدر مقام خار میں باجوڑ کے تمام اقوام کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں طالبان سے علاقے میں امن کے قیام کے حوالے سے مذاکرات کے لئے ایک سو تیس رکنی جرگہ تشکیل دیا گیا تھا جس میں اراکین پارلیمنٹ اور ایجنسی کونسلروں بھی شامل ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ طالبان امن معاہدے کی خلاف ورزی کر کے سرکاری اہلکاروں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ طالبان ان حملوں سے کئی بار لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔

ادھر قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں خود کو طالبان کہنے والے مسلح افراد نے جنگ آزادی کے ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور ملحقہ مسجد پر قبضہ جمعہ کو چھٹے روز بھی برقرار رکھا۔

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مزار اور مسجد پر پہرہ دینے والے نقاب پوش ہٹا دیئے گئے ہیں تاہم مسلح افراد اس احاطے میں بدستور موجود ہیں۔

دوسری طرف پولیٹکل انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلح افراد نے آئندہ دو دنوں تک مسجد اور مزار خالی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

گزشتہ اتوار کو ستر کے قریب مسلح افراد نے حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور مسجد پر قبضہ کرکے وہاں لال مسجد کا بورڈ لگا دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد