BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان سےبات چیت کے لیےقبائلی جرگہ

فائل فوٹو
خار کے گرینڈ جرگہ میں تقریباً پانچ سو قبائلی مشران، اراکین پارلمینٹ اور ایجنسی کونسلرز نے شرکت کی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مختلف قبائل پر مشتمل ایک سو تیس 130 رکنی گرینڈ جرگہ تشکیل دیا گیا ہے جو علاقے میں امن وامان کی بحالی کے لئے مقامی طالبان سے بات چیت کریگا۔

باجوڑ کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کے روز صدر مقام خار میں باجوڑ کے تمام اقوام کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں تقریباً پانچ سو قبائلی مشران، اراکین پارلمینٹ اور ایجنسی کونسلرز نے شرکت کی۔

جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر قبائلی مشران مقامی طالبان کے نمائندوں سے علاقے میں امن کے قیام اور امن معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے حوالے سے بات چیت کرینگے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگہ سے خطاب میں پولیٹکل ایجنٹ شفیر اللہ خان نے خبردار کیا کہ اگر جرگہ ناکام ہوا تو علاقے میں امن کے قیام کےلئے سخت اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کے باوجود باجوڑ میں سرکاری اہلکاروں کونشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ حکومتی چیک پوسٹوں پر بھی حملے کئے جارہے ہیں۔

جرگہ میں شامل رکن قومی اسمبلی مولوی محمد صادق نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ میں اس بات پر تفصیل سے بات ہوئی کے باجوڑ ایجنسی میں سرکاری اہلکاروں اور پوسٹوں پرجاری حملوں میں کون لوگ ملوث ہیں۔ ان کے بقول طالبان ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرگہ ایک ہفتے کے اندر طالبان کے نمائندوں سے بات چیت مکمل کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کریگا۔

واضح رہے کہ تقریباً چار ماہ قبل باجوڑ میں حکومت اور مقامی قبائل کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا تھا جس میں قبائل نے غیر ملکیوں کو پناہ نہ دینے اور علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے میں حکومت کو تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ برس القاعدہ اور طالبان کے شبہہ میں امریکی اور پاکستانی فوج نے دو بڑی کارروائیاں کی تھیں۔ جنوری میں تین مکانات پر امریکی حملے میں تیرہ جبکہ اکتوبر میں ایک مدرسے پر پاکستانی حملے میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد سے علاقے میں امن وامان کی صورتحال خراب رہی ہے۔

چند روز قبل بھی باجوڑ میں ایف سی کے دو اہلکاروں کی لاشیں ملی تھیں جبکہ رات کے وقت سرکاری چیک پوسٹوں پر حملے معمول بن چکا ہے۔

اسی بارے میں
لوگ جھوٹ بولتے ہیں: مشرف
31 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد