بلوچستان: فوج کی مشروط امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں قبائلی معتبرین نےکہا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے انہیں اختیارات مل جائیں تو وہ افغان سرحد پر طالبان سمیت دیگر دہشت گردوں کی راہ روکنے میں پاک فوج کی مدد کرسکتے ہیں۔ اس کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ میں پاک فوج کے اکتالیس گیریزن کے زیر اہتمام ایک قبائلی جرگے میں شرکت کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ یہ جرگہ فوجی قیادت نے چماؤلنگ میں حمزہ زئی قبائل کے باہمی اختلافات ختم کرانےکے لیے کوئٹہ کینٹ میں بلایا تھا۔ جرگے میں تین سو سے زیادہ قبائلی معتبرین نے شرکت کی جن میں اکثر کا تعلق افغانستان سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں ژوب توبہ اچکزئی، قلعہ سیف اللہ، چمن اور چاغی سے تھا۔ چماؤلنگ کوئلے کے وسیع ذخائر کا علاقہ ہے۔ اس موقع پر کور کمانڈر بلوچستان لیفٹینٹ جنرل خالد شمیم واہن نے خطاب میں کہا کہ چماؤلنگ میں کوئلہ اور دیگر معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کیلیے علاقے میں امن ضروری ہے اور پاک فوج نے چماؤلنگ میں مثالی امن قائم کیا ہے جہاں ماضی میں فراری کیمپ اوردہشت گردوں کے اڈے ہوا کرتےتھے۔ ان قبائل کے اس مطالبے پرکہ پشتون علاقوں میں بھی حکومت کو اُس طرح کے میگا پروجیکٹس شروع کرنے چاہیں جس طرح بلوچ علاقوں میں جاری ہیں۔ اس کے جواب میں بلوچستان میں فوج کے سربراہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مری اور لونی قبائل کی طرح بارکھان میختر اور موسیٰ خیل جیسے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی ترقی کے لیے بھی جلد ہی ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کرے گی۔
قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اکتالیس ڈویژن کمانڈنٹ میجر جنرل محمد فاروق نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ فوج کی مداخلت کی وجہ سے نہ صرف مری بلوچ اور لونی پشتون قبائل کے درمیان چماؤلنگ کے ذخائر پر پینتیس سال بعد وہ قبائلی جھگڑا ختم ہوا ہے جس میں دونوں جانب سے درجنوں لوگ مارے گئے تھے۔ چماؤلنگ میں قیام امن کے بعد کوئلہ نکالنےکا کام بھی شروع ہو جائے گا جس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگی بدل جائے گی۔ تقریب کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے سردار اعظم کیبزئی نے کہا کہ پاک فوج نے علاقائی جھگڑوں کوختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سب کچھ فوج اپنے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے کررہی ہے۔ ژوب سےتعلق رکھنے والے ایک قبائلی معتبرستار کاکڑ نے کہا کہ پشتون قوم تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے آپس میں لڑائی ہے۔ قبائلی معتبرین کی ناکامی کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں اب فوج نے ان جھگڑوں کوحل کرنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ بلوچستان کے سرحدی قبائلی جرگہ کے سربراہ اخوندزادہ محمد علی نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بلوچستان کے تیرہ سو کلومیٹر طویل سرحد پر آباد قبائل کو جب تک مزید قانونی اختیاراات نہیں دیے جاتے اس وقت تک ان کے لیے مشکوک افراد پر نظر رکھنا ایک مشکل عمل ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں اخوند زادہ نے کہا کہ بلوچستان میں قبائلی نظام مضبوط ہے اس لیے یہاں غیرملکی دہشت گردوں کو پناہ کی جگہ نہیں مل سکتی ہے۔
پشین توبہ کاکڑی سے تعلق رکھنے والے احمدخان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں 20 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی کی وجہ سے طالبان اور دیگرافراد کی افغانستان اور پاکستان کے درمیان آمد و رفت کو بند نہیں کیا جاسکتا ہے اگرچہ حکومت نے افغان سرحد پر فورسز تعنیات کی ہیں مگر لوگوں کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود سرحد پر رہنے والے قبائل کی مشکوک افراد پرکڑی نگاہ ہے۔ چماؤلنگ جہاں حکومت کے بقول دو ہزار ارب روپے مالیت کا کوئلہ اور دیگر معدنیات موجود ہیں اور انہیں نکالنے کی مری قبیلے کے سربراہ نواب خیربخش مری سمیت دیگر قوم پرست رہنما کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا موقف ہے کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کوصرف پنجاب کے کارخانوں کے لیے استمال میں لایا جا رہا ہے اس کا بلوچستان کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے، بالکل اسی طرح جیسے گیس کے ذخائر پر وفاق اور دوسرے صوبوں کا کنڑول ہے۔ | اسی بارے میں سوات پر جرگے کی تشکیل کا اعلان16 July, 2007 | پاکستان ’غیر ملکیوں کو نکال باہر کریں‘24 June, 2007 | پاکستان فوج جائے، منتخب اسمبلی آئے: جرگہ14 June, 2007 | پاکستان ’ناجائز جنسی تعلقات‘ پر چار کو سزائے موت04 June, 2007 | پاکستان پاک افغان جرگہ کمیشن کا اجلاس01 June, 2007 | پاکستان لویا جرگہ کی تیاری کے لیے مذاکرات31 May, 2007 | پاکستان پاک افغان جرگہ: دوسرا دور شروع03 May, 2007 | پاکستان ’کارروائی ہوئی تو جان دیں گے‘08 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||