پاک افغان جرگہ: دوسرا دور شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سرحد کے آر پار لویہ جرگہ بلانے کی خاطر قائم پاک افغان جرگہ کمیشن کا دوسرا دور جمعرات کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شروع ہوگیا ہے۔ افغانستان کے وزارت اطلاعات کے ایک اعلی اہلکار آصف ننگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا سرحد کے دونوں جانب لویہ جرگہ بلانے کے لیے تاریخ اور مقام کا تعین کرناہے تاہم دونوں ممالک کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی بات چیت ہوگی۔ آصف ننگ کے مطابق پندرہ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ جبکہ بائیس رکنی افغان وفد کی قیادت افغان جرگہ کمیشن کے سربراہ پیر سید احمد گیلانی کر رہے ہیں۔ پاک افغان جرگہ کمیشن کا اجلاس ایسے وقت ہورہا ہے جب چند روز قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور افغان صدرحامد کرزئی نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور دراندازی روکنے سے متعلق ایک ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا تھا۔
گزشتہ سال ستمبرمیں افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن میں صدر بش کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ پر ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سرحد کے آر پار شدت پسندوں کی نقل وحرکت روکنے اور قیام امن کے لیے ایک جرگہ بلایا جائے گا۔ افغانستان اور پاکستان نے اس سلسلے میں دو جرگہ کمشن تشکیل دیئے ہیں۔ دونوں ممالک کے قائم کردہ کمیشنوں کا پہلا اجلاس بارہ مارچ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا تھا۔ افغانستان میں جرگہ سے متعلق تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں اور حکومت نےجرگے کے انعقاد کے سلسلے میں صوبوں کی سطح پر قبائلی عمائدین اور دیگر بااثر شخصیات سے رابطے تیز کردیئے ہیں۔ افغان حکومت کو شکایت رہی ہے کہ پاکستان جرگہ بلانے میں سنجیدہ نہیں ہے اور اس سلسلے میں تاخیر سے کام لیا جارہا ہے جبکہ پاکستان نے بارہا کہا ہے کہ افغانستان میں مستقل قیام امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ افعانستان میں اتحادی افواج کے ساتھ برسر پیکار طالبان نے جرگے کے انعقاد کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان پہلے ہی قبائلی جرگے کے ذریعے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے کر چکا ہے جس پر بعض امریکی اہلکاروں کے علاوہ مغربی میڈیا نے شدید تنقید کی ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ معاہدے کی وجہ سے علاقے میں امن لوٹ آیا ہے اور شدت پسندوں کو تنہا کردیا گیا ہے۔ کابل میں جاری اجلاس جمعہ کو ختم ہوگا اور امید کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے اہلکار جرگہ بلانے کے خدوخال،تاریخ اور مقام کے تعین پر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ |
اسی بارے میں پاک افغان جرگہ کا اجلاس شروع12 March, 2007 | پاکستان ’قبائلی جرگہ ایک چال ہے‘29 December, 2006 | آس پاس دراندازی سے تنگ آچکے ہیں: کرزئی08 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||