’قبائلی جرگہ ایک چال ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے مفرور رہنما ملا عمر نے ایک پیغام میں پاک افغان رہنماؤں پر مشتمل قبائلی جرگہ کے قیام کی تجویز کو ایک ’چال‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ کئی خبررساں ایجنسیوں پر نشر ہونے والے ملا عمر کے تازہ پیغام میں طالبان کی جانب سے کبھی شکست تسلیم نہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی مسلمان بھی کٹھ پتلی اور غاصبوں کی اس کوشش میں حصہ دار نہیں بنےگا۔ عیدالاضحیٰ سے قبل اپنے جاری ہونے والے اس پیغام میں ملا عمر کا کہنا تھا کہ دشمن شرمندہ اور بے عزت ہو کر اس خطے سے نکلے گا۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں نے طالبان کے حملوں کو روکنے کے لیے پاک افغان رہنماؤں پر مشتمل قبائلی کونسل کے قیام پر بات کی ہے۔ افغانستان نے پاکستان پرالزام لگایا ہے کہ طالبان اس کی طرف سے کارروائیاں کر رہے ہیں تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ و مزاحمت کاروں کی کارروائیاں روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ محمود قصوری کے دسمبر میں دورہ کابل کے موقع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ایک قبائلی کونسل یا جرگہ بنانے کی تجویز زیر بحث آئی تھی جس میں سرحد کے دونوں اطراف رہنے والے پشتون بھی شامل ہوں۔ تاہم اس کے بعد سے اب تک دونوں اطراف اس جرگے کی تشکیل سے متعلق کوئی خاص سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ افغان پولیس کا کہنا ہے کہ ملا عمر کاپیغام جاری ہونے سے تھوڑی دیر قبل نیٹو اور افغان فوجیوں نے افغانستان کے مشرقی صوبے خوست کی ایک پولیس چوکی پر حملہ کرنے والے دس مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ افغانستان میں نومبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملا عمر روپوش ہیں اور ان کے سر کی قیمت دس ملین امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ملا عمر کا ’جہاد‘ کا نیا اعلان31 January, 2004 | آس پاس ملا عمرکو معافی کی پیشکش09 May, 2005 | آس پاس ’اسامہ اور ملا عمر زندہ ہیں‘15 June, 2005 | آس پاس شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں: ملا عمر25 July, 2005 | آس پاس ملا عمر کو رابطے کی پیشکش09 January, 2006 | آس پاس اب ’ملا عمر‘ کا ٹیپ جاری25 June, 2006 | آس پاس تشدد میں اضافہ ہوگا:ملا عمر 23 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||