طالبان کا جنگ بندی سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت کی جانب سے بھیجے جانے والے جرگے سے رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت سے امن معاہدے کی شرائط پوری کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے۔ تاہم طالبان نے ابھی جنگ بندی کے اعلان سے انکار کیا ہے۔ ادھر جرگے کے اراکین نے صدر مقام میران شاہ سے واپسی پر گورنر سرحد لیفٹنٹ جنرل (ر) علی جان اورکزئی سے پشاور میں ملاقات کی اور شدت پسندوں کی قیادت کا پیغام پہنچایا ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جرگے سے طالبان قیادت کے رابطے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی جنگ بندی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق ان کی عسکری کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ حملے دوسلی کے علاقے میں کیے گئے۔ ان کا دعوی تھا کہ دوسلی قلعے کے اردگرد فوجی چوکیوں پر قبضے کے بعد انہیں نذر آتش کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے جانے کے بعد فوجی جب قریب آئے تو پہلے سے نصب شدہ بارودی سرنگ کے دھماکے سے ایک ٹرک تباہ ہوگیا۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق اس دھماکے میں چار فوجی زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد عبدالحئی غازی کا کہنا تھا کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے اردگرد کے مکانات پر حملے کیے جن سے کئی بچے اور عورتیں زخمی جبکہ گھر کا مالک ہلاک ہوگیا۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج نے اس علاقے کی سڑک بند کر دی جس سے عام لوگوں کو کافی تکلیف ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مکان کے باہر کھڑی گاڑی کو طالبان کی گاڑی سمجھتے ہوئے تباہ کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صحافیوں کو وہ مکان اور علاقہ دکھانے کو تیار ہیں تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ یہ مکان عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا تھا یا نہیں۔ عبدالحئی کا کہنا تھا کہ فوج ظلم میں جتنی شدت لائے گی وہ اپنے حملوں میں تیزی لائیں گے۔ انہوں نے ایک روز قبل غلام خان کے علاقے میں بڑی تعداد میں شدت پسندوں کے مارے جانے کے سرکاری دعوے کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ جو گاڑی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنی وہ عام مسافر گاڑی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں اس گاڑی کو فوجیوں نے نذر آتش کر دیا تھا۔ عبدالحئی کا کہنا تھا کہ فوجی اتنے خوفزدہ ہیں کہ کسی ہلکے سے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔ مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم کہ جرگہ کب حکام سے بات چیت کے بعد واپس لوٹے گا۔ |
اسی بارے میں باجوڑ طالبان اور دکانداروں کامعاہدہ23 July, 2007 | پاکستان طالبان کی مزید حملوں کی دھمکی22 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان کے طالبان کا دعویٰ13 July, 2007 | پاکستان حکومت کو طالبان کا انتباہ11 July, 2007 | پاکستان حکومت وضاحت کرے: طالبان07 July, 2007 | پاکستان طالبانائزیشن، مشرف کو انتباہ30 June, 2007 | پاکستان باجوڑ میں ’طالبان‘ سڑکوں پر 18 June, 2007 | پاکستان باجوڑ ہلاکتوں سے تعلق نہیں: طالبان03 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||