BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 July, 2007, 19:33 GMT 00:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان کے طالبان کا دعویٰ

وزیرستان میں فوج: فائل فوٹو
شمالی وزیرستان میں طالبان کی جانب سے حکومت کو فوجی چوکیاں ختم نہ کرنے کے معاملے پر دی گئی ڈیڈ لائن سے حالات غیر یقینی ہوگئے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے طالبان کا دعویٰ ہے کہ دو روز بعد یعنی پندرہ جولائی کو ڈیڈلائن کے خاتمے پر اگر جنگ کی ضرورت پڑی تو اس میں جنوبی وزیرستان کے قبائل بھی ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔

اس کے علاوہ مقامی طالبان نے واضع کیا کہ ہے گوریلا کارروائیوں کے علاوہ قبائلیوں پر حکومت سے رابطوں اور تعاون جیسی کئی پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔

شمالی وزیرستان میں طالبان کی جانب سے حکومت کو فوجی چوکیاں ختم نہ کرنے کے معاملے پر دی گئی ڈیڈ لائن سے ایک مرتبہ پھر حالات غیر یقینی ہوگئے ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے ستمبر میں طے پانے والے امن معاہدے کو بچانے کی کوشش نہ کی گئی تو حالات کافی سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

مقامی طالبان کے سربراہ عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڈلائن کے اعلان کے باوجود حکومت کی جانب سے ان سے رابطے کی ابھی تک کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔

جنوبی وزیرستان
جنوبی وزیرستان کے قبائل کی طالبان کے لیے حمایت حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے

مقامی طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف راستوں پر بیس سے پچیس نئی چوکیاں قائم کی ہیں جن پر فوجی اور فرنٹئر کور ملیشیا تعینات کیئے ہیں۔ انہوں نے ان چوکیوں کے فوراً خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان سے قبائلی شدید مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پندرہ جولائی کے بعد گوریلا جنگ کے علاوہ مقامی قبائلیوں پر ایک مرتبہ پھر حکومت سے رابطوں پر پابندی ہوگی، خاصہ داروں سے اپیل ہوگی کہ وہ اپنی نوکریاں چھوڑ دیں ورنہ وہ بھی فوج کی طرح ان کا ہدف ہوں گے اور جو قبائلی اپنی گاڑیوں میں فوج کو پانی وغیرہ فراہم کرتے ہیں ان پر بھی پابندی ہوگی۔

عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے واقع نے واضع کر دیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ مسلمانوں اور بچوں کا خاتمہ چاہتی ہے۔

تاہم شمالی وزیرستان کے طالبان کی یہ بات کہ اس جنگ میں جنوبی وزیرستان کے قبائل بھی ان کے ساتھ ہوں گے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

تاہم ترجمان نے واضع کیا کہ میران شاہ میں کل کے مبینہ خودکش حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور یہ انہیں بدنام کرنے کی ایک کوشش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کارروائیوں کا اعلان پندرہ کے بعد کریں گے۔

 حاجی عمرامریکی نقصان زیادہ
طالبان کے مطابق امریکی نقصان چھپاتے ہیں۔
’عام سی ڈی پر نہیں‘
’جہادی مواد پر مشتمل سی ڈیز پر پابندی ہے‘
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
سیاہ شیشوں پر تنازع
وزیرستان: مقامی و غیر ملکیوں میں کشیدگی
اسی بارے میں
شمالی وزیرستان، تین ہلاک
13 July, 2007 | پاکستان
ٹانک کشیدہ، فوج تعینات
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد