عمر آفریدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کابل |  |
 | | | وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور افغان جرگہ کمیشن کے ترجمان اور پارلیمان امور کے وزیر فاوق وردک |
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمعرات سے سنیچر تک منعقد ہونے والے جرگے میں توقع ہے کہ لگ بھگ چھ سو قبائلی مشران اور سیاسی رہنما شرکت کریں گے۔ ابتدائی طور پاکستان اور افغانستان کے مابین سات سو افراد کی شرکت پر اتفاق ہوا تھا۔ مگر پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مندوبین نے عین وقت پر جرگے میں شرکت سے معذوری ظاہر کر دی اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے بھی اس جرگے میں شرکت سے انکار کردیا ہے جبکہ بعض دانشور اور صحافی بھی اب اس میں شریک نہیں ہو رہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ اور پاکستان کے جرگہ کمیشن کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بعض مندوبین کی عدم شرکت کا سبب پاکستانی طالبان کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں بتایا ہے۔  |  یہ شاید پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ آباد پختون قبائل کے نمائندے اتنی بڑی تعداد میں یکجا ہو رہے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت نے جرگہ اراکین میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا ہے جو چند برس پہلے تک روس نواز اور پختون قوم پرست کہلاتے تھے اور مرکزی حکومت ان پر یا ان کے پیشرؤں پر پاکستان مخالف اور اس وقت کی افغان حکومت کے ساتھ ’عظیم تر پختونستان‘ کے لیے سازباز کرنے کے الزامات لگاتی تھی۔  |
یہ شاید پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ آباد پختون قبائل کے نمائندے اتنی بڑی تعداد میں یکجا ہو رہے ہیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت نے جرگہ اراکین میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا ہے جو چند برس پہلے تک روس نواز اور پختون قوم پرست کہلاتے تھے اور مرکزی حکومت ان پر یا ان کے پیشرؤں پر پاکستان مخالف اور اس وقت کی افغان حکومت کے ساتھ ’عظیم تر پختونستان‘ کے لیے سازباز کرنے کے الزامات لگاتی تھی۔ دوسری جانب پاکستان کے جو مذہبی حلقے انیس سو اناسی میں افغان حکومت کی دعوت پر آئی روسی فوج کے خلاف افغان مجاہدین اور امریکہ کے ہمنوا تھے اب اس پاک افغان امن جرگے کی افادیت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں، حالانکہ اس جرگے کی تجویز امریکی صدر جارج بش کی موجودگی میں افغان صدر حامد کرزئی نے واشنگٹن میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے سامنے گزشتہ ستمبر میں رکھی تھی۔ جرگے کے طے شدہ پروگرام کے مطابق دونوں ملکوں کے صدور افتتاحی تقریب سے خطاب کریں گے جس کے بعد دونوں جانب سے دس دس مندوبین کو خطاب کی دعوت دی جائے گی اور پھر شرکاء کو سات ورکنگ گروپس میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ ورکنگ گروپس شدت پسندی کو روکنے کے لیے مختلف تجاویز مرتب کریں گی جن کی توثیق جرگے کے شرکاء مل کر کریں گے۔ اس کے بعد ان تجاویز پر عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ یہ سب کاغذ پر شاید بھلا لگے مگر عملی طور خاصا دشوار گزار کام ہے۔ اگرچہ افغان جرگہ کمیشن کے ترجمان اور پارلیمان امور کے وزیر فاوق وردک کا کہنا ہے کہ جرگے کا فیصلہ حکومت کے لیے قبول ہوگا، مگر نہ تو جرگے کے اختیار (جسے پشتو زبان میں واک کہتے ہیں) کے بارے میں کوئی وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد کی ضمانت کون دے گا۔  |  مشترکہ کمیشن کی تشکیل ایک خوش کن خیال ہے مگر اس کے ارکان تو اس معاملے کے فریقین ہی ہوں گے۔ پھر کسی متنازعہ بات پر کیسے اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا؟ پختون جرگے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مگر کسی تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے فیصلوں کا کوئی ضامن بھی مقرر کیا جاتا ہے جو بوقت ضرورت خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔  |
مشترکہ کمیشن کی تشکیل ایک خوش کن خیال ہے مگر اس کے ارکان تو اس معاملے کے فریقین ہی ہوں گے۔ پھر کسی متنازعہ بات پر کیسے اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا؟ پختون جرگے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مگر کسی تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے فیصلوں کا کوئی ضامن بھی مقرر کیا جاتا ہے جو بوقت ضرورت خلاف ورزی کرنے والے پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔پھر افغانستان اور پاکستان میں جن لوگوں پر شدت پسندی کا الزام لگایا جاتا ہے وہ یا ان کے حامی جرگے میں شریک نہیں ہیں۔ ان کی جانب سے کون ضامن بنے گا؟ حالیہ دنوں میں طالبان کے خلاف نیٹو اور امریکی فوج کی کارروائیوں میں مبینہ طور پر کئی سو عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں، یہاں تک کہ افغان صدر حامد کرزئی کو بھی کہنا پڑا کہ غیرملکی فوجیں افغان فوج اور پولیس کی مشاورت سے فوجی آپریشن کریں تاکہ عام افغان شہریوں اور طالبان جنگجوؤں میں تمیز کی جاسکے۔ ظاہر ہے کہ جن علاقوں میں یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہاں کے مندوبین ایک خاص ذہن لے کر جرگے میں شریک ہوں گے۔ ایسے میں اگر کوئی ایسی تجویز بھی آگئی جو افغان یا پاکستانی حکومت کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث ہو تو کیا دونوں یا کوئی ایک حکومت اس تجویز پر کان دھرے گی؟ یا اگر جرگہ اتفاق رائے سے طالبان جنگجوؤں سے کہہ بھی دے کہ وہ شدت پسندی چھوڑ دیں تو کیا وہ لوگ جو پچھلے چھ برس سے برسرپیکار ہیں سب چھوڑ چھاڑ دیں گے، یہ اور ایسے کئی سوالات ہیں جن کا جواب جرگے کے بعد ہی مل سکے گا۔ |