BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 August, 2007, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف جرگے میں نہیں جائیں گے

پاکستان اور افغانستان کے صدور
پاکستان اور افغانستان کے صدور نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرنا تھا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کابل میں ہونے والے پاک افغان گرینڈ جرگہ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے افغانستان کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

جمعرات سے شروع ہونے والے اس جرگے کا مقصد طالبان اور القاعدہ سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانا ہے۔

اس جرگے میں پاکستان اور افغانستان کے صدور کی شرکت متوقع تھی تاہم پاکستانی صدر نے اپنے افغان ہم منصب کو بدھ کو بذریعہ فون اپنی عدم شرکت سے مطلع کیا۔ بدھ کے روز وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے افغان صدر حامد کرزئی کو بتایا کہ وہ اسلام آباد میں مصروفیات کی وجہ سے پاک افغان گرینڈ جرگہ میں شرکت نہیں کر سکتے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق صدر مشرف نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ حکومت پاکستان جرگہ کی کامیابی کے لیے تمام کوششیں کرے گی جبکہ حامد کرزئی نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کو مستقبل قریب میں افغانستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

اب جرگے میں شرکت کرنے والے پاکستانی وفد کی سربراہی وزیراعظم شوکت عزیز کریں گے اور وہی افتتاحی اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔

اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مندوبین نے بھی عین وقت پر جرگے میں شرکت سے معذوری ظاہر کر چکے ہیں اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان بھی اس جرگے میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ اور پاکستان کے جرگہ کمیشن کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے بعض مندوبین کی عدم شرکت کا سبب پاکستانی طالبان کی جانب سے ملنے والی دھمکیاں بتایا ہے۔

جمعرات سے سنیچر تک منعقد ہونے والے جرگے میں توقع ہے کہ لگ بھگ چھ سو قبائلی مشران اور سیاسی رہنما شرکت کریں گے۔ ابتدائی طور پاکستان اور افغانستان کے مابین سات سو افراد کی شرکت پر اتفاق ہوا تھا۔

جرگے کے طے شدہ پروگرام کے مطابق افتتاحی خطاب کے بعد دونوں جانب سے دس دس مندوبین کو خطاب کی دعوت دی جائے گی اور پھر شرکاء کو سات ورکنگ گروپس میں تقسیم کر دیا جائے گا۔

یہ ورکنگ گروپس شدت پسندی کو روکنے کے لیے مختلف تجاویز مرتب کریں گی جن کی توثیق جرگے کے شرکاء مل کر کریں گے۔ اس کے بعد ان تجاویز پر عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

جرگے کی تجویز
کرزئی نےپختونوں کے جرگے کی تجویز دی ہے۔
صبغت اللہ مجددیکئی سوال، کئی جواب
لویا جرگہ میں بہت سے سوال جواب طلب ہیں۔
لویا جرگہافغان آئین اور امنگیں
کیا لویا جرگہ محض رسمی کارروائی ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد