بادشاہت گئی تو امن بھی اٹھ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حالیہ عدم استحکام اور لڑائی جھگڑوں کا آغاز سنہ 1973 میں اس وقت کے بادشاہ ظاہر شاہ کے خلاف بغاوت سے ہوا تھا۔ ظاہر شاہ اس وقت آنکھ کے آپریشن کے لیے اٹلی میں تھے کہ ان کے کزن محمد داؤد نے ایک محلاتی بغاوت میں ان کا تختہ الٹ دیا۔ اس بغاوت کے بعد محمد داؤد نے افغانستان کو ایک جمہوریہ اور خود کو صدر بنانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے اپنی قوت کو بڑھاوا دینے کے لیے بائیں بازو کے خیالات کے حامیوں کی حمایت پر انحصار کیا اور پنپتی ہوئی اسلامی تحریک کچل ڈالی۔ تاہم اپنے دورِ اقتدار کے آخر میں محمد داؤد نے اہم عہدوں سے اپنے بائیں بازو کے حامیوں کو ہٹانے اور افغانستان سے سویت اثر کو کم کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش کا نتیجہ اپریل انیس سو اٹھہتر میں سوویت بغاوت کی صورت میں نکلا جس کے نتیجے میں ظاہر شاہ اور ان کے خاندان کے لگاتار دو سو سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ صدر داؤد اور ان کے اہلِ خانہ کو گولی مار دی گئی اور نور محمد تاراکی نے ملک کی پہلی کمیونسٹ حکومت کی کمان سنبھالی تاہم اس حکومت میں تاراکی کے مخالف حافظ اللہ امین کے حصے میں وزیراعظم کا عہدہ آیا۔ اکتوبر 1979 میں تاراکی کو خفیہ طور پر قتل کر دیا گیا اور امین نئے صدر بن گئے۔
حافظ امین پر جنہیں ایک خود مختار اور قوم پرست رہنما سمجھا جاتا تھا، ایک ظالم حکمران ثابت ہوئے اور ان پر ہزاروں افغان باشندوں کے قتل کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس وقت کی روسی حکومت بھی انہیں افغانستان میں ایک روس نواز کمیونسٹ حکومت کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔ دسمبر 1979 میں حالات نے ایک بار پھر پلٹا کھایا، حافظ امین کو قتل کر دیا گیا اور روسی فوجوں نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ چیکوسلاواکیہ میں افغان سفیر اور روسی حکومت کے لیے قابلِ قبول ببرک کارمل کو بلا کر افغانستان کا نیا صدر بنا دیا گیا۔ افغانستان پر سویت فوج کا دس سالہ قبضہ ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوا اور اس دوران دس لاکھ کے قریب افغان مارے گئے جبکہ لاکھوں ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اس سویت قبضے کے خلاف افغان مجاہدین نے علم ِمزاحمت بلند کیا اور اس حوالے سے انہیں امریکہ کی درپردہ مدد حال رہی۔ قریباً دس برس بعد آخرِ کار روسی فوج نے افغانستان چھوڑ دیا اور نجیب اللہ نے زمامِ اقتدار سنبھال لی۔ نجیب اللہ کی حکومت روسی فوج کے انخلاء کے تین برس بعد تک قائم رہی۔ سنہ 1992 میں مجاہدین نے کابل پر قبضہ کر لیا اور کچھ عرصے تک عبوری انظامات کے بعد پروفیسر برہان الدین ربانی کو اسلامی جمہوریہ افغانستان کو صدر بنا دیا گیا۔
تاہم مجاہدین کی یہ فتح جلد ہی خانہ جنگی میں بدل گئی اور مختلف مجاہدین گروہ اقتدار کے لیے آپس میں نبرد آزما ہوگئے۔ سویت قبضے کے دوران جہاں افغانستان کے دیہی علاقہ جات کو تباہی کا سامنا کرنا پرا تھا وہیں مجاہدین کی اس لڑائی میں شہر میدانِ جنگ بنے۔ یہ شہر خصوصاً دارالحکومت کابل کی نصف عمارتیں تباہ ہوگئیں، لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ملک انارکی کی دلدل میں مزید دھنستا چلا گیا۔ یہ 1994 کے آخر کی بات ہے کہ قندھار میں طالبان تحریک نے زور پکڑا۔ ابتداء میں انہیں پشتون اکثریتی علاقے میں بہت کم لڑائی کے بعد فتوحات نصیب ہوئیں لیکن جیسے جیسے انہوں نے غیر پشتون علاقوں میں کارروائی کی انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تاہم ایک وقت ایسا آیا کہ طالبان افغانستان کے نوّے فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 1996 میں طالبان نے دارالحکومت کابل پر بھی قبضہ کر لیا اور اس کے بعد اقوامِ عالم نے ان کے طرزِ حکومت، شدت پسند اسلامی نظریات اور معاشرے میں عورتوں کے مقام پر ان کے خیالات کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔
جیسے جیسے طالبان کا اثر پھیلا مغربی ممالک کی جانب سے طالبان حکومت پر پوست کی کاشت پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ بڑھتا گیا جبکہ امریکہ نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسامہ اس وقت طالبان کے’مہمان‘ کے طور پر افغانستان میں موجود تھے۔ گیارہ ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے اسامہ بن لادن کو اس کارروائی کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور اسے جواز بناتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر فضائی حملے شروع کر دیے۔ یہ کارروائی طالبان مخالف قوتوں کے لیے نہایت مددگار ثابت ہوئی اور انہوں نے پہلے نومبر میں کابل پر قبضہ کیا اور پھر دسمبر کے اوائل میں طالبان کا گڑھ قندھار بھی ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ پانچ دسمبر 2001 کو افغان گروپ جرمنی کے شہر بون میں ایک عبوری حکومت کے قیام پر متفق ہوئے جس کا سربراہ حامد کرزئی کو چنا گیا۔ بون کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں کے نتیجے میں سنہ 2004 کے موسمِ گرما میں افغانستان میں انتخابات ہوئے۔
جون سنہ 2002 ایک لویہ جرگہ میں حامد کرزئی کو افغانستان کا عبوری صدر منتخب کیا گیا جبکہ ایک اور لویہ جرگے نے ملک کے نئے آئین کی توثیق کر دی۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے حامد کرزئی پر سنہ 2002 میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ جون سنہ 2007 میں بھی ان کے ہیلی کاپٹر پر راکٹ حملہ ہوا تاہم وہ پھر محفوظ رہے۔ اس وقت حال یہ ہے کہ حامد کرزئی کی حکومت کی عملداری کابل تک ہی دکھائی دیتی ہے اور ملک کے دیگر علاقوں میں طالبان نے پھر زور پکڑنا شروع کر دیا ہے اور گزشتہ برس بھی مختلف واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ | اسی بارے میں افغانستان: ظاہر شاہ انتقال کر گئے23 July, 2007 | آس پاس ’افغانستان: مغوی جرمن شہری قتل‘21 July, 2007 | آس پاس افغانستان: جنوبی کوریائی اغوا20 July, 2007 | آس پاس ’طالبان جانوں کی قدر نہیں کرتے‘11 July, 2007 | آس پاس افغانستان: 70 سے زائد ہلاکتیں07 July, 2007 | آس پاس ’مرنے والے شاید شہری ہی تھے‘01 July, 2007 | آس پاس افغانستان: اجتماعی قبر کا انکشاف06 July, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||