افغانستان: اجتماعی قبر کا انکشاف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں کابل کے قریب ایک اجتماعی قبر کا انکشاف ہوا ہے جس میں بڑی تعداد میں ہلاک کیے جانے والے افراد کی باقیات موجود ہیں۔ اس اجتماعی قبر کا تعلق انیس سو اسی کے عشرے سے ہے جب افغانستان پر سوویت یونین کا قبضہ تھا۔ یہ قبر ایک فوجی کامپلیکس میں پائی گئی۔ باقیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کئی افراد کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے، آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئی تھیں یا منہ میں کچھ ٹھُوس دیا گیا تھا، جبکہ کچھ ہڈیوں پر گولیوں کے نشانات ہیں۔ دارالحکومت کابل میں ایک سینیئر پولیس اہلکار علی شاہ پکتیوال نے بتایا کہ اس طرح کے پندرہ کمرے کھولے گئے ہیں اور سینکڑوں لاشیں پائی گئی ہیں۔ اس اجتماعی قبر کا انکشاف تب ہوا جب ایک ستر سالہ افغان جو روسیوں کے لیے کام کرتا تھا حال ہی میں افغانستان واپس آیا۔ روس نے فوری طور پر اس انکشاف پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ علی شاہ پکتیوال نے بتایا کہ زیر زمین مزید کمروں کے برآمد ہونے کی امید ہے کیونکہ یہ فوجی کامپلیکس کافی بڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان واپس آنے والے ستر سالہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ اس نے سوویت یونین کے دور میں اس کامپلیکس میں فائرنگ اسکواڈ کے ہاتھوں لوگوں کو ہلاک کیے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ یہ زیر زمین جیل اور اجتماعی قبر افغانستان میں ملنے والا اس طرح کا دوسرا زیر زمین کیمپ ہے۔ سن 2006 میں پلُ چرخی کے قریب نیٹو فوجیوں نے ایک اور اجتماعی قبر دریافت کی تھی۔ | اسی بارے میں ’ تین لاکھ عراقیوں کی اجتماعی قبریں‘09 November, 2003 | آس پاس عراق: اجتماعی قبر میں سینکڑوں دفن01 May, 2005 | آس پاس اجتماعی قبر برآمد، مزاحمت جاری 14 August, 2005 | آس پاس لبنان: اجتماعی قبر سے لاشیں برآمد04 December, 2005 | آس پاس بھارتی گجرات میں اجتماعی قبر27 December, 2005 | آس پاس کربلا میں اجتماعی قبر دریافت27 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||