بھارتی گجرات میں اجتماعی قبر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست گجرات میں مقامی لوگوں کوایک اجتماعی قبر ملی ہے جس میں انسانی نعشوں کے بیشتر ڈھانچے موجود تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی قبر پنچ محل ضلع کے پنڈرواڈا گاؤں کے ان مسلمانوں کی ہے جنہیں دو ہزاردو کے ہندو مسلم فسادات کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ اجتماعی قبر پنڈرواڈا گاؤں کے دریا کے کنارے سے ملی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ یہ قبردو ہزاردو کے فسادات میں مرنے والوں کی ہے یا پھر کسی تاریخی قبرستان کا حصہ ہے۔تاہم مزیدتحقیقات کے لیے پولیس کی ٹیموں کواجتماعی قبر کے مقام پر بھیج دیاگیاہے۔ بھارتی ریاست گجرات کے ہندو مسلم فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے جن میں سےاکثریت مسلمانوں کی تھی۔بھارت میں انسانی حقوق کی کارکن تیستا سیتلواد کا کہنا ہے کہ دو ہزار دو میں قتل عام کرنے والے اکثرملزموں کو شواہد کی کمی کی وجہ سے بری کر دیا گیاتھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی انسانی حقوق کی تنظیمیں بدھ کوگجرات ہائی کورٹ سے درخواست کریں گی کہ وہ اجتماعی قبر سے ملنے والے انسانی ڈھانچوں کے فورینزک ٹیسٹ یا کیمیاوی معائنے کا حکم جاری کرے۔ | اسی بارے میں ’گجرات پر کھل کر بات ہوگی‘18 June, 2004 | انڈیا بیکری کیس، دوبارہ سماعت12 April, 2004 | انڈیا گجرات مقدمات: پھر سےجائزہ کاحکم17 August, 2004 | انڈیا ’مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا‘ 24 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||