افغانستان: جنوبی کوریائی اغوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی جنوبی کوریائی باشندے اغوا کر لیے ہیں۔ سِیول میں حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ اغوا ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ حکام نے کہا کہ کوریائی باشندوں کو جس وقت اغوا کیا گیا وہ بس میں قندھار سے کابل سفر کر رہے تھے۔ کابل سے بدھ کے روز اغوا ہونے والے دو جرمنوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔ جنوبی کوریا کی ایک خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق اغوا ہونے والے کوریائی نوجوان عیسائی ایوینجلسٹ تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزنی صوبے میں ضلع کاراباغ کے گورنر نے اس واقعے کی تصدیق کی لیکن ان کے مطابق اغوا ہونے افراد کی تعداد سولہ ہے۔ گورنر نے کہا کہ انہیں اس علاقے میں جنوبی کوریائی باشندوں کی موجودگی کی اطلاع نہیں تھی۔ گورنر نے کہا کہ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے پہلے بس کے ڈرائیور کو بھی اغوا کیا تھا جسے بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ | اسی بارے میں ’افغان صحافی کو قتل کردیا گیا‘08 April, 2007 | آس پاس طالبان: قتل، بارہ سالہ بچے کااستعمال21 April, 2007 | آس پاس جانسٹن کے لیے ایمنسٹی ایوارڈ 05 July, 2007 | آس پاس میرین پرل کا بینک کے خلاف مقدمہ19 July, 2007 | آس پاس کرزئی لاش دینے پر رضامند ہو گئے05 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||